- الإعلانات -

سلامتی کو نسل کی نظر میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سنگین

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی اقدامات کے ایک سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس ہوا ۔ ایک سال میں سلامتی کونسل کا یہ تیسرا اجلاس ہے جو پاکستان کی درخواست پر ہوا ۔ دنیا کو مظلوم کشمیریوں پر بھارتی بربریت عیاں کرنے کیلئے پاکستان کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں ۔ دیکھا جائے تو اس اجلاس سے پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے سفارتی محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ۔ یہ عالمی برادری، کونسل ارکان کا فوجی محاصرے کا شکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے ۔ بھارت نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو اپنا اندرونی معاملہ کہہ کر بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی ہے مگر اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پے در پے اجلاسوں اور عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر پر تشویش کے اظہار سے اس کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو رہا ہے ۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے یہ ثابت ہو گیا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ قراردادیں مستند ہیں ۔ غیر جانبدارانہ استصواب رائے، خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے ۔ ہندوستان نے غیرقانونی اقدامات سے کشمیر کی عالمی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سے جغرافیائی ہیت، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ لابنگ کے باوجودصرف مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے سلامتی کونسل اجلاس بھارتی ناکامی ہے ۔ عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں امن، سلامتی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھارت شروع دن سے ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کیخلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے مگر گزشتہ برس5 اگست کے بعدتواس نے انتہا ہی کر دی ۔ وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد 80 لاکھ کشمیری محصور ہو کر رہ گئے ۔ ایک سال میں خواتین و بچوں سمیت 214 افراد کو شہید کر دیا گیا ۔ اس کے باوجود اس کو کشمیریوں سے خوف ہے اور اسی خوف کی بنا پر قبضہ کے ایک سال پورا ہونے پر مزید فوج مقبوضہ کشمیر میں بھیج دی گئی ۔ فوج اورپولیس نے سڑکوں اور محلوں میں پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ کرفیو لگا دیا گیا مگر اس کے باوجود کشمیریوں نے احتجاجی جلوس نکالے اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عالمی برادری کیلئے شدید تشویش کا باعث ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا ایک سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے کے نتاءج اور بھارت کے جارحانہ عزائم سے جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو درپیش سنگین خطرات پر غور کے لیے کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے ۔ انہوں نے اپنے خط میں مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے، انٹرنیٹ اور مواصلات پر پابندی، کشمیری سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور تشدد، ماورائے عدالت قتل وغارت گری اور کشمیریوں پر اجتماعی سزا کے نفاذ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں ۔ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے بھارتی اقدام کی مذمت کی اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا مطالبہ کیا ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ بھارت پر زور دے چکی ہے کہ وہ کشمیریوں کو رائے دہی کا حق دے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں ۔ گذشتہ برس 5 اگست کو مودی سرکار کے قبضے کے بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کشمیر بارے تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارت کو اس اقدام سے باز رکھنے کی ہدایت کی مگر بھارت نے نہ صرف سلامتی کونسل کی بات کو اہمیت نہ دی بلکہ اب تک کی اقوام متحدہ کی قردادوں کی بھی ہمیشہ نفی کی ۔ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر پورے عالم اسلام کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے ۔ بھارتی سرکار نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی تمام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں سے بالکل بھی مخلص نہ ہے ۔ بی جے پی آر ایس ایس کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے پر تلی ہے جو خود اس کےلئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات پہلے سے زیادہ نازک ہو چکے ہیں ۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ بھارت نے پانچ اگست کے بعد کچھ اقدامات کئے ہیں جس کے باعث کشمیر میں خوف اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ لاک ڈاءون سے کتنی مشکلات ہوتی ہیں لیکن کشمیریوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہ ایک سال سے لاک ڈاءون میں مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ لاک ڈاوَن بھی ڈبل ۔ یعنی ایک تو بھارتی سرکار نے 5 اگست 2019 سے لاک ڈاوَن لگا رکھا تھا دوسرا وادی میں کورونا سے بچاوَ کےلئے لاک ڈاوَن نافذ کیا گیا ۔ بھارتی اقدامات سے ان کا سیکولر اور جمہوری چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور یہ ہندوتوا سوچ کے تحت بگڑ گیا ہے ۔ عوام بھارتی سرکار کی پالیسی سے ناخوش ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت پر تنقید کر رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آءوٹ کے باوجود اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔ رات کو گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں ۔ بلاقصور نوجوانوں کو اغواء کیا جاتا ہے ۔ ان کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔