- الإعلانات -

وہ جگر سوزی نہیں ، وہ شعلہ آشامی نہیں !

جب کسی چوک ،چوراہے، بازار یا ویرانے میں نظر کسی دیوانے پر پڑتی ،جو عقل وخرد سے بیگانہ ہو،سہماسہما رہتا ہو،مخبوط الحواسی اور اداسی کے سائے اس کے چہرے سے عیاں ہو اور ماتھے پر پریشان حالی کی لکیریں سجائے چاک گریبان کئے نعرہ ہائے مستانہ بلند کرتا ہوا ، عالم مدہوشی میں مستغرق ہو اور یا کیف سرور میں ڈوبا شعور ادراک سے عاری اور خالی الذہن ہوکر بے مقصد ادھر ا ُدھر گھومتا ہو تو سوچتا ہوں کہ

غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ

ایک دیوانہ قیس عامری تھا ،جن کو عرف عام میں مجنوں کہا جاتا ہے یہ لیلیٰ کا مجنوں تھا اس کو لیلیٰ کی آنکھیں بہت پسند تھی (ویسے بعض آنکھوں میں جادو ہوتا ہے) اور لیلیٰ کی عشق کا جنون اس پر اس قدر اثر انداز ہوا تھا کہ ;249249;جادو وہ جو کہ سر چڑھ کے بولے،،کے مصداق تھا ،وہ سانولی سلونی موٹی آنکھوں والی (لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر لیلیٰ سانولی ہو)لیلیٰ کا عاشق صادق تھا ، اس کو لیلیٰ کے گلی کوچے، درو دیوار یہاں تک کہ لیلیٰ کے جانوروں سے بھی اسے پیار تھا مجنوں کو ;249249;سردار عشاق،،بھی کہا جاتا ہے جنہوں نے تمام عاشقوں کو ;249249;لیلیٰ رابہ چشم مجنوں بایددیدِِ،، کا درس دیا ہے ،یہ رتبہ بلند ملا جس کو ملا ۔ حالات کا ادراک کرتے ہوئے شاعر مشرق نے لکھا تھا

تیری محفل میں نہ دیوانے نہ فرزانے رہے

وہ جگر سوزی نہیں ، وہ شعلہ آشامی نہیں

جو لوگ حواس باختہ ہوتے ہیں ،بے معنی باتیں کرتے،بے ربط و بے سروپا آوازیں نکالتے ہیں اور نادیدہ حرکات کرتے ہیں ،کبھی ڈانٹتے ہیں ،کبھی شوخی دکھاتے ہیں ،کبھی لجاحت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی بے بس نظر آتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ، جن کو دانا لوگ،دیونے، پاگل ،مجنوں ، مجذوب، ملنگ، قلندر،باوَلا ، سودائی،فقیر، درویش،اور خطبی جیسے ناموں سے یاد کرتے ہیں لیکن عقل کے گھوڑے دوڑانے والے یہ فہیم اور ذکی لوگ تفریح طبع اور نشاط نفس کےلئے ان کو چھیڑتے ہیں اور ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں لیکن یہ ہرگز نہیں سوچتے کہ

تو کمبخت اس حال کوکیسے پہنچا;238;

دیوانے تو اپنے حال میں مست ہوتے ہیں ،وہ ماضی کی تلخ یادوں اور مستقبل کی پریشانیوں اور وسوسوں سے بے نیازہوتے ہیں ،کہا جاتا ہے کہ ;249249;دیوانہ بکار خویش‘،لیکن تمام دیوانے ایک جیسے نہیں ہوتے ،کچھ دیوانے اتنے ذکی اور حاضر جواب ہوتے ہیں کہ عقل آرائی کرنے والے;249249;اصحاب عقل،، کو بھی مات دیتے ہیں ، اور کچھ دیوانے واقعی ایسے بھی ہوتے ہیں ،جو ;249249;دیوانہ راہوئے بس است،،کے مصداق ہوتے ہیں اور کچھ دیوانے اتنے حساس، شاکی اور لوگوں کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں کہ ;249249; ان کو پیار پر بھی غصہ آتا ہے ،، بہلول بھی ایک دیوانہ تھا،لوگوں میں خطبی مشہور تھا لیکن اس کی باتیں علم و حکمت سے معمور ہوتی تھی سنجیدہ سے سنجیدہ فرد کے ساتھ بھی جب وہ لطیف پیرائے اور اپنے مخصوص انداذ میں گفتگو کرتا تھا تو اس کو اتنا ہنساتا تھا کہ اس کے پیٹ میں مروڑیں پڑ جاتی اور محفلوں کو کشت زعفران بنانے میں بہلول کوید طولیٰ حاصل تھا وہ بلا کا حاضر جواب تھامخاطب کو لا جواب کرنے کےلئے اس کے پاس اتنے گر تھے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بھرے محفل کسی کو شکار کرتا تو مخاطب توبہ توبہ کرتے کانوں کو ہاتھ لگاتا اور آئندہ کےلئے اُن سے بات کرنے سے گریز کرتے ایک مرتبہ کسی ازراہ مزاح کسی نے بہلول سے پوچھا کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے ، جس نے کوئی مال نہیں چھوڑا ہے اور اس کا ایک بیٹا، ایک بیٹی ، اور ایک بیوی ہے تو اس کا ترکہ کیسے تقسیم ہو گا ;238; بہلول نے کہا کہ بیٹے کے حصے میں یتیمی ،بیٹی کے حصے میں رونا پیٹنا اور بیوی کے حصّہ میں ویرانی آئیگی

خرد کا نام جنون پڑ گیا جنون کا خرد

جو چاہے آپکا حسن کرشمہ شاز کرے

بعض دیوانے بادشاہ ہو تے ہیں اور کم از کم بادشاہ سے کم مرتبہ کے اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتے ان کے خیالی وزیر اور مشیر بھی ہوتے ہیں ،ان کی بادشاہت کی حدیں لا محدود ہوتی ہیں وہ بڑے آزاد خیال واقع ہوتے ہیں خیالی پلاوَ پکانا اور خیالی محفل میں رہنا ان کی زندگی اور وہ اپنی من کی دنیا میں وہ اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ ان پر یہ شعر صادق آتا ہے

دلوں کو فکر دو علم سے کر دیا آزاد

تیرے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

دیوانے دشت خود فراموشی کے عالم میں زندگی گزارتے ہیں اور یہ اپنی ذات میں ایک ;249249; انجمن ،، ہوتے ہیں اور کچھ فلاسفر ہوتے ہیں اور ان کا کام ہی ;249249;فلسفہ بگھارنا ،، ہوتا ہے کسی کو دل دے کے جو دیوانہ ہو جاتا ہے اج کل کے دور میں جو جنونیت کے اعلیٰ مدراج کو بہت جلد پا لیتا ہے کچھ عرصہ کےلئے وہ ;249249;غم ہی غم ہے میرے فسانے میں ،، میں گاتا پھرتا ہے اور پھر بقول شاعر اس منزل تک پہنچ جاتا ہے

ابھی جنون ہے کہاں انتہا کی منزل ہے

ابھی تو باقی ہے دامن میں تار اے ساقی

دیوانوں کی زندگی چار گداز واقعات سے عبارت ہوتی ہے گرمیاں ہوں یا سردیاں ، بہار ہو یا خزاں ،ان کی زندگی سڑک کے کنارے ،چوراہوں یا بیابانوں ،صحراؤں ، میدانوں ، یا قبرستان میں گزرتی ہیں ان کو نصیب نہیں ہوتا ہے،ہمیشہ سفر میں ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مصائب اور شدائد کا مقابلہ کرتے ہیں اگرچہ وہ اپنی کیفیت کا ظہار لفظوں سے نہیں کر سکتے ہیں مگر ان کی آنکھیں بہت کچھ کہتی ہیں ان کی آنکھوں کے آنسو تو سب دیکھتے ہیں مگر محسوس صرف وہ کرتے ہیں ، جن کے دلوں میں سوز و درد ہوتا ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شوکت رضوی کی طرح کہتے ہیں

جب کوئی پاگل افسردہ نظر آتا ہے

سوچتاہوں کہیں یہ بھی نہ ہو دل میرا

دیوانے;249249;مرفوع القلم،،ہوتے ہیں کیونکہ وہ فرذانوں کی طرح ہیرا پھیری نہیں کرتے وہ ہشیار، چالاک، مکار، عیار ، چالباز، فریبی، جعلساز اور ٹھگ نہیں ہوتے وہ نیکی ،بدی ،گناہ معصیت اور لغزش کے مفہوم سے واقف نہیں ہوتے اس لئے بلا حساب ان کا حساب بے باک ہوگا ذہے نصیب ۔ !

عقل کی بنا پر انسان کو دیگر جانداروں پر فضیلت حاصل ہے دل و دماغ کی بنیاد پر انسان دنیا کو زیر و زبر کرتا ہے ;249249;ماہرین دماغیات،، کا کہنا ہے کہ ہر فرزانہ پانچ سے دس فیصد تک دیوانہ پن کا شکار ہے اور آجکل کے تیز رفتار دور کے تاذیانوں نے تو انسان کو بہت ذیادہ حواس باختہ کردیاذہنی خلفشار،ٹینشن اور ڈپریشن اس کی اولین نشانیاں ہیں اور اس کے آگے پھر چل سوچل ۔ !عقل کا منبع دماغ ہوتا ہے یا دل ۔ علماء کے مابین یہ;249249; متنازعہ فیہ ،،ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ عقل کا مقام دماغ ہے جبکہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ عقل کا مرکز ومحل دل ہے ہم اس بحث کو کسی دوسرے موقع کےلئے موقوف کرتے ہوئے صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام نے اس شخص کو ذیادہ پسندیدہ قرار دیتے ہوئے جو ذیاہ صاحب عقل ہو عقل کو عمل سے پرکھا جاتا ہے ذیادہ عقل والے کے اعمال بھی اچھے ہوتے ہیں عقل کا تقاضا ہے کہ ان لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے ،جو عقل سے عاری ہیں ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا،بے جا تنگ کرنا،تمسخر اور ایذا پہنچانا بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ کسی کو برے القاب سے یاد کرنے اور برے نام سے پکارنے کے باعث لوگ پاگل بن جاتے ہیں ۔ !دیوانے تو کہہ سکتے ہیں کہ

چلو اچھا ہوا کام اگئی دیوانگی اپنی

لیکن یہ فرزانے کہاں جائیں گے ،،جن پر دیوانوں سے زیادہ خبط سوار ہے ۔