- الإعلانات -

عالمی برادری کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا نوٹس لے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے ۔ بھارتی فوج کو مقبوضہ وادی سے نکالنے ۔ میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ بھارت پر دباوَ ڈالا جائے کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور کشمیریوں کی جان چھوڑ دے کیونکہ پاکستان تو کسی صورت کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور کشمیریوں کی اخلاقی ۔ سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی آزادی کا سورج طلوع ہو گا ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کرکے اس پر فوجی قبضہ کر رکھا ہے ۔ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی میں ایمرجنسی قانون نافذ کیا ۔ بی جے پی حکومت نے لاکھوں فوجی مقبوضہ کشمری میں تعینات کئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیاں کی گئیں ۔ نئی دلی کو سمجھنا چاہیے کہ ہم انکے منصوبوں کو جانتے ہیں ۔ ہم مسلسل نئی دہلی کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف بولتے رہیں گے ۔ یوم استحصال منانے کا مقصد کشمیر کے حوالے سے ہمارے بیانیہ کو اقوام عالم تک پہنچانا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر ہم سب متحد ہیں ۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو خطرناک اقدامات اٹھائے ۔ کشمیر کو جیل خانہ بنا دیا گیا ۔ کشمیریوں پر مظالم میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ۔ ہم نے کشمیری بھائیوں کی پرامن جدوجہد اور ان پر مظالم کو ہر فورم پر اجاگر کیا ہے اور اسی طرح اجاگر کرتے رہیں گے ۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے کشمیریوں کی حالت زار بیان کی تھی تاہم اب اس ظلم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے ۔ کشمیری مظلوم ۔ محکوم اور مجبور بن کر رہ گئے ہیں ۔ انگریزوں نے کشمیر کو فتح کرنے کے بعد ڈوگرہ مہاراجہ کو 75 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا تھا ۔ کشمیریوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف بھی جدوجہد کی ۔ 1931ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے 22 کشمیری شہید ہوئے ۔ 1947ء میں مہاراجہ ہری رام سنگھ نے بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کا غیر قانونی الحاق کیا جبکہ سردار ابراہیم مرحوم نے آزاد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ۔ پاکستان نے اپنا سیاسی نقشہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر ۔ جونا گڑھ ۔ سردار گڑھ اور دیگر ریاستوں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔ یہ تقسیم برصغیر کا ایجنڈا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ لاکھوں خواتین بیوہ ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کو غیر قانونی طور پر منسوخ کر دیا حالانکہ یہ آرٹیکل بھارتی آئین میں غیر قانونی تھے تاہم ان آرٹیکلز کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی حالانکہ مقبوضہ جموں و کشمیر نے آزاد ہونا تھا اور پاکستان کا حصہ بننا تھا ۔ یہ صورتحال بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی عکاسی کرتی ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو، مواصلات اور طبی امداد کی بندش، بین الاقوامی امدادی اداروں کو روک کر انسانی حقوق کو پامال کرکے کشمیری عوام پر ظلم کیا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوج موجود ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے ۔ بھارتی فوجیوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید اختیارات دیئے گئے ہیں جس کے باعث جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل میں اضافہ ہوا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار اور نظر بند کرکے رکھا گیا ہے ۔ دوسری طرف کوالالمپور میں یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمدکا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانیت کےلئے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔ میرے ذہن میں خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ۔ بھارت کو چاہیے کہ;34;علاقائی بدمعاش ;34;کا کردار چھوڑ کر ایک ملک کی طرح سامنے آئے ۔ کشمیری سخت فوجی محاصرے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی حالت زار کا نوٹس لے ۔ ڈاکٹر مہاتیر محمدنے انسانیت کےلئے آواز اٹھانے کو ترجیح دی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بولنے پر ملائیشیا نے پام آئل کی بر آمد پر پابندی کی صورت میں معاشی قیمت چکائی ۔ اس معاملے پر ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر اتنی بڑی قیمت اٹھانا پڑتی ہے ۔ میں نے اقوام متحدہ پر بھارت کیخلاف جو کہا اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گا ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں وہی کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطین میں کررہا ہے ۔ اسرائیل نے فلسطین میں دہشتگردانہ حربوں اور قتل عام کے ذریعہ فلسطینیوں کو دبایا ہے ۔ ملائیشیا مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی حربوں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے ۔ مہاتیر محمدنے تجویز پیش کی کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے حل کےلئے پاکستان کے ساتھ مل بیٹھنا چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مد نظر رکھ کر حل کیا جاسکتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے حق میں آواز اٹھانے پر ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اظہار تشکر کیا ہے ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ۔ ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ کشمیریوں کی بھارتی قبضہ کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا ۔