- الإعلانات -

کوروناوباء کے حوالے سے قوم کے لئے خوشخبری

پاکستان دنیابھرکے ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں پر کورونا پرقابوپالیاگیا ہے اور اس وقت تک گزشتہ دو دنوں کے دوران سب سے کم اموات کورونا کی وجہ سے رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس وباء سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی ماشاء اللہ بہت زیادہ ہے اس تمام تر کا سہرا وزیراعظم پاکستان کی بہترین اورکامیاب پالیسی جوکہ سمارٹ لاک ڈاءون ہے کی وجہ سے ملی ہے ۔ اس سمارٹ لاک ڈاءون کی پالیسی کو دنیابھرنے خراج تحسین پیش کیا ۔ گوکہ اس میں عوام الناس کی جانب سے تعاون بھی شامل تھا لیکن اگر دوسری جانب دیکھاجائے تو متعدد علاقوں میں ایس اوپیزپرکوئی عمل نہیں کیاگیا جیسا کہ آج کل ملک بھر میں منعقدہ مختلف مویشی منڈیوں میں دیکھنے میں آرہاہے اسی وجہ سے اب حکومت باربار عوام کو یہ باورکرانے کی کوشش کررہی ہے کہ اگر عیدالاضحی کے موقع پرایس اوپیزپرعمل نہ کیاگیاتو خدانخواستہ کورونا ایک مرتبہ پھر سراٹھاسکتاہے ۔ ادھردوسری جانب حکومت پنجاب نے آئندہ آٹھ دنوں کے لئے سمارٹ لاک ڈاءون کافیصلہ کیاہے وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدہ نے کہاہے کہ آٹھ دنوں کے بعد انشاء اللہ بہترنتاءج برآمد ہوں گے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں ہرصورت احتیاطی تدابیرپرعمل کرناچاہیے ۔ وفاقی دارالحکومت کی طرح ملک کے دیگرصوبوں میں بھی کوروناکی صورتحال قابو میں دکھائی دیتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاکہ عوام نے عیدالاضحی اور محرم الحرام کے دوران احتیاط کرلی تو اس کے بعد زندگی آسان ہوجائے گی اور ہ میں سیاحت اور ریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت دینے کا موقع ملے گا اور اچھے نتاءج کی بنیاد پر ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے ۔ عیدالاضحی اور محرم الحرام میں احتیاط نہ کی تو کرونا کیسز میں اضافہ ہو جائے گا ۔ ہسپتالوں پر دباءو میں کمی آگئی ہے اور 3 ماہ کے دوران گزشتہ روز کرونا سے سب سے کم اموات ہوئیں ، آگے بھی چیلنجز ہیں احتیاط کرنی ہے ۔ ہمارے حالات چین سے بھی مختلف ہیں تو پاکستان میں حکمت عملی یورپ اور چین سے بالکل مختلف تھی، ہم پہلی حکومت تھے جس نے سمارٹ لاک ڈاءون کی بات کی تاہم کچی آبادیوں میں لاک ڈاءون لگانا بہت مشکل ہے ۔ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں کرونا وبا پر قابو پایا جا رہاہے، اللہ کا کرم ہے پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور دنیا آج مان رہی ہے کہ پوری طرح لاک ڈاءون ناممکن ہے ۔ تعمیرات کا شعبہ کھولنے پر تنقید ہوئی کہ اس سے اموات بڑھیں گی لیکن ہم نے خطرہ لے کر فیصلہ کیا کہ لوگوں کو بھوک سے بچانا ہے ۔ حکومت نے جو بھی اقدامات کئے ہیں ان کی وجہ سے آج پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کرونا وائرس پر قابو پالیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد جون کے وسط میں یومیہ تقریبا چھ ہزارآٹھ سوتھی جو تیزی سے کم ہوکرگزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران بارہ سو نو رہ گئی ہے ۔ وزیرِاعظم عمران خان نے ملک میں آٹا اور چینی کی وافر اور مناسب قیمت پر دستیابی کو یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو ملک بھر میں یکساں سطح پر لانے کےلئے باہمی مشاورت سے مشترکہ لاءحہ عمل اختیار کیا جائے، شوگر ملوں کی جانب سے کرشنگ کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، ضرورت پڑنے پر چینی کی درآمد کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی اور انتظامات مکمل کیے جائیں ۔ دوسری جانب عید سے قبل پنجاب بھر کی مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لاہور میں انسداد کرونا کابینہ کمیٹی کا ایوان وزیراعلیٰ میں اجلاس ہوا جس میں عیدالاضحی کے لیے کرونا کا پھیلاو روکنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ 27جولائی سے صوبے میں سخت لاک ڈان کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اب پنجاب بھر کی مارکیٹیں 5 اگست تک بند رہیں گی جبکہ عید الفطر والی ایس او پیز کا نفاذ عیدالاضحی پر بھی ہو گا ۔ ادھرنیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا خصوصی اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت پشاور میں ہوا ۔ اجلاس میں عید قربان کے حوالے سے مویشی منڈیوں کیلئے ایس او پیز اور تجاویز پر بات کی گئی ۔ عوام ایس او پیز پر عمل کریں اور احتیاط کے ساتھ عید سادگی سے منائیں ۔ کورونا پھیلاءو روکنے میں صوبائی حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ملک میں وبا کے پھیلاو میں واضح کمی نظر آرہی ہے اور اموات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جو محنت کی گئی اس کا نتیجہ نظر آرہا ہے لیکن وبا ء ابھی تک پورے پاکستان میں موجود ہے ۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس طرح قربانی کریں کہ وبا کے پھیلاءو میں تیزی نہ آئے ۔

پاک بنگلہ دیش تعلقات میں اہم پیشرفت

پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کے باعث آج بھارت خطے میں تنہاہوگیاہے مودی کی دہشت گردانہ پالیسیاں دنیابھرکے سامنے عیاں ہوچکی ہے کوئی بھی پڑوسی ملک اس کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ،آج اسی وجہ سے بنگلہ دیش بھی اس سے نالاں ہے ۔ جنوبی ایشیا میں سفارتی تعلقات کا توازن بدل رہا ہے، اپنی متعصبانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت خطے میں تنہا ہونے لگا ۔ ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن فعال ہونا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات بحالی میں اہم پیش رفت ہے ۔ گزشتہ روز پاک بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کیلئے بہت بڑی پیش رفت سامنے ;200;ئی ، بنگلہ دیش نے 15 سال بعد پاکستان سے زرعی اجناس کی خریداری شروع کر دی، 3 برس کے تعطل کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن مکمل فعال ہوگیا ۔ وزیراعظم عمران خان کا بنگلہ دیشی ہم منصب شیخ حسینہ واجد سے حالیہ رابطہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ اسلام ;200;باد اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی کم کرانے میں چین کا اہم کردار ہے ۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن مکمل طور پر فعال نہیں رہا تھا ۔ تاہم اب دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر جمی برف ;200;ہستہ ;200;ہستہ پگھل رہی ہے ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری سے بھارت بہت بری طرح بوکھلا گیا ہے ۔ بھارت کی مودی سرکار اس تمام صورتحال سے شدید پریشان ہے ۔ جبکہ بھارت میں اپوزیشن پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات میں بہتری کو مودی سرکار اور بھارت کی سفارتی محاذ پر بڑی شکست قرار دے رہی ہے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے رابطہ کیا اور حالیہ سیلاب کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کے ساتھ باہمی اعتماد ، احترام اور برابری کی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے سارک کو فعال بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری سے بھارت کی نیندیں اڑ گئی ہیں ۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم نے بھارتی ہائی کمشنر کی کئی درخواستوں کے باوجود ملنے سے انکار کر دیا ۔