- الإعلانات -

حال عمران جیسا !

اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں استحکام کےلئے ہر انتظامی اقدامات اٹھایا جائے،ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مقدمات درج کر کے سٹاک ضبط کیا جائے وزیر اعلی بزدار ۔ ;200;ل پارٹیز کانفرنس میں نئے انتخابات کامطالبہ کرینگے ۔ ن لیگ عدالت! میں کیس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ۔ صرف پانچ ارب کی صفر بتا دیں ۔ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین ;46;مہنگائی نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق!چند شخصیات نے عوام کو رام کرنے کےلئے اپنے اپنے بیانات اخبارات میں داغے ہیں ;46;وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار میں عمران خان نے کیا خوبی دیکھی ہے کہ عمران خان جیسا خودسر انسان عثمان بزدارجیسے غیر معروف;46;غیر متحرک اور غیر مقبول شخص کو پنجاب کی بیورو کریسی کو لگام دینے اور عوام کوسکھ دینے کےلئے انتخاب کیا ہے،عثمان بزدار ضرور کچھ خوبیوں کا مالک ہوگا مگر خرابیوں اور خامیوں کو خوبیوں سے تولا جائے تو خرابیاں بھاری ہونگی،عمران خان کے مشیر عمران ہی جانتا ہوگا، عمران کے ووٹر تو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے اس غلط فیصلے سے عمران خان کی پنجاب میں گرفت ڈھیلی ہوئی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب جس پر عمران خان جیسے ٹیڑھے اور خود سر وزیراعظم کا دست شفقت ہو اور وہ وزیراعلی پنجاب کی بیوروکریسی پر بھی گرفت مضبوط نہ کر سکے مہنگائی کوبھی کنٹرول نہ کر سکے ،کرپشن پر بھی قابو نہ پاسکے ایسا غیر ضروری شخص کو وزیراعلی پنجاب ہونے کا کسی صورت حقدار نہ ہیں ;46;چینی ;200;ٹا گندم کی قیمتوں کا بحران سبزی اور فروٹ کی قیمتوں پر قابو نہ پا سکنے والا پولیس اور مختلف محکموں میں ہونے والی کھلے عام کرپشن اور رشوت کو کنٹرول نہ کرسکنے والا عثمان بزدار عوام کو قابل قبول نہ ہے صرف دکھاوے اور بیانات پر اکتفا کرنے والا عوام اور پنجاب کی ضرورت نہ ہے!ادھر سابق حکمران جماعت نواز لیگ نے بھی اخباری بیان داغا ہے کہ ہم ;200;ئندہ ہونے والی ;200;ل پارٹیز کانفرنس میں شفاف انتخابات کا مطالبہ کرینگے اپوزیشن کے دونوں گروہ نواز شریف اور زرداری لیگ موجودہ حکومت کے انتخاب کو انتخاب تسلیم نہیں کرتے;46; ان کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت کا انتخاب شفاف نہیں تھا بلکہ ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے !مزے کی بات ہے کہ اپوزیشن چوروں کی نشاندہی بھی نہیں کرتی ،چوروں کو نامزد بھی نہیں کرتی ! بلکہ اپوزیشن کی دونوں جماعتیں یہ بھی کلیئر نہیں کرتی کہ مینڈیٹ کس جماعت کا چرایا گیا ہے;238; کیوں چرایا گیا ہے ;238;اور چوروں نے پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ چوری کرکے کیوں جتوایا ہے ;238; کیا دونوں پارٹیاں نون لیگ اور پیپلز پارٹی اس بات پر متفق ہیں کہ کس جماعت کا مینڈیٹ چوری ہواہے;238; بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ;200;ل پارٹیز کانفرنس ہوتی بھی ہے کہ نہیں !کیونکہ اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ کے موجودہ سربراہ میاں شہباز شریف بوجہ علالت وسیاست اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت بھی کر سکتے ہیں اور حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب اس کانفرنس کو بہرحال اور بہت جلد منعقد کرا کر موجودہ حکومت کوختم کرکے فوری الیکشن کے بعد اقتدار میں اپنے ;200;پ کو لا کر قوم کی خدمت کےلئے پریشان ہیں ۔ ادھر مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سینئر صحافیوں نےنیب کی مونس الٰہی وغیرہ کے خلاف کارروائی پر تبصرہ کر ایا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ بیس پچیس سال پرانی کہانی ہے اور انہوں نے کوئی قرضہ معاف نہ کر ایا ہے اور ان کے خاندان کو خواہ مخوا پریشان کیا جا رہا ہے ۔ یہ کیس پہلے کئی مرتبہ ختم ہوچکا ہے چوہدری صاحب اگر یہ کیس جھوٹا وفرضی ہے تو خوامخواہ پریشان نہ ہوں ،جھوٹ کے پاں نہیں ہوتے! ;200;پ پھر بے قصور اور بے گناہ ہو جائیں گے!اور ;200;پ کی بریت پر ہو جائے گی اور بریت پر;200;پ عوام سے داد لیں گے، چودھری صاحب یہ کیس بنایا کس نے تھا;238;یہ نیب جنہوں نے بنائی تھی وہ ;200;ج کل نیب کا خاتمہ اور نیب کا جس کو متفقہ چیئرمین بنایا تھا اس چیئرمین کو ہٹانے کےلئے ٹی وی چینل پر رو رہے ہیں !نیب کیا ہے ;238;نیب بنائی کیوں گئی تھی;238; نیب اورچیئرمین نیب کو بنانے والے ;200;ج کل نیب کے خاتمے کےلئے کیوں پریشان ہیں ;238;چوہدری صاحب ;200;پ نے نہ قرضے لئے ہیں نہ معاف کرائے ہیں مگر یہ تو بتائیں کہ ;200;پ حکومت میں ہوتے ہوئے جھوٹے مقدمات سے کیوں پریشان ہیں ;238;عوام ;200;پ سے پوچھ سکتے ہیں کہ ;200;پ اور میاں برادران یعنی مسلم لیگ ق ن کی دولت کہاں سے ;200;تی ہے ;238; اور ;200;پ ارب پتی کیسے بنے ;238;کیونکہ ;200;پ سب خدمت ملک اور قوم کرتے کرتے ارب پتی بن گئے مگرقوم اور ملک اربوں کے مقروض ہو گئے ۔ ادھر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے مہنگائی کیخلاف ;200;واز اٹھاتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ عوام کو دن کو تارے نظر ;200;نے لگے ہیں ;46;مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے اور مہنگائی کرنےوالے افسران اجلاسوں سے فارغ نہیں ہوتے،لوگ خود کشیاں کرنے لگے ہیں ! امیر صاحب اس مہنگائی کی اصل ذمہ دار جہاں حکومت ہے وہیں مہنگائی کو کنٹرول کرنےوالی بیورو کریسی ہوتی ہے ۔ اصل اختیارات ان کے پاس ہوتے ہیں اور بیورو کریسی کسی بھی عوامی حکومت کونہیں چلنے دیتی، موجودہ حکمران انسان اور عوام دوست ضرور ہیں مگریہ بیورو کریسی کی بدمعاشی سے ;200;گاہ نہیں ہیں ۔ ;200;پ اقتدارکی کوشش جاری رکھیں اور اقتدار میسر ;200;ئے تو مہنگائی کی اصل ذمہ دار بیورو کریسی پرکنٹرول رکھنا ورنہ ;200;پ کا بھی حال عمران خان جیسا ہوگا ۔