- الإعلانات -

کوروناوائرس میں کمی خوش آئند مگراحتیاط لازمی

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاءو میں حیرت انگیز کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔ دنیا کے بیشترممالک میں سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس بے قابو وباء پرقابونہیں پایاجاسکا ہے ۔ مارچ میں جب کوروناوائرس نے پاکستان میں جڑپکڑی تواعلیٰ ماہرین طب وصحت نے، جن کے کہے کوقابل اعتبارسمجھاجاتا ہے نے تباہی اورہلاکتوں سے بچنے کےلئے حکومت پرسخت ترین لاک ڈاءون کےلئے زوردیا گوکہ حکومت نے ابتداء میں چند دنوں تک ہچکچاہٹ سے کام لیا لیکن بعدازاں یومیہ اجرت پرکام کرنے والوں اورغریبوں کی مشکلات اورمصائب کومدنظر رکھتے ہوئے مکمل لاک ڈاءون میں نرمی کی جبکہ سندھ میں سخت لاک ڈاءون کیا گیا جس کو بڑے پیمانے پرسراہاگیا ۔ ماہرین صحت نے کوروناوائرس کے کیسز میں غیرمعمولی کمی پربڑی خوشی کا اظہار کیا ہے تاہم وہ اس کے دیرپاہونے پرشکوک وشبہات کا اظہارکررہے ہیں ان کاکہناہے کہ مستقل حفاظتی اقدامات ناگزیرہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت اورعوام کی جانب سے غفلت کی صورت میں صورتحال بگڑے کے خدشات موجود ہیں محرم الحرام کےلئے طے شدہ ایس اوپیز پرسختی سے عمل پیرا ہوناچاہیے کیونکہ دنیا کے دیگرممالک میں اب بھی کیسزرپورٹ ہورہے ہیں مگرپاکستان میں کیسز میں کمی خوش آئندبات ہے ۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات یہی ہیں کہ لوگوں نے حفاظتی اقدامات پر زیادہ سختی سے عملدر;200;مد کیا ہے اور حکومتی سطح پر لاک ڈان پر بھی عملدر;200;مد کروایا گیا ہے ۔ اسلام آباد میں کورونا وائرس کی صورتحال پر قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں کورونا وبا کے حوالے سے کافی بہتری آئی ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹس، مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، سینما گھر، تھیٹرز، جمز اور پبلک پارکس بروز پیر 10 اگست سے کھول دیئے جائیں گے جبکہ مارکیٹوں پر اوقات کارکی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے پبلک ٹرانسپورٹ ،ٹرین اور فضائی آپریشن بھی پیر سے بحال ہوجائیں گے 8اگست سے سیاحتی مقامات کھول دیئے جائیں گے تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے 7ستمبر کوحتمی جائزہ لیں گے شادی ہالز کو 15 ستمبرسے کھولا جارہا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی کھولا جا رہا ہے ۔ میٹرو بسوں میں کھڑے ہو کر سفر کی اجازت نہیں ہوگی کبڈی، کشتی اور رگبی کے علاوہ دیگر کھیلوں کی اجازت دے رہے ہیں لیکن شائقین کو اجازت نہیں ہو گی ۔ مزارات کو بھی کھولا جا رہا ہے تاہم صوبائی انتظامیہ سے عرس کی اجازت لینا ہوگی ۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور مارکیٹیں ہفتے کو بند رکھنے کی پابندی ختم کی جا رہی ہے تاجر پرانے اوقات کار کے مطابق دکانیں کھول سکتے ہیں ۔ اسد عمر نے عوام کو معمولات زندگی بحال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تنبیہ بھی کی کہ جن ممالک میں کورونا ختم ہوا، وہاں دوبارہ کیسز سامنے آئے، خطرہ ابھی ٹلا نہیں ، احتیاط لازمی کرنا ہوگی ۔ ریسٹورنٹس میں باہر اور اندر بیٹھنے کی اجازت ہوگی ۔ ہوٹلز بھی شادی کے فنکشن کرسکتے ہیں ۔ ریلوے اور ایئر لائن فری آپریٹ کرسکیں گے ۔ ریلوے اور ایئر لائن میں سیٹیں چھوڑنے کی بندش ستمبر کے آخر تک برقرار ہوگی ۔ 14اگست کے لیے خصوصی احکامات جاری ہوں گے ۔ محرم سے متعلق علمائے کرام کے ساتھ مل کر ایس اوپیز بنائی جاچکی ہیں ۔ عوام کے تعاون سے صورتحال کنٹرول میں آئی ۔ یکم اکتوبر سے مسافر جہازوں میں نارمل سفر کرسکیں گے ۔ جن کھیلوں میں جسمانی ٹکراءو نہیں ہوتا ، ان کے انعقاد کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن شائقین کو اجازت نہیں ہو گی، البتہ ٹورنامنٹس اور میچز وغیرہ کو منعقد کرانے کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ اسد عمر نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے بداحتیاطی کی یا حکومت کی حکمت عملی کمزور پڑ گئی اگر عوام کے رویوں میں ہ میں منفی تبدیلی نظر آئی تو خدانخواستہ اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں ۔ اگر یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے تو دوبارہ وہی بندشوں کا سلسلہ شروع ہو گا ۔ یقیناسمارٹ لاک ڈاءون کی حکمتِ عملی نے کام کیاہے اس کے باوجود احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ عوام کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس وباء کا ایک لمبے عرصے تک مقابلہ کرنا ہو گا جب تک کہ اس کا علاج نہیں ;200; جاتا ۔ فی الحال پاکستان میں وائرس کا عروج گزر چکا ہے مگرپھربھی احتیاطی تدابیر پر مکمل عملدر;200;مد جاری رہناچاہیے ۔ اگر کورونا کا عروج ;200; کر گزر بھی گیا ہو تو ہ میں یہ سمجھنا چاہیے کہ دوبارہ بھی وائرس کا پھیلا ءوسامنے ;200; سکتا ہے اور ہ میں اس کےلئے تیار رہنا ہو گا ۔ اس لئے احتیاطی تدابیر کواپناناضروری ہے اورایس او پیز پرعملدرآمدکراناحکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاجربرادری اورہرطبقے کوپابندکرے کہ ہرصورت حکومتی احکامات پرعمل کریں تاکہ یہ خطرناک وباء مزیدنہ پھیلے اورجومریض اس وقت ہیں وہ بھی جلدصحت یاب ہوجائیں اور پاکستان سے مکمل طورپراس وباء کاخاتمہ ہوجائے ۔

قانون سازی میں پارلیمنٹیرینز کاذمہ دارانہ کردار

بلاشبہ نظام کی بہتری کےلئے قانون سازی ضروری ہے ۔ تمام پارلیمنٹیرینز کو اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرناچاہیے ۔ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور ہ میں دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم عوامی فلاح پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہ میں ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس سے ہمارا نظام بہتری کی جانب گامزن ہو سکے ۔ قانون سازی وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال کا ادراک کرے اور اس کی بہتری کےلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جے یو آئی ف ،جما عت اسلامی اور پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے شدید احتجاج اور شور شرابے میں کثرت رائے سے باہمی قانونی معاونت بل 2020 کی منظوری دے دی گئی، جس کے تحت منی لانڈرنگ سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی حوالگی اور ان کے جرائم سے متعلقہ معلومات کا دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تبادلہ کیا جاسکے گا تاہم اس سلسلے میں درخواست اگر عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا عالمی قوانین کے برعکس ہوئی تو یہ مسترد کی جاسکے گی، پیپلز پارٹی اورن لیگ کی تجا ویز کی روشنی میں وزیر قانون وانصاف ڈاکٹر فرغ نسیم نے بل میں 26 ترامیم پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی ترامیم واپس لے لیں ۔ قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف کی قرارداد متفقہ طورپر منظورکرلی گئی،مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت جب تک 5 اگست کے فیصلوں کو واپس نہیں کرتا، مودی سے بات نہیں کر سکتے ۔ آج پورا کشمیر اور تمام کشمیری پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ شہبازشریف اور بلاول آگے بڑھیں آئیں تجاویز دیں ہم قابل عمل تجاویز پر عمل کرنے کو تیار ہیں ۔ اپوزیشن کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ذمہ داری کا ثبوت دیا جو قانون سازی ہوئی یہ پاکستان کی ضرورت ہے، بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کرانا چاہتا تھا لیکن پاکستان کے اقدامات کو ایف اے ٹی ایف میں تمام ممالک کے نمائندگان نے سراہاقانون سازی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے کردار ادا کیا وہ قابل قدر ہے ۔

بھارت جھوٹے پروپیگنڈے سے دنیاکوگمراہ نہ کرے

دفتر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی سطح پر ;34;بیک ڈورڈپلومیسی;34; کی بات کومسترد کرتے ہوئے اس موقف کا دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ جب تک کشمیر میں مظالم جاری ہیں کسی قسم کی خفیہ سفارتکاری ناممکن ہے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کو 14اگست ;34;نشان پاکستان;34; سے نوازا جائیگا ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی غلط ہے، فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوازم انصاف پر حاوی ہوا ۔ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر مستقبل میں بھارتی جمہوری چہرہ پر بدنما داغ کے طور پر رہے گا ۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی نقشے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد دعوءوں کے ذریعے گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اپنے غیر آئینی اقدام سے دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا ۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ توسیع پسندانہ عزائم اور ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم رکھنے والا ملک دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے ۔