- الإعلانات -

مافیازکے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت

سب سے زیادہ زرعی پیدوار ملک ہونے کے باوجود گندم، چینی اور آٹے کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے ۔ اوپن مارکیٹ میں چینی سرکاری ریٹ سے پندرہ سے بیس اور بیس کلو ;200;ٹے کا تھیلا ایک سو نوے سے دو سو بیس روپے تک مہنگا مل رہا ہے ۔ حکومتی دعوے اور احکامات بے اثر ثابت ہو رہے ہیں اور اکثر دکانوں پر ;200;ٹا اور چینی غائب ہیں ۔ اگر کہیں موجود ہے تو دکاندار منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں ۔ انتظامیہ نے چینی کا ریٹ ستر روپے کلو مقرر کر رکھا ہے، مگر بازاروں میں پچاسی سے نوے روپے کلو فروخت ہو رہی ہے ۔ بیس کلو ;200;ٹے کا تھیلا ;200;ٹھ سو ساٹھ روپے کے بجائے ایک ہزار پچاس سے ایک ہزار ستر روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے ۔ حقیقت میں اس وقت مافیاکولگام ڈالنے کی ضرورت ہے جب تک مافیاکے گردگھیراتنگ نہیں کیاجائے گامہنگائی ہوتی رہے گی اورغریب عوام پستے رہیں گے ۔ حکومتی اجلاسوں میں فیصلے تو کئے جاتے ہیں مگر اس پرعملدرآمدہوتانظرنہیں آتا ۔ جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں توملک بھر میں مصنوعی قلت پیدا کردی گئی، ملک کے تقریبا ہر چھوٹے بڑے شہر میں اکثرپیٹرول پمپس بند ہونے سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی ذمہ دار ;200;ئل کمپنیوں کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی پر 6 بڑی آئل کمپنیوں پر 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے عائد کئے ۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جن کمپنیوں پر جرمانے عائد کئے گئے ان میں شیل پاکستان، پوما انرجی، اٹک پیٹرولیم، ہیسکول پیٹرولیم، ٹوٹل پارکو پاکستان اور گیس اینڈ آئل لمیٹڈ شامل ہیں ۔ اوگرا کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل کی سپلائی نہیں کررہی تھیں ، جس کے باعث ان پر جرمانے عائد کئے گئے اورجرمانے کی رقم 30 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ۔ یہ خوش آئندامر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پٹرول بحران میں ملوث ذمہ داروں کومنطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کیاہے ۔ گزشتہ روزوزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے پٹرول کی قلت کے بحران کے اسباب اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے انکوائری کمیشن کے قیام اور15لاکھ گندم درآمد کرنیکی منظوری دیدی ہے ۔ چینی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کریک ڈاءون کا فیصلہ کیاگیا، کابینہ نے حکومت کی موثرحکمت عملی کے باعث کورونا وائرس کے مجموعی کیسز اور اموات کی شرح میں کمی اور کورونا وائرس کے عدم پھیلاءوپراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ عیدالاضحی اور محرم الحرام کے دوران احتیاط سے کام لیں ۔ کابینہ میں انتخابی اصلاحات کیلئے قانون سازی کابھی فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جو بھی پٹرول بحران کا ذمے دارہوا وہ نہیں بچے گا، چینی اور گندم بحران ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ گندم اور چینی کی فراہمی ہر حال میں یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومتیں گندم، چینی مافیاز کیخلاف کریک ڈاءون تیز کریں ۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ کراچی کی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے وہاں کسی کی حکومت نے نہیں ، ن لیگ اور پی پی کے قول و فعل میں تضاد ہے، فضل الرحمن کی شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے ملاقا تیں بغل میں چھری ، منہ میں رام رام کے مصداق ہیں ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ الیکشن اصلاحات کے حوالے سے مجوزہ بل کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی، کابینہ اور اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ مجوزہ بل الیکشن کے حوالے سے پیش آنےوالے ایشوز اور مسائل کو موثر طریقے سے حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا ۔ انتخابی اصلاحات کا بل تیار ہے اور وزارت قانون میں ہے ۔ عید کے بعد اسے کابینہ میں پیش کیا جا ئے گا ۔ کابینہ نے کراچی کی صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوٹ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد شہری سہولیات کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کو فعال بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ جہاں تک کراچی میں ہونےوالی بارش سے پیدا شدہ صورتحال کامسئلہ ہے تو اس پر سیاست سے گریزکیاجائے ۔ مون سون ہرسال آتا ہے لیکن مسائل کے جوں کے توں رہتے ہیں لہٰذا اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے ۔

آرمی چیف کی پاکستان دشمن قوتوں کودوٹوک تنبیہ

پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن وہ اپنادفاع کرنابخوبی جانتاہے ۔ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہماری دفاعی تیاریاں امن کیلئے ہیں لیکن کسی نے جارحیت مسلط کی تو پوری قوت سے جواب دینگے، الخالد ٹینک پاکستان، چین اور یوکرائن کے دفاعی تعاون کی علامت ہے ۔ الخالد ٹینک پاکستان، چین اور یوکرائن کا مشترکہ منصوبہ ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں الخالد ٹینک آرمڈ کور کے حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں الخالدون ٹینک کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا ۔ آرمی چیف نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کی کوششوں اور صلاحیتوں پر اظہار اطمینان کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایچ آئی ٹی خود انحصاری کے حصول میں گرانقدر خدمات انجام دے رہا ہے ۔ ایچ آئی ٹی عالمی معیار کی دفاعی مصنوعات تیار کررہا ہے ۔ بلاشبہ پاک فوج دفاع اور ملکی سلامتی کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، مسلح افواج پاکستان کو درپیش کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ مسلح افواج ہمہ وقت سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں اور یہ افواج دنیا بھر میں اپنے پیشہ ورانہ رویے کے لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں ۔ پاک افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرکے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا اور دیگر ملکوں کی افواج کے لئے ایک اعلیٰ مثال قائم کی ۔

ایس کے نیازی کی پروگرام’’ سچی بات‘‘ میں فکرانگیزگفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم صدارتی نظام کی طرف جا رہے ہیں اور سسٹم کے تانے بانے اسی سے جا کر مل رہے ہیں ، آل پارٹیز کانفرنس جو ہونے جا رہی ہے اس میں بھی اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ ریلیف تو ملے گا، دیگر لفظوں میں آپ کہہ لیں کہ این آر او ہو گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اٹھارویں ترمیم ہونے جا رہی ہے تو این آر او بھی ہو گا، جو کہ بڑا سخت ہو گا، میں یہ کہتا ہوں کہ این آر او ہی پارلیمنٹرینز کا حل ہے ، کیونکہ ہم ڈنڈے سے مانگتے ہیں ، جب ریفرنسز دائر ہوتے ہیں تو پھر ہم مختلف چیزوں کو تسلیم کر لیتے ہیں ،بہر حال جو بھی ہو ملک کے مفاد میں ہونا چاہیے ، کچھ لینا اور کچھ دینا ہو گا، اٹھارہویں ترمیم کو تبدیل کرنا ملکی مفاد میں ہے ، تحریک انصاف میں مبینہ طور پر بہت سے کرپٹ لوگ ہیں ، وزیر اعظم کو زمینی حقائق جاننے ہونگے ، آپ کہتے ہیں کہ اب کرپشن ختم ہو گئی ہے تو البتہ صرف فرق یہ پڑا ہے کہ پہلے جو کام دو ہزار روپے میں ہو تا تھا اب وہ کام دس ہزار میں ہو رہا ہے ، معاشرہ بگڑا ہوا ہے ، آہستہ آہستہ معاملات ٹھیک ہوجائیں گے ۔ ایس کے نیازی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی کوئی ویلیو نہیں ، نیب اختیارات کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب چیئرمین نہایت ایماندار اور بہترین شخصیت کے حامل ہیں ، البتہ نیب کو سہولیات دینی چاہئیں تاکہ نیب کے مسائل حل ہو سکیں ، ان کو اچھی ٹیم دی جائے ۔ ٹائیگر فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان 9اگست کو ٹائیگرز فورس ڈے منا رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن عوام کو ان کاموں سے کوئی سروکار نہیں انہیں آٹا، دال ، چینی اور روز مرہ کی ضروریات کی چیزیں سستی ملنی چاہئیں ، لیکن غریب عوام کی آج تک کسی نے نہیں سنی ،اپوزیشن کی اے پی سی جو ہو رہی ہے اس کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نے میرے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں ، بلاول بھی نعرے لگا رہے ہیں ، اٹھارہویں ترمیم کا ایشو ہے ، میں اٹھارہویں کی ترمیم کے حوالے سے خود سپریم کورٹ میں ان پرسن پیش ہوتا رہا کیونکہ اس کی کچھ کلازز پر مجھے بھی اعتراض ہے خصوصی طور پر جو صحت اور تعلیم کے حوالے سے ہیں ۔ عمران خان کی بہترین پالیسیوں کی وجہ سے کورونا پر آج بہت حد تک قابو پالیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کے کرم کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی کریڈٹ دینا ہو گا ۔