- الإعلانات -

اقلیتوں کاقومی دن اور گیارہ ہندوءوں کا اجتماعی قتل

سبھی جانتے ہےں کہ 11اگست کے دن کواقلیتوں کے حقوق کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے کہ کیونکہ 11اگست 1947کو پاکستان کے قیام سے محض 3روز قبل قائداعظم نے اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے جو کچھ کہا تھا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ لیکن دو سری جانب یہ پہلو انتہائی افسوس ناک ہے کہ تھرپارکر کے بھیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا بدقسمت ہندو خاندان جو 8 برس قبل بھارتی صوبے راجھستان کے شہرجودھپور میں آباد ہو گیا تھا اس کے 11 افراد کو 9اگست کی صبح کو پراسرار طور پر ہلاک کر دیا گیا ۔ یاد رہے کہ اس ہندو خاندان نے جودھپور کے علاقے ڈیچو کے لوڈتہ گاوں کے ایک فارم ہاءوس میں سکونت اختیار کر رکھی تھی ۔ مقامی افراد کے مطابق خاندان کے افراد پراسرار طور پر صبح مردہ پائے گئے ۔ انڈین پولیس حکام کے مطابق پورے خاندان میں سے صرف ایک فرد محفوظ رہا ۔ واضح رہے کہ بھیل برادری کے یہ لوگ کھیتی باڑی کیلئے حاصل کردہ فارم ہاوس میں رہائش پذیر تھے ۔ اس واقعہ سے پورے بھارت میں بجا طور پر سنسنی پھیل گئی ۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جودھ پور کے دیسو تھانہ کے علاقے لوڈتہ میں پیش آیا ۔ ابھی تک موت کی وجوہات کا پتا نہیں چل سکا ۔ تاہم بھارتی میڈیا میں خاندان کے تمام افراد کو زہر دینے کی خبریں زیر گردش ہیں ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق شبہ ہے کہ ہندو خاندان کو بی جے پی یا آرایس ایس نے قتل کیاہے، ہندو تارکین وطن کی نعشیں ان کی جھونپڑی سے برآمد ہوئی ہیں ۔ پولیس نعشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے قریبی سپتال منتقل کر دیا جبکہ علاقہ مکین بھی ان افراد کی موت سے ناواقف تھے ۔ جودھ پور پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ خود کشی کا لگتا ہے کیوں کہ جائے وقوعہ سے کیمیکل کی بو آرہی تھی جس سے گمان ہوتا ہے کہ سب نے کوئی زہریلا کیمیکل پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہو تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر ہی حتمی بات کہی جا سکتی ہے ۔ مبصرین نے اس پس منظر میں رائے ظا ہر کی ہے کہ ایک طرف قائد اعظم کا پاکستان ہے تو دوسری طرف مودی کا بھارت ۔ پاکستان سے بھارت جا کر بسنے والوں کو قتل کیے جانے کا خدشہ ہے ۔ پاکستان میں قدرتی آفت کے دوران ہندو خاندانوں کو سکیورٹی فورسز نے ریسکیو کیا جبکہ بھارت میں پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے ہندوءوں کو بھارت میں پناہ تک نہیں ملتی ۔ مودی بابری مسجد شہید کئے جانے کے بعد رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ چکا ہے ۔ گاندھی کا سیکولر بھارت آخری سانسیں لے رہا ہے بلکہ عملی طور پر یہ دم توڑ چکا ہے ۔ بھارت کے انتہا پسندوں کا موقف ہے کہ یہ صرف ان ہندوءوں کا ہے جو وہاں پیدا ہوئے ۔ آر ایس ایس کی غنڈا گردی اور انتہاء پسندی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان سے جانے والے ہندو خاندان کو انجام تک پہنچا دیا گیا ۔ حالانکہ پاکستان خصوصا سندھ سے نقل مکانی کرنے والے ان ہندو افراد کو بی جے پی نے یہ جھانسہ دیا تھا کہ اگر وہ بھارت منتقل ہو جائیں گے تو ہر لحاظ سے ان کے وارے نیاے ہو جائیں گے اور ان کو دنیا جہان کی سبھی نعمتیں مہیا کی جائیں گی ۔ دہلی کے حکمران ٹولے نے ان سادہ لوح افراد کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر ان کو بھارت آنے پر مائل تو کر لیا مگر بھارت پہنچنے کے بعد ان بدقسمت ہندو افراد کو معلوم ہوا کہ وہ آر ایس ایس کے فریب میں آکر فاش غلطی کے مرتکب ہو چکے ہےں اور زمینی حقائق تو بھارتی دعوءوں کے سراسر الٹ ہےں اسی وجہ سے ان افراد میں سے چند ایک تو واپس پاکستان چلے آئے ۔ مگر ان کے دیگر ساتھیوں کو بھارت کے ہاتھوں سخت ترین مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے اور غالبا اسی پس منظر میں جودھپور میں 11ہندووں کو انتہائی پراسرار حالات میں اپنی زندگیوں سے محروم ہونا پڑاور آر ایس ایس سے وابستہ سفاک گروہ کے ہاتھوں زندہ رہنے کے بنیادی حق سے محروم ہونا پڑا ۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ انسانی حقو ق کے عالمی ادارے ’ہیومن راءٹ واچ‘ اور ایمرنسٹی انٹرنیشنل ان 11ہندو افراد کے قتل میں ملوث حلقوں کو ان کے منطقی انجام تک اپنی انسانی فریضہ نبھائیں گے ۔ علاوہ ازیں ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی بھی خاظر خواہ دادرسی کر ئیں گے ۔