- الإعلانات -

آر ایس ایس کا مطالبہ، بھارت ہندو ملک

بھارت کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات ملک میں مذہبی برداشت، نسلی امتیاز کے خاتمے اور آزاد خیالی کے لیے آواز بلند کرنے لگی ہیں۔ بھارتی دانشوروں نے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں تنوع اور سیکولرازم کی حفاظت کی جائے۔ یہ مظاہرین ملک میں لادین افراد اور اقلیتوں کیخلاف شروع ہونے والی تشدد کی نئی لہر پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔اس کے برعکس آر ایس ایس کی جانب سے بھارتی آئین سے سکولرازم کی شق ہٹانے کی کوششیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ بھارتی آئین کی 42 ویں ترمیم کی رو سے بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی ہندوستانی آئین سے لفظ ”سیکولر“ لفظ ہٹانے کیلئے ایک اور عرضی انڈین سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔ آر ایس ایس نے اس مرتبہ انڈین پینل کورٹ کے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 29 اے (5) میں شامل اس لفظ کے اضافے کو چیلنج کیا ہے، کہا گیا ہے کہ ”آئین میں موجود یہ شق بھارت میں ہندو نظریات کو فروغ دینے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ 26 نومبر 1949میں ملک کو ہندو ریاست قرار دیا گیا تھا اس لئے اسے سیکولر قرار دینا درست نہیں“۔ کچھ ماہ قبل بھی آرایس ایس کے کنوینیئر نندر کمار نے آئین سے سیکولرازم کی شق حذف کرنے کی درخواست دی تھی، اس نے کہا کہ ”سیکولرازم ایک مغربی تصور ہے جس کا بھارت کی ہندو ثقافت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اس لئے اسے جلد یا بدیر ہٹانا پڑے گا“۔ یاد رہے کہ 1976 تک بھارت آئین کی رو سے بھی ”سیکولر“ نہیں تھا بلکہ اندرا گاندھی نے تعزیرات ہند میں 42 ویں ترمیم کر کے اسے ایک سیکولر ملک قرار دیا تھا۔بھارت کے اہم ترین عہدے مسلمان دشمنی کے لئے مشہور، ہندوتوا کے کٹر حامیوں کے پاس ہیں جن میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کْمار دوؤل، بھارت کے ایڈیشنل پرنسپل سیکرٹری پی کے میشرا اور پرنسپل سیکرٹری ناریپندرا مسرا کے علاوہ بھارتی ریاست اْتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ سمیت سب“انتہا پسند ہندوتوا”کی تھالی کے چٹے پٹے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی افواج اور بیوروکریسی میں بھی“ہندوتوا فلسفے”کے پیروکارخاصی تعداد میں موجود ہیں۔ہندو انتہا پسندی کی انتہا تویہ ہے کہ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے راج میں ان کی کرسی اور صوفہ کا رنگ پہلے بھگوا ہوا، پھر سرکاری عمارتوں میں یہی رنگ چڑھا اور اب بھگوا رنگ بریلی کے ایک کالج تک پہنچ گیا ہے۔ بھگوا بیگ کالج میں آتے ہی اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ بریلی کالج میں سیلف فنانس کورس کے طلبا کو تقسیم کرنے کیلئے بھگوا رنگ کا بیگ تیار کیا گیا ہے۔ بیگوں کا رنگ دیکھ کر طلبا کے ایک گروپ نے ہنگامہ آرائی کی اور بیگوں کو نذرِ آتش کرنے کی دھمکی بھی د ی۔ بریلی کالج میں اتوار کو طلبا کے دو گروپ پہنچے اور دونوں نے خوب ہنگامہ کیا۔ دونوں گروپ نے پرنسپل کا محاصرہ بھی کیا۔ ’سماجوادی چھاتر سبھا‘ نے بھگوا رنگ کے بیگ تقسیم کیے جانے کی مخالفت کی جب کہ اے بی وی پی نے بھگوا بیگ تقسیم کیے جانے کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ ہنگامہ بڑھتا ہوا دیکھ کر کالج میں پولیس کو بلانا پڑ گیا لیکن پولیس کے پہنچتے ہی طلبا کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ سماجوادی چھاتر سبھا کا مطالبہ ہے کہ بیگ کا رنگ بدلا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ سبھی بیگوں کو آگ کی نذر کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بار نیلے رنگ کا بیگ طلبا کو دیا جاتا تھا، لیکن اس بار بھگوا رنگ کا بیگ دیا جا رہا ہے۔ بریلی کالج کے بی بی اے، بی سی اے، ایم لب، بی لب اور ڈپلوما کورس سمیت سبھی سیلف فنانس کورس کے طلبا کو ہر سال کالج کی طرف سے بیگ دیا جاتا ہے۔ سرکاری فرمان کی تعمیل کرنے کو مجبور پرنسپل اجے شرما کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ”ہر سال بچوں کو بیگ دیے جاتے ہیں، اس بار بھی بیگ دینے کے لیے منگائے گئے ہیں۔ اس میں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ احتجاج کیا جائے۔“سنگھ پریوار کے بینر تلے ہندوتوا تنظیمیں اور ان کے نیٹ ورکس اس ہولناک نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں اور اسی لئے سنگھ پریوار میں لگ بھگ باون (52) شدت پسند تنظیمیں شامل ہیں۔ جن میں آر ایس ایس، بھارتیا جنتا پارٹی، ویشوا ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ دل نمایاں ہیں۔ اور ان سب کی مشترکہ حکمتِ عملی ہے نفرت کا ماحول تیار کرنا۔ لوگوں کو جذبات میں لا کر اشتعال دلانا تاکہ ان سے سیاسی اور سماجی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ (1969) احمدآباد فسادات، (1979) جمشید پور فسادات، بابری مسجد کے انہدام کے علاوہ حیدرآباد مکہ مسجد، اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے انہی تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی کڑی ہیں۔یہی منفی سوچ اور غیر مساوی رویہ آج نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انتہاپسندی اور لاقانونیت کے راج کی بنیاد بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں مسلمانوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ اور مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہیں۔ مگرافسوس کی بات تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی بھارتی ظلم وستم پر چپ سادھے بیٹھی رہتی ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ورلڈ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں حکومت کے ناقد سول سوسائٹی کے گروپوں کو نہ صرف فنڈنگ کی بندش بلکہ بڑھتی ہوئی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔