- الإعلانات -

کرپشن ترقی کے لئے زہرقاتل ہے

یقینا کرپشن سے نا انصافی اور محرومی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ کرپشن معاشرے میں انتہاپسندی اوردہشت گردی کاسبب بنتی رہی ہے ۔ بدعنوانی کے زیراثررہنے والے معاشروں کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توشاید یہ کہناغلط نہ ہوکہ کرپشن وہ وباء ہے جو جس معاشرہ میں سرایت کرتی ہے اس کی جڑوں کوکاٹتی اور وہاں کے ریاستی وجود کوکوکھلاکردیتی ہے ۔ کرپشن بلاشبہ ایسے معروضی حالات کے جنم کاسبب بنتی ہے جس میں شہریوں کی اجتماعی سوچ قومی مفادکی بجائے انفرادی مفادکی جانب مڑجاتی ہے اس سے معاشرتی زندگی بری طرح متاثرہوجاتی ہے کیونکہ کرپشن کے باعث وسائل کی منصفانہ اور برابری کی بنیادپرتقسیم اور ترسیل نہیں ہوتی اوراحساس محرومی پر مبنی معاشرہ پروان چڑھتاہے ۔ قومی احتساب بیوروکو مزید متحرک اور موثرہوناچاہئے کیونکہ اس سے قبل کہ کرپشن ہمارے وجود کوختم کردے اس کاخاتمہ ضروری ہے ۔ بدعنوان عناصرکوووٹ کے ذریعے مسترد کرکے اچھی حکمرانی کوفروغ دیا جائے ۔ سیاسی قیادت ہویاسابق وزرائے اعظم سب کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے درست فرمایا ہے کہ گورننس کی بہتری ملک کی ترقی کےلئے ضروری ہے آئندہ نسلوں کےلئے ہ میں ملک کا نظام ٹھیک کرنا ہے کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ، تھانہ کلچر تبدیل ، محکموں میں جزا و سزا کا نظام متعارف کرایا جائے ۔ سیاسی دباءو کے بغیر میرٹ پر کام کیا جائے ۔ دو سال بہت مشکل سے گزارے ہیں ، ملک تباہ شدہ حال میں ملا جسے چلانا ہمارے لئے بڑے معرکہ سے کم نہ تھا،این آر او والے ہرجگہ اکٹھے ہوجاتے تھے اور انہوں نے مصیبت ڈالی ہوئی تھی کہ ہ میں این آردو تو ایف اے ٹی ایف کا بل پاس اور کشمیر کے ایشو پر سپورٹ کریں گے ، اب ہ میں آگے بڑھناہے ترقی اورروزگاردینے کا وقت آگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہ میں کرونا کے عذاب سے بچا لیا اب اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو یہ نا شکری ہو گی ،کشتیاں جلادی ہیں اور اب میں نے پیچھے نہیں ہٹنا ،پنجاب میں نچلی سطح پر بہت کرپشن ہے ،مجھے پتہ ہے پولیس اور پٹوار کلچر میں کرپشن ہو رہی ہے ،پولیس اور بیوروکریٹس کو بہت زیادہ الاءونسز دیئے تنخواہیں بھی بہتر کر دیں اب رزلٹ دیں ۔ عوام کو اب ;200;ہستہ ;200;ہستہ احساس ہوگیاہے کہ کرپشن سے ان کا ملک ;200;گے نہیں نکل سکتا ، جس قوم میں کرپشن نہیں ہے ، وہ اوپر ہے اوروسائل کے باوجود جس ملک میں کرپشن ہے ، وہ نیچے ہے ۔ بہرحال اگر ہم نے کرپشن کے ناسور کاخاتمہ کرناہے تو اس کےلئے بے رحم احتساب کے عمل کویقینی بناناہوگا ۔ احتساب کرنےوالے اداروں کومکمل با اختیار غیرجانبداراور سیاسی وحکومتی اثرورسوخ سے ;200;زادکرناہوگا ۔ چورچورہوتاہے چاہے چھوٹے لیول کاہویابڑے لیول کاسب کےساتھ یکساں سلوک ہوناچاہئے نہ کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق کسی کوپکڑاتوکسی چھوٹ دے دی ۔ کرپشن کرنے والے لٹیروں سے جیل اور جرمانہ سمیت لوٹی ہوئی متعین رقم وصول کی جائے ۔ حکومتی دعوے اپنی جگہ مگرجب تک پسندوناپسندکی پالیسی کی بجائے غیرجانبداربے رحم احتساب نہیں ہوگاکرپشن کاخاتمہ ممکن نہیں ۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے لاہور میں راوی کے کنارے نیا شہر بنانے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 50ہزار ارب روپے لگایاگیاہے یہ پراجیکٹ لاہور کو بچانے کا منصوبہ ہے، اس سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور آنے والے دنوں میں لاہور کو کراچی جیسے خطرناک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ راوی سٹی اسلام آبادکے بعد پاکستان کا دوسرا منصوبہ بندی والا شہر ہے جس میں 13شہر آباد ہونگے جبکہ ایک کلومیٹر وسیع اور 46کلومیٹر لمبی جھیل بھی اس میں شامل ہوگی، مذکورہ پراجیکٹ 1لاکھ 10ہزار ایکٹر پر محیط ہو گا جسے آلودگی سے پاک کرنے کےلئے 60لاکھ پودے لگائے جائیں گے ۔ راوی سٹی لاہور کو بچانے کا 50ہزار ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں پرائیوٹ پارٹنر شپ بھی شامل ہے ۔ اوورسیز پاکستانی اس میں سرمایہ کاری کریں یہ ایک مشکل منصوبہ ہے جس کےلئے بڑی محنت درکار ہے اور یقینا مشکلات بھی آئیں گی اگر یہ منصوبہ اتنا آسان ہو تا تو 2004سے گزشتہ دور تک کی حکومتیں اس کو بنا چکی ہوتیں جبکہ سابق حکمرانوں نے اورنج لائن ، میٹرو بس چلا کر 28ارب روپے کی سالانہ سبسڈیز دیں جس سے ملک مقروض ہوتا چلا گیا، نیاشہرنہ بنایاتولاہور کا حال بھی کراچی جیساہوجائیگا ۔ یقینا وزیراعظم عمران خان کی نیت پرکوئی شک نہیں وزیراعظم کی اچھی سوچ ہے اوروہ اپنی پوری محنت سے کام میں مصروف ہیں ۔ عوام کو بھی وزیراعظم سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ عمران خان نے عام انتخابات میں عوام کے مسائل کے حل کےلئے وعدے کئے تھے اب ان وعدوں کی تکمیل کاوقت آگیا ہے ۔ اس وقت ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہے حکومت پر ;200;ئی ایم ایف کا دباءو بھی ہے ۔ وزیراعظم مہنگائی پر قابو پانا چاہتے ہیں لیکن ناکامی پر وہ ذمہ دار گزشتہ دور حکومت کو گردانتے ہیں ۔ اگرملک میں مافیا مہنگائی کر رہا ہے تو بطور وزیراعظم ان کو علم ہونا چاہیے یہ مافیا کون ہیں تو ان کو پکڑا جائے ۔

کراچی میں بارشوں سے تباہی

کیا کراچی ڈوبتا رہے گا،بارش سے پھرتباہی مچ گئی ،گجر نالہ اوور فلو، گندا پانی گھروں میں داخل،سڑکیں تالاب،سیکڑوں گاڑیاں اورموٹر سائیکلیں بند ،شہر کے بیشتر علاقوں کی بجلی بھی گھنٹوں غائب، شہری پریشان ہو کر رہ گئے ۔ کراچی میں مسلسل موسلادھاربارش سے شہر کی اہم شاہراہیں اور نشیبی آبادیاں ڈوب گئیں ، انڈر پاسز میں بھی پانی بھر گیا، سیکڑوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند اور خراب ہو گئیں ، لوگ سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے، سارا دن اور رات شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی، موسلادھار بارش کے بعد متعلقہ ادارے نکاسی آب میں بے بس اورناکام نظر آئے ۔ ہر جگہ پانی جمع ہو جانے پر زندگی مفلوج ہو گئی،بارش کے ساتھ ہی گجرنالہ ایک بار پھر بھر گیا، نالے کا پانی اوور فلو ہوکرگھروں میں داخل ہوگیا،نالہ اوور فلو ہونے کے بعد سے لیاقت آباد سے گجر نالے کی طرف جانے اور آنے والی سڑک ٹریفک کےلئے بند کردی گئی ۔ دوسری جانب کراچی میں بارش ہوتے ہی کے الیکٹرک کے 600سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، بارش کے باعث معطل ہونےوالی بجلی متعدد علاقوں میں بحال نہ ہو سکی تھی کہ جمعے کو ایک بار پھر شہر کے تقریباً 70فیصد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، کئی علاقوں میں رات تک بجلی کی فراہمی بحال ہی نہ ہوسکی تھی اور لوگ پریشان تھے ۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی جاری ہے، نشیبی اور کنڈے والے علاقوں میں احتیاطی طور پر بجلی بند کی گئی، بارش اور تیز ہواءوں کے باعث چند مقامات پر بجلی کا تعطل ہے، سیفٹی کلیئرنس ملتے ہی متاثرہ علاقوں کی بجلی بحال کر دی جائیگی ۔ بارش کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کےلئے پاک فوج نے کراچی میں ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا ہے ۔ مون سون بارشوں سے پیدا ہونےوالی صورتحال کے بعد پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کےلئے پہنچ گئی، پاک فوج کی امدادیں ٹی میں متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں ۔ ڈی واٹرنگ پمپس اور ضروری حفاظتی سامان کیساتھ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ شہر کے نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی بھی کی جا رہی ہے جبکہ پانی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو بھی کیا گیا ۔ سیلاب اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ہماری مزید ریسکیو ٹی میں پہلے سے مستعد ہے ۔ کراچی والوں کو وفاقی حکومت سے شکایت ہے کہ انہوں نے عمران خان کو ووٹ دیے لیکن پی ٹی ;200;ئی نے شہر کےلئے کچھ نہ کیا جبکہ پی ٹی آئی کے مطابق کراچی کی تباہی کی ذمہ دار پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ہیں جنہوں نے شہر کے دیرینہ مسائل پر توجہ نہ دی اور اب ہر بات کےلئے وفاقی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔