- الإعلانات -

سلطان ٹیپو!

پاکستان تحریک انصاف ایک انقلابی جماعت کے نام سے جانی جاتی تھی جس کا سربراہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں سے منفرد اور زیادہ تعلیم یافتہ تھا بلکہ اس جماعت کا سربراہ حقیقی انسان، عوام دوست کہلاتا تھا اس جماعت کا سربراہ کوئی صنعتکار جاگیردار ،سردار ،نواب ،وڈیرا بھی نہ تھا اس جماعت کے سربراہ کی اپنی خوبیوں کی وجہ سے ملک اور بیرون ملک جماعت بنانے سے پہلے بھی شناخت اور محبت تھی ۔ عمران خان کو سیاست کے میدان میں اتر کر بڑا کٹھن اور ناممکن دریا عبور کرنا پڑا مگر جلد ہی کامیابی سے ہمکنار ہوا کہ میدان سیاست کے مداری وشکار پریشان ہوگئے ۔ عمران خان اپنی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے عوام کے دل وجان میں اتر گیا ۔ عمران خان نے میدان سیاست کے شاہینوں کو مات تو دے دی مگر عمران خان اپنی خرابیوں کی وجہ سے تخت حکومت پر بیٹھ کر بھی عوام کی خدمت اور ملک کی بہتری نہ کر سکا;46; ۔ عمران خان کی خرابیاں کچھ اس طرح ہیں کہ وہ عوامی اور دیسی لیڈر نہ ہے جو عوام سے رابطہ میں رہ سکے! عمران خان اور عوام میں بیوروکریسی نے جو فاصلہ پیدا کیا اسے عمران خان دور کر سکے! عمران خان بڑوں کی سنتا ہے عوام کی تجاویز اور مسائل عمران تک نہیں پہنچ سکے! عمران خان نے بیوروکریسی کو فری ہینڈ دے کر اسے بے لگام کر دیا ہے ۔ عمران خان حکومت میں کیا الجھا کے عوام سے بہت دور چلا گیا ۔ عمران خان کو عوامی لیڈر بننے سے مشیروں نے روک کر عمران اور عوام میں فاصلوں کی خلیج پیدا کر دی عمران خان کے دست بازو بننے والوں نے عوام دوست لوگوں کو ;200;گے لانے کی بجائے انہیں وڈیروں کے بہن بھائیوں کو سپیشل نششتوں پر منتخب اور نامزد کراکر عمران کے ساتھیوں میں مایوسی پیدا کی ۔ مہنگائی کا جن تاجروں نے کیا چھوڑا کہ بیوروکریسی مہنگائی کے ذمہ داران کے خلاف میدان میں اترنے پر تیار بھی نہ ہوئی ۔ گویا مہنگائی تاجر اور بیوروکریسی کی مشترکہ کوششوں سے پروان چڑھی ۔ عوام کا استحصال تاجروں نے بیوروکریسی سے مل کر کیا ۔ چینی ،;200;ٹا، گھی، پھل، سبزیاں بغیر وجہ تاجروں نے مہنگی کر کے عوام کو ذلیل اور حکمرانوں کو خوار کیامگر بیوروکریسی ویڈیو لنک میٹنگوں میں مصروف ہو کر وقت گزاری میں لگی رہی ۔ ممبران اسمبلی وزراء اپنی موج مستی میں مست مگرعوام رل گئے ۔ غریب فاقوں کا شکار ہونے لگے ۔ اوپر سے کرو نا کی وباء نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے پاکستان پر بھی اس وباء اور مفاد پرستوں کے حملوں نے عوام کا خون نچوڑ لیا ہے ۔ عمران خان سے ;200;ج بھی عوام بے حد پیار کرتی ہے اسکی وجہ سے عمران خان کی بے عیب سیاست ہے مگر یہ کب تک ہوگا;238; اور یہ کب تک چلے گا ;238;کہ عوام اقتدار میں عمران خان کو لائیں کہ رشوت ختم ہوگی ،کرپشن ختم ہوگی ،اقربا پروری کا خاتمہ ہو گا !مہنگائی پر قابو پایا جائے گا تیل گیس اور بجلی ہرپاکستانی کو میسر ;200;ئے گا ۔ تعلیم وصحت پر ہر ایک کا برابر حق ہوگا اور جب عمران خان مقتدر بن جائیں جب عوام اپنی پسند کے شخص کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر لا بٹھائیں تو ضروریات زندگی بلا جواز طور پر عوام کی قوت خرید سے باہر ہو جائیں ۔ گندم ، چینی قومی پیداوار ہونے کے باوجود مارکیٹ سے غائب اور سرکاری داموں پر میسر نہ ;200;ئیں ۔ ملک پولیس اسٹیٹ بن جائے کرپشن پہلے کی طرح عام ر ہے،بجلی کا بحران بے قابو ہو جائے اور عوام کی کوئی نہ سنے ۔ حتیٰ کہ عمران خان پہلی باراپنے ;200;بائی حلقہ میں ;200;ئے تو انقلابیوں کاسمندر امڈ ;200;یا اور بدمعاش بیوروکریسی اسے اپنے شیدائیوں سے بھی ملنے نہ دے بلکہ والد کی قبر پر بھی حاضری سے اس لیے روک دے کے حفاظت کا بندوبست نہ ہے سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ۔ عمران خان ;200;پ سے عوام کا پیار کا رشتہ عوام نہیں ;200;پ توڑ رہے ہیں ۔ یہ رشتہ عوام سے ;200;پ کی بیوروکریسی توڑنا چاہتی ہے،یہ رشتہ ;200;پ کے وہ مشیر منقطع کرنا چاہتے ہیں جو نہ خود عوام میں سے ہیں اور نہ عوامی سیاست سے واقف ہیں ۔ یہ ممی ڈیڈی سیاستدان ;200;پ کو کچھ نہیں دے سکتے،یہ ;200;پ سے تعلق کے ذریعے ایوانوں اور وزارتوں پر تو پہنچ چکے ہیں ،;200;پ ان سے کچھ کام لے سکتے ہیں تو ضرور لیں ;200;پ اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ ;200;پ کے ذریعے اقتدار کے مزے لینے والے ;200;پ کو عوام سے دور کرکے اور ;200;پکی حکومت کو لے ڈوبیں گے ۔ عمران خان ;200;پ کو اقتدار ان لوگوں نے دلایا ہے جو پرانی حکومتوں ڈاکوءوں ، لٹیروں کے مخالفین تھے مگر ;200;پ اقتدار میں ;200; کر اس عوام سے فاصلے بڑھا کر اپنے اقتدار کے دن گھٹا اور اپنے دشمنوں کے اقتدار کےلئے راہ ہموار کر رہے ہیں ۔ ;200;پ کی دو سالہ کارکردگی بہت اچھی ہوگی مگر ;200;پ کے چاہنے والوں کا خیال ہے کہ ;200;پ کی حکومت سے عوام خوش نہ ہے کیونکہ ;200;ٹامہنگا ، چینی مہنگی،تیل مہنگاغرضیکہ زندگی مشکل بنادی گئی ہے ۔ ;200;پ کا تعلق اپنے ساتھیوں سے منقطع ہوتا جا رہا ہے کسان، مزدور، طلبا، دکاندار ،ڈاکٹر، تاجر تنظیموں سے رابطہ بڑھا کر ان سے معاملات و مسائل پر گفتگوکریں ورنہ حالات جس طرح جا رہے ہیں ;200;پ کا حال سلطان ٹیپو والا ہوگا ۔