- الإعلانات -

نوحہ گری کا شور

گزشتہ برس مودی کی ہماری پاک فضائیہ کے ہاتھوں رسوائی ہوئی تو اسے رافیل طیارے بہت یاد آئے اور اس نے عوام کے ذہنوں میں رافیل مسلط کر دیا جس سے موتی کی طفل تسلی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہےمودی کا ایمان رافیل پر ہے اور ہمارا ایمان اللہ پر ہے ہمارا اس بات پر کامل یقین ہے کہ پتا بھی نہیں ہلتا بغیر اس کی رضا ویسے بھی رافیل نہیں لڑتے جذبے لڑتے ہیں جن کی مودی اور اس کی فوج میں شدید کمی ہے مودی اپنی عوام کو اس بات سے بے خبر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسلحہ کی خریداری میں محض اپنا کمیشن بنانے کے چکر میں لگا ہوا ہے اگر مودی سوچ کی حامل جماعت کو ایک موقع اگرعوام نے مزید دیا تو انڈیا مزید بدترین حالات کا شکار ہوجائے گا اور اس کی اقتصادیات کا بھی جنازہ نکل جائے گا اسی ضمن میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کسی نے ہ میں اشتعال دلایا تو اسے پوری قوت سے جواب دیا جائیگا ۔ چند روزپہلے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں چین اور یوکرائین کے تعاون سے تیار کردہ ٹینک الخالد ۔ ون کو فوج کے حوالے کرنے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہماری دفاعی اور اپریشنل تیاریاں ملک کے اندر اور باہر امن کو یقینی بنانے کیلئے ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی مصنوعات‘ انکے تکنیکی معیار اور ادارے کی استعداد پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی طرف سے خودانحصاری اور عالمی معیار کی ایسی مصنوعات تیار کرنے کی تعریف کی جن کی سلامتی کے ابھرتے ہوئے ماحول میں اشد ضرورت ہے ۔ دوران تقریب الخالد ۔ ون نے اپنے تحرک‘ رفتار‘ اپنی نقل و حرکت کو چھپانے کیلئے دھویں کی سکرین پیدا کرنے اور فائر کنٹرول سمیت اپنی صلاحیتوں کے شانداز مظاہرے کئے ۔ الخالد ۔ ون کو ان فارمیشنوں کے سپرد کیا جارہا ہے جن کا دوران جنگ اہم اور فیصلہ کن کردار ہوتا ہے ۔ ہ میں اس خطہ میں جس شاطر و مکار دشمن سے پالا پڑا ہے‘ اسکی بنیاد پر ہ میں دفاع وطن کے تمام تقاضوں کو بہرصورت ملحوظ خاطر رکھنا ہے جس کی عساکر پاکستان مکمل اہل بھی ہیں اور اپنے پیشہ ورانہ فراءض کی انجام دہی میں ہمہ وقت چوکس بھی ۔ قیام پاکستان کے بعد اگر بھارت نے پاکستان کو خلوص دل کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار پڑوسی ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا ہوتا تو پاکستان بھارت کشیدگی کی کبھی نوبت ہی نہ آتی اور دونوں ملک باہمی تعاون سے ہر شعبے میں ترقی کی منازل طے کرکے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکے ہوتے مگر پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارت کی شروع دن کی بدنیتی کے باعث ان دونوں پڑوسی ممالک میں کبھی دوستانہ مراسم استوار نہ ہوسکے ۔ نہ ہی باہمی تعاون کی خوشگوار صورتحال پیدا ہوسکی ۔ بھارت نے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی منصوبہ بندی کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا جس کے تحت کشمیر پر تسلط جما کر پاکستان کیخلاف جنگی جنون بھڑکایا گیا اور اسے آبی دہشت گردی کا شکار کیا گیا ۔ بھارت نے اپنی شروع دن کی بدنیتی کی بنیاد پر ہی پاکستان پر 65ء اور 71ء کی جنگیں مسلط کیں ‘ اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور پھر باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہوگیا جس کیلئے اس نے خود کو ایٹمی طاقت بنایا اور سازشوں اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو ہنوز جاری ہے اور اس ماہ کنٹرول لائن پر پاک فوج نے بھارت کا دسواں جاسوس ڈرون گرایا ہے ۔ ایسے سازشی اور عیار دشمن کے مقابل ہ میں یقیناً اپنا دفاعی حصار مضبوط بنانے کی مجبوری لاحق ہوئی جس کیلئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں نے اپنے ادوار حکومت میں ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ بالآخر بھٹو مرحوم کے دور سے شروع ہونیوالا سرخروئی کا یہ سفر نوازشریف کے دور میں 28 مئی 1998ء کو جوابی ایٹمی دھماکوں کی سرخروئی کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔ اسکے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی دفاعی ضرورتوں کے مطابق ٹیکنیکل ہتھیاروں سمیت جدید اسلحہ کے حصول و تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ الخالد ۔ ون بھی پاکستان کی دفاعی استعداد کا ثبوت ہے ۔ بھارت نے موذی سانپ کی طرح بے شک پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی زہر ناکیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے مگر اسکے ایٹمی قوت سے ہمکنار ہونے کے بعد اسے پاکستان پر دوبارہ باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جراَت نہیں ہوئی البتہ اس وقت ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارت کی مودی سرکار نے اپنی جنونیت اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث دونوں ایٹمی ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل ضرورلا کھڑا کیا ہے جبکہ خطے میں دوسرے ممالک بالخصوص چین کے ساتھ جاری اسکی شرارتوں نے پورے خطے اور تمام اقوام عالم کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ اس صورتحال میں یقیناً عساکر پاکستان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور خدا کے فضل سے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عساکر پاکستان نے اندرونی و بیرونی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اسکی گھناءونی سازشیں ناکام بنائی ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز اسی تناظر میں دوٹوک انداز میں باور کرایا ہے کہ ہماری دفاعی اور اپریشنل تیاریاں مکمل ہیں اور ہ میں اشتعال دلایا گیا تو پوری قوت سے جواب دیا جائیگا ۔ عساکر پاکستان کی استعداد و مشاقی کا اندازہ اس سے ہی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال 27 فروری کو دو بھارتی جہاز گرا کر ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کیا گیا اور کنٹرول لائن پر پاکستان کی فضائی حدود میں یکے بعد دیگرے داخل ہونیوالے دس جاسوس ڈرونز کو موقع پر ہی مار گرایا گیا ۔ اسکے باوجود مودی سرکار کے جنونی توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جبکہ آج بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو بھانپ کر چین اور ایران بھی دفاعی اقدامات اور منصوبوں میں ہمارے ہمقدم ہیں ۔ آرمی چیف نے چند روزقبل ملک کے دفاع و سلامتی کیلئے عساکر پاکستان کے پرعزم ہونے کا بھارتی جنگی جنون کے پیش نظر ہی اعادہ کیا ہے ۔ بے شک ملک کا دفاع ہماری جری و بہادر اور مشاق و مضبوط عساکر کستان کے ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے اور الخالد ۔ ون ہمارے دفاعی حصار میں ایک اہم اضافہ ہے رافیل طیاروں کے بعد بھارت نے ہنگامی طور پر فرانس سے 100 ہمپر میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 36 رافیل طیارے جن کی مالیت 60 ہزار کروڑ روپے ہے میں سے 5 جنگی طیاروں کی پہلی کھیپ بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہیں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بڑھ کے مارنا شروع کر دیں اور رافیل کی آمد کو اپنی عسکری تاریخ آپ کو ایک نئے دور سے تعبیر کیا اصل میں یہ چین سے;3939; کٹ ;3939;کھانے کا نتیجہ ہے پرانے لوگ کہتے تھے کہ کتے کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اب انڈیا کی موت آئی ہے تو اس نے رافیل کے بل بوتے پر چین سے پنگے لینے کی مزید کوشش کرے گا بھارت کے ان ناپاک عزائم سے یوں تو عساکر پاکستان پہلے ہی آگاہ ہیں انڈیا کے اس عمل سے ہ میں مزید قبلہ درست کرنے کا موقع ملے گا اللہ کی مدد اور چین کی مشاورت اور تعاون سے مودی کے تمام عزائم انشاءاللہ مستقبل قریب میں خاک میں مل جائیں گے پوری دنیا بھارتی جنگی جنون سے بخوبی آگاہ ہے، بھارتی حکومت اپنی رعایا کی خبرگیری کی بجائے تمام مالی وسائل جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں کے حصول میں جھونک رہی ہے رافیل طیاروں کی خریداری اور ہمپر میزائلوں کے حصول کا معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے لہٰذا پوری دنیا کو بھارت کے اس جنگی جنون کا نوٹس لینا چاہئے ۔ بھارت جدید ترین اور مہلک اسلحہ تو عرصہ دراز سے خرید رہا تھا، اس میں نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی بھی شامل ہے ۔ آج وہ افراتفری میں اس کو جہاں سے بھی اسلحہ مل رہا ہے خرید رہا ہے ۔ اس کی وجہ چین کی طرف سے اپنے علاقوں پر تسلط حاصل کرنا ہے بھارت پاکستان اور چین کو جارحیت کی دھمکیاں دیتا آرہا ہے ۔ ایک آرمی چیف نے تو 96 گھنٹے میں بیجنگ اور اسلام آباد پر قبضے کی بڑ بھی ماری تھی ۔ غرور کا سر نیچا اللہ کی ذات کو غرور اور تکبر بالکل پسند نہیں ہے یہاں جس نے بھی اپنی طاقت پر گھمنڈ کیا اللہ نے اس کی سوچ سلب کر لی اور حقیر سی مخلوق کے ہاتھوں اس کو ذلت آشنا کیا میر تقی میر نے کیا خوب کہا ہے

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا