- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں کورونا کے بہانے دوبارہ لاک ڈاوَن

مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے بہانے سے از سر نو لاک ڈاوَن کے نتیجے میں عائد بندشوں سے شہر سرینگر میں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ شہر کی تمام مسجدیں بھی بند رہیں ۔ بندشوں کے نتیجے میں جامع مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں کے منبر و محراب خاموش رہے ۔ سرینگر میں دکانیں ، تجارتی و کاروباری مراکز اور بازار بند تھے جبکہ سڑکوں پر مسافر بردار ٹرانسپورٹ ہنوز غائب رہا تاہم کچھ علاقوں میں نجی گاڑیاں جزوی طور پر چلتی رہیں ۔ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے جہاں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے صبح سویرے اعلانات کئے جارہے تھے وہیں سڑکوں کی سخت ترین ناکہ بندی، تار بندی اور رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کی نقل وحرکت محدود کرکے رکھ دیا گیا تھا ۔ موجودہ اور سابق یورپی اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں متنازع قانون کے اطلاق کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور کشمیریوں پر مظالم کو دنیا سے چھپایا نہیں جاسکتا ۔ یورپین پارلیمنٹ کے سابق رکن فل بینیئن نے کا کہنا تھا کہ بھارت کا متنازعہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے موجودہ یورپین پارلیمنٹ کےرکن بین ھارڈ زمنیوک کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے قیام کےلئے دونوں اہم فریقین بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا ۔ بھارت پر عالمی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں ۔ مذہبی آزادی پوری دنیا کے انسانوں کا بنیادی حق ہے کشمیریوں سے بھارتی حکومت نے یہ حق بھی چھین لیا ہے ۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ مودی حکومت دراصل شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کا ماڈل ہے ۔ کشمیریوں کو تعلیم، ملازمت ، فصلیں اگانے اور پھل اتارنے کی سہولت میّسر نہیں مقبوضہ کشمیر میں نوجوان سیاست تو درکنار ایک ٹوءٹ بھی نہیں کر سکتے ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر جنت نظیر میں اب پراسرا ر ،خوفناک خاموشی کا بسیرا ہے ۔ پکڑ دھکڑ ، مارو،بھاگنے نہ پائے کی چیخ و پکار، گولیوں کی گونج میں گاڑیوں میں بچوں کو بھرنے کی آوازیں ، یہ منظر ہے جنت نظیر بھارتی مقبوضہ کشمیر کا ۔ کسے معلوم تھا کہ بھارت میں ایسے حکمران آئیں گے جومقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو ہی اندھا کرنے کا حکم دے دینگے ۔ پھر بھی دنیا کی نظروں میں جمہوریت ، جمہوریت کی دھول جھونکتے رہینگے ۔ وہاں ایک برس سے جاری لاک ڈاءون کا المیہ ہے کہ 80لاکھ بھارتی مقبوضہ کشمیری صحت ،تعلیم، انٹرٹینمنٹ اور ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان کی طرززندگی میں گھناءونی مداخلت کی گئی ہے ۔ جینے کا رنگ ڈھنگ ہی چھین لیا گیا ہے ۔ 2020ء میں بھی کشمیر کا رابطہ دنیا بھر سے کٹا ہوا ہے ۔ پانچ وقت نمازیوں سے بھری رہنے والی مساجد پھر سے ویران ہو گئیں ۔ ہر جانب ہو کا علم ہے ۔ حالانکہ 4مئی تک بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کورونا کے برائے نام کیسز تھے ۔ مارکیٹوں پر بھی تالے لگوا دیئے گئے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاءو سے بچنے کو یقینی بنانے کیلئے سرینگر اور دیگر تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد ہیں ۔ پہلے سے بھارتی محاصرے کا شکار کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیاہے اور معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں ۔ مہلک وائرس کے باعث پہلی موت واقع ہونے کے بعد لوگوں میں سراسیمگی اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ سڑکوں پر تعینات بھارتی سیکورٹی فورسز اہلکار پابندیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ روا رکھتے ہیں اور گھروں سے باہر آنے والے ہر کسی شخص کو بغیر کسی پوچھ تاچھ کے زد وکوب کرتے ہیں ۔ کورونا وائرس کے بعد جب دنیا پہلے لاک ڈاءون میں جانےو الی تھی ،مقبوضہ کشمیر پہلے لاک ڈاءون سے نکلنے والا تھا ، لیکن نکل نہ سکا ۔ لاک ڈاءون کے اندر لاک ڈاءون میں چلا گیا ۔ تین چار مسلمان فوجیوں کو شہید کرنے کے بعد بھارتی فوج نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے بہانے کرفیو پہ کرفیو لگا دیا ۔ بے شک ،کرفیو در کرفیو اور لاک ڈاءون کے اوپر ایک اور لاک ڈاءون اسے ہی کہتے ہیں ۔ عالمی میڈیاغافل نہیں ، وہ جانتا ہے کہ بھارت نے عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ہندوستان کی واحد مسلم ریاست کو قید کر دیاہے ۔ مقبوضہ کشمیر گجرات میں قتل عام نہ روکنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کنٹرول میں چلا گیاہے ۔ امیت شاہ متبادل وزیر اعظم ہیں ۔ دلی سرکار میں نریندر مودی کے بعد طاقتور ترین شخص ان کے سوا کوئی نہیں ۔ انہیں نہ کرنے کی جرات پولیس افسر میں کہاں ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی 1;46;25کروڑ آبادی میں سے کورونا کے مریض 701سے زیادہ نہ تھے ۔ موات 8تھیں ۔ دنیا نے 4 جی کو کورونا کیخلاف ہتھیار بنایا لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 4جی بھارتی فوجیوں کا ہتھیار ہے ۔ بھارت دنیا کی واحد جمہوریت ہے جہاں سب سے زیادہ مرتبہ انٹر نیٹ جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں ۔ ایک سال کی مسلسل بندش کے طویل ترین بندش کا ’’اعزاز‘‘ بھی سب سے بڑی جمہوریت کو حاصل ہے ۔ دلی سرکار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انٹرنیٹ بنیادی ضرورت نہیں ہے ۔ یعنی یہ تو لگژری آءٹم ہے جو بھارتی مقبوضہ کشمیر یوں کے مقدر میں نہیں ہے ۔ یہ بنیادی حقوق میں شامل نہیں ۔ اسی بنا پر30اپریل 2020ء کو سپریم کورٹ نے بھی انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیری سراسمیگی کے عالم میں سرگوشیاں کرتے ہیں بھارتی فوجی کسی وقت کسی کو بھی لے جا سکتی ہے ۔ جسے چاہے جب چاہے موت کی وادی میں اتار سکتی ہے ۔ عدالت ،انتظامیہ ،وکیل ،پولیس،جیلیں ،قانون اور حکمران ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیریوں کے خلاف سب ایک ہیں ۔