- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں ہندی بطور سرکاری زبان کانفاذ

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے بھارتی سرکار میں ضم کرنے کے بعد اب مودی سرکار ایک اور وار کرنے جا رہی ہے کہ وادی میں ہندی کو سرکار زبان کا درجہ دینے کےلئے سوچا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی، آر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسند تنظیموں نے کشمیر میں اردو کی بجائے ہندی کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یوں کشمیریوں کے مذہبی ، لسانی اور معاشرتی تشخص کو تباہ کرنے کےلئے سازش کی جا رہی ہے ۔ اب تک بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اردو زبان ہی راءج تھی اور اسے ہی سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ 130 برس بیت گئے اردو کو کشمیر میں سرکاری درجہ حاصل کئے ہوئے ۔ مگر اب اردو کے خلاف باضابطہ طور پر عدالتی و میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ہے ۔ سخت گیر ہندو تنظیموں بشمول بی جے پی نے اردو کو ولن کے طور پر پیش کرنے کی پروپیگنڈہ مہم تیز کردی ہے ۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی کشمیر ہائی کورٹ میں ایک ہندو شخص، جسے مبینہ طور پر بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کی پشت پناہی حاصل ہے، نے ایک مفاد عامہ میں دائر کی جانے والی عرضی میں ہندی کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سرکاری زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ عرضی دینے والا کہنا ہے کہ جموں میں ڈوگری اور ہندی زبانیں استعمال ہوتی ہیں اور اردو زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہاں (جموں ) کے لوگ نا انصافی کا شکار ہیں ۔ ایسی ہی ایک مہم 2014 میں مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد چلائی گئی جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اپنی پہلی باری میں تو نہیں البتہ دوسری مرتبہ مودی نے برسراقتدار آکر پانچ اگست 2019 کو اس مہم کو عملاً نافذ کر دیا ۔ آر ایس ایس کے رہنما کا کہنا ہے کہ خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد اب اگر ہندی کشمیر کی سرکاری زبان بنتی ہے تو یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہوگا ۔ آنے والے وقت میں سرکاری کاغذات ہندی میں لکھے جائیں گے اور نوکریوں کے امتحانات ہندی میں لیے جائیں گے ۔ اس طرح سے ہندی نافذ ہونے سے ہ میں نا انصافی سے نجات ملے گی ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے 20 میں سے 15 اضلاع میں لوگوں کی اکثریت اردو پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کی ہے ۔ اب جو پانچ ہندو اکثریتی اضلاع جیسے کٹھوعہ، جموں ، سانبہ، ادھمپور اور ریاسی ہیں ان میں بھی 40 سے 50 فیصد آبادی ;39;اردو;39; جاننے والوں کی ہے ۔ ریونیو اور پولیس جیسے اہم محکموں کا سرکاری ریکارڈ ;39;اردو;39; میں ہے ۔ طلبا کےلئے دسویں جماعت تک اس زبان کو ایک مضمون کے طور پر پڑھنا لازمی ہے ۔ اخبارات کے قارئین میں سے 70 فیصد ان کی ہے جو اردو اخبارات خرید کر پڑھتے ہیں ۔ اس کے برعکس کشمیر کے مسلم اکثریتی اضلاع میں دو فیصد لوگ بھی ہندی لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتے ہیں ۔ کشمیر میں لوگوں کی اردو اور ہندی میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں داخلے کے لیے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں جب کہ اسی یونیورسٹی میں 1956 سے قائم شعبہ ہندی میں بمشکل ہی کوئی طالب علم داخلہ لینے میں دلچسپی لیتا ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی کا کہنا ہے کہ اردو کا تحفظ سبھی کشمیریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ کل کو اگر یہ لوگ (بی جے پی والے) کوئی اردو مخالف قدم اٹھاتے ہیں تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے جو بھی قدم یہاں کی شناخت کے خلاف اٹھایا جائے گا ہم اس کی مخالفت کریں گے اور اس کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے ۔ عرضی دینے والے غلط بول رہے ہیں کہ جموں میں کوئی اردو نہیں جانتا ۔ آپ جموں کے (ہندو اکثریتی) آر ایس پورہ اور بلاور جائیں ۔ آپ کو بڑی تعداد میں اردو پڑھنے اور لکھنے والے ملیں گے ۔ آپ دیکھیں کہ اردو روزنامہ ہند سماچار زیادہ کہاں پڑھا جاتا ہے ۔ جموں میں اردو پڑھنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے ۔ وادی چناب اور پیر پنچال میں اکثریت اردو پڑھنے لکھنے والوں کی ہی ہے ۔ اردو بہت پہلے سے ہماری سرکاری زبان رہی ہے ۔ یہ ہماری تہذیبی شناخت ہے ۔ یہ ڈوگرہ راج میں بھی ہماری زبان رہی ہے ۔ حتی کہ مجھے گلہ ہے کہ سرکاری زبان ہوتے ہوئے بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ۔ بھارت میں کشمیر واحد ایسی جگہ تھی جہاں اردو کو سرکاری زبان ہونے کا اعزاز حاصل تھا ۔ لیکن آپ اپنا شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس اٹھا کر دیکھیں ۔ کیا ان پر آپ کا نام اردو میں لکھا ہے;238; پھر یہ کہنا درست ہے کہ یہ سرکاری زبان برائے نام تھی ۔ پانچ اگست 2019 کے بعد بھارت حکومت نے جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے ساتھ اس کے اثاثوں کی بھی تقسیم کاری کی شروعات کی ہے ۔ اس ضمن میں مرکزی حکومت نے ایک کمیٹی قائم کی ۔ حکومت کی وزارت داخلہ کے محکمہ جموں و کشمیر امور نے حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں دہلی میں واقع جموں و کشمیر بھون، جس کو کشمیر ہاوس کے نام سے جانا جاتا ہے، کو لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ یونین ٹیریٹری لداخ کو اس اثاثے میں کوٹلیہ مارگ جموں و کشمیر بھون کا نام دیا گیا ہے جس میں بلاک اے کے دس کمرے، چار سوٹس، اولڈ بلاک بی میں 14 کمرے اور تین سوٹس دیے گئے ہیں جبکہ اسٹاف کوارٹرز میں 16 بی اور 8 سے بھی لداخ کے حصے میں دئے گئے ہیں ۔ جموں و کشمیر یوٹی کو اس بھون میں بلاک بی میں 24 کمرے، بلاک سی میں 21 کمرے اور 7 سویٹس اور 10 اے سٹاف کوارٹرز دیے گئے ہیں ۔ اس جے کے ہاوس میں جموں و کشمیر کے سرکاری افسران اور سابق وزرا دلی کے دورے کے دوران قیام کرتے ہیں ۔