- الإعلانات -

آزادی اور پاک فوج کاروشن کردار

اصغر علی شاد کسی بھی قوم یا فرد کیلئے اس کی آزادی کے دن کو بڑی حد تک خاص تقدس کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ اسی پیرائے میں وطن عزیزکے طول و عرض میں چند روز بعد 14 اگست کو یوم آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہر شعبہ حیات نے ملکی ترقی اور خوشحالی میں مقدور بھر حصہ ڈالا ہے مگر اس ضمن میں پاک فوج کا جو روشن کردار رہا، وہ یقینا قابل ستائش ہے ۔ دنیا بھر میں قومی سلامتی اور معاشی ترقی کو بالعموم قومی ایجنڈے پر سر فہرست رکھا جاتا ہے اور خاص طور پر پاکستان جیسے ملک جس کی بنیاد ہی ایک خاص نظریے پر رکھی گئی تھی اور آج بھی عوام کی بھاری اکثریت اس امر پر پورا یقین رکھتی ہے کہ پاکستان اللہ کی دی ہوئی ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ یقینا وہی اقوام کر سکتی ہیں جو خود اس نعمت سے محروم ہیں ۔ یہاں مجھے اس بوڑھی خاتون کے یہ الفاظ یادآ گئے جس سے میری ملاقات 29 اگست 1973 کو ہوئی تھی’’اگر میرے بچوں کو کوئی بیماری یا تکلیف ہوتی ہے تو میں لفظ پاکستان پڑھ کر ان پر پھونک مارتی ہوں اور میرا سچا رب میرے اندھے اعتقاد کی لاج رکھتے ہوئے ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے ۔ ‘‘ حالیہ دنوں میں بھی بھارتی مسلمان آئے روز دہلی کے حکمرانوں کے ہاتھوں جس طرح مصائب کی بھٹی میں جل رہے ہیں اس سے بھلا کون آگاہ نہیں ، مگر اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ سب کچھ جاننے بوجھنے کے باوجود ایک حلقہ مختلف حیلے بہانوں سے افواج پاکستان کی بابت طرح طرح کی افسانہ طرازیوں میں مصروف ہے، مختلف واقعات کی آڑ لے کر پاک سلامتی کے اداروں کو مطعون کرنے کی ناقابل رشک روش اپنے پورے عروج پر ہے ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا لہذا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دنیا بھر کو مجموعی طور پر پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ اس امر میں کسی کو ذرا سا شبہ بھی نہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام نے عالمی دہشتگردی کے خاتمے میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے نے نہیں کیا ۔ اس بات سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ پاک قومی سلامتی کے اداروں نے دہشتگردی کے اس ناسور کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے حالانکہ اس حوالے سے خود پاکستانی قوم اور افواج کو جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ ستر سے اسی ہزار کے مابین پاکستانیوں نے اس حوالے سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہ امر اور بھی توجہ کا حامل ہے کہ عالمی دہشت گردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں تقریباً 8 ہزار ان افراد نے بھی اپنی جان جانِ آفرین کے سپردکی جن کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہ کسی بھی قوم کے نوجوان اس کا ہراول دستہ ہوتے ہیں اور پوری امید رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا ۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو اس کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوساءٹی کے سبھی انسان دوست حلقے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں ، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے ۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کرپاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں پر پہنچانے کا عزم صمیم کریں گے اور وطن پر قربان ہونے والے فرزندوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔