- الإعلانات -

11 پاکستانی ہندووَں کا بھارت میں سفاکانہ قتل

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت میں پاکستان سے بھارت آ کر رہنے والے ایک خاندان کے گیارہ افراد کی لاشیں ملی ہیں ۔ اس خاندان کا اب صرف ایک فرد ہی زندہ بچا ہے ۔ جائے وقوعہ سے کیڑے مار ادویات کے استعمال کے اشارے ملے ہیں ۔ ایس پی رورل راہل برہت کا کہنا تھاکہ جھونپڑی میں کیمیکل کی بو آرہی تھی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے خودکشی کیلئے یہ پی لیا تھا ۔ سبھی متاثرہ افراد کا تعلق قبائلی بھیل برادری سے تھا جو آٹھ برس قبل پاکستان سے انڈیا گئے تھے اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹے ۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کرائے پر کھیت لے کر محنت مزدوری کرتا تھا اور اسی سے اپنا پیٹ بھرتا تھا ۔ خاندان کا ایک 37 سالہ شخص ہی حیات بچا ہے جس کا نام کیول رام ہے ۔ پولیس کیول رام سے پوچھ گچھ کر رہی ہے ۔ مرنے والوں میں کیول رام کے والدین کے علاوہ ایک بھائی اور تین بہنیں ، ایک بیٹی اور دو بیٹے بھی شامل ہیں ۔ مرنے والوں میں 75 سالہ بْدھا رام خاندان کے سرپرست تھا ۔ کیول رام اسی لیے زندہ بچ گیا کیوں کہ وہ گھر سے دور جا کر سویا ہوا تھا ۔ متاثرہ فیملی 2012 میں پاکستان کے صوبہ سندھ سے آئی تھی اور تب سے ہی ایک کیمپ میں مقیم تھی ۔ پاکستان سے پناہ کی درخواست لے کربھارت آنےوالے ہندووَں کے حقوق کےلئے کام کرنے والی تنظیم سیمانت لوک کے سربراہ ہندو سنگھ سوڑھا کامتاثرہ خاندان بارے کہنا ہے کہ یہ لوگ بھارتی شہریت کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ پاکستان سے بھارت آنے والے ہزاروں ہندو اس سے افسردہ ہیں ۔ اس وقت کم از کم بیس ہزار پاکستانی ہندو افراد بھارتی شہریت کی قطار میں ہیں ۔ ان میں سے دس ہزار شہریت حاصل کرنے کےلئے طے شدہ شرائط پر پورے بھی اترتے ہیں ۔ بھارتی اخبار’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے مطابق بھارت میں قیام کرنے والے 20 ہزار پاکستانی سندھیوں کو بھارتی حکومت طویل مدتی ویزے یا شہریت دینے جارہی ہے ۔ یہ سب کچھ شہریت قانون کو کامیاب بنانے اور مسلمانوں کو بھارت سے نکالنے کی سازش ہو رہی ہے ۔ اسی وجہ سے سندھی ہندووَں کی کثیر تعداد پاکستان سے مستقل طور پر بھارت منتقل ہو چکی ہے اور وہ بھارتی حکومت سے طویل مدتی ویزے اور شہریت کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں ۔ سندھی ہندوستان میں لکھنوَ، اجمیر، بھوپال، راجستھان، گجرات، احمد آباد، ممبئی سمیت کئی شہروں میں آباد ہیں اور جے پور سمیت بعض شہروں کے اہم بازاروں میں بیشتر دوکانیں سندھی ہندوَوں کی ہیں ۔ جے پور میں مقامی آبادی والے لوگ سندھی کاروباریوں کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چھوڑ کر جانےوالے ہندووَں کی بڑی تعداد پاکستان واپس بھی آ چکی ہے ۔ ہندو اشرافیہ کا تجارتی طبقہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں آزادانہ کاروبار کرتا ہے، رہائش اختیار کرتا ہے، کیونکہ ان کے رشتے دار وہاں پر ہیں ۔ پاکستان میں زبردستی مسلمان بنائے جانے واقعات میں مبالغہ آرائی کا عنصر زیادہ ہے ۔ جب اس قسم کے واقعات پر عدلیہ نے نوٹس لیا تو مسلمان ہونےوالی خواتین نے عدلیہ میں بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اپنی پسند کی شادی کی ہے، جسے روکنے کےلئے ہندو اشرافیہ مذہبی جذبات میں اشتعال پیدا کرنا چاہ رہا ہے ۔ کراچی جیسے حساس شہر میں متعدد جگہوں پر مندر اور مذہبی جگہیں موجود ہیں ، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو برادری کو کسی بھی مسلم کی جانب سے پریشان کیا گیا ہو ۔ ان تمام تر الزامات کا مقصد صرف پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی سازش ہو سکتا ہے ۔ پاکستان نے ہندووَں کی دیوالی میں سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان کر کے فراخ دلی و مساوات کی اچھی مثال قائم کی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندو برادری اپنے حقوق کےلئے اپنی ہی ذات، کاسٹ سے اپنے نمایندہ منتخب کریں تا کہ ان کے حقیقی مسائل سے پاکستان کے عوام بھی درست آگاہ ہو سکیں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں سے غلط فہمی پیدا نہ ہو ۔ پاکستان میں اقلیتوں کے معاملہ کو اچھال کر استعماری قوتوں کے ایجنٹ پاکستان کے اسلامی دستور کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ۔ ہندو اقلیتیں اپنی مذہبی رسومات کےلئے بھارت جاتی رہتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ میڈیا اور این جی اوز نے ہندو اقلیتوں کے تحفظ کا بہانہ بنا کر حقائق کے منافی گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی گھناونی سازش کی ہے ۔ اس مذموم پروپیگنڈے سے بین الاقوامی طور پر پاکستان کا امیج خراب ہوا ۔ لیکن ہندو مسافروں کے بیانات سے ان اسلام دشمنوں کے مکروہ عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں جو پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کررہے تھے ۔ ’’را‘‘ نے سندھ میں ہندو آبادی میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بھاری سرمایہ تقسیم کیا ہے اور مقامی لوگوں کو تربیت، جدید اسلحہ اور پروپیگنڈا کے ہتھیاروں سے لیس کرکے سندھ اور بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے ۔ ہندو خاندانوں کے بعض افراد کی بھارت نقل مکانی، اسی سلسلے کی کڑی ہے، ہندو خاندانوں کی اس نقل مکانی کو عالمی میڈیا میں پیش کرکے پاکستان کو بدنام بھی کیا گیا ۔ یہ یاد رہے کہ پاکستان نہیں بھارت میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک ہوتا ہے ۔ پاکستان میں رہنے والے ہندو خود کو تنہا نہ سمجھیں ، پوری قوم ان کے ساتھ ہے ۔ ہم ہندوَ برادری سے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان دشمن عناصر اور این جی اوز کے جھانسے میں نہ آئیں ، بھارت میں تو ہندوَں کی حالت زار بہت بری ہے وہاں اقلیتوں کی صورتحال تو اس سے بھی بدتر ہے اس لئے وہ وہاں نہ جائیں اور اپنے ہی وطن میں عزت سے رہیں ۔