- الإعلانات -

بانیانِ پاکستان کی حرمت کا تحفظ کیونکر ممکن ہے

یہ اَمر انتہائی حیران کن ہے کہ قیام پاکستان کے 73 برس کے بعد بھی بانیانِ پاکستان کے بارے میں بیرونی ذراءع کی انتہائی گمراہ کن، یکطرفہ اور جھوٹی خبروں کو جنہیں منظم ڈِس انفارمیشن یا مِس انفارمیشن سے ہی تشبیہ دی جا سکتی ہے کو سنسنی خیز خبروں کے طور پر کچھ ٹی وی چینلز، پرنٹ اور سماجی میڈیا پر عوام الناس میں سنسنی اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کےلئے چلایا جا رہا ہے ۔ چنانچہ قومی فکر اور نظریہ پاکستان میں یقین رکھنے والے دانشور حیران پریشان ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ کے پاس تو توہینِ عدالت کے حوالے سے نوٹس لینے کے اختیارات موجود ہیں مگر جن بانیانِ پاکستان نے اپنی بے لوث نظریاتی جدوجہد سے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کےلئے ناممکنات کو ممکن بنا کر ایک قومی گھر پاکستان حاصل کیا تھا اور جو گمراہ کن خبروں کی تردید کےلئے اب اِس دنیا میں موجود نہیں ہیں ، اُن کی حرمت کے تحفظ کیونکر ممکن بنایا جا سکتا ہے اور کیا بانیان پاکستان کی ہرزہ سرائی روکنے کےلئے ملک میں کوئی قانون موجود ہے;238; گر ایسا نہیں ہے تو حکومتی سطح پر اِس کا تدارک کیا جانا چاہیے ۔ چنانچہ عوام الناس کو یہ جاننے کی کوشش بھی کرنی چاہیے کہ یہ ڈِس انفارمیشن یا مسِ انفارمیشن کیا ہے اور اِسے بانیانِ پاکستان اور قومی اداروں کی ہرزہ سرائی کےلئے کس معصومیت اور بےباکی سے استعمال کیا جا رہا ہے ;238;عام معنوں میں اِسے گمراہ کن اطلاعات سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسی خبر یا اطلاع جس میں جان بوجھ کر معمولی سی سچائی کی چاشنی کےساتھ فریب کاری سے بدترین جھوٹ کی ;200;میزش کی جاتی ہے تاکہ خفیہ مدد گار ایجنٹوں کی مدد سے ٹارگٹ ملک میں عوامی رائے عامہ پر کسی خاص نقطہ نگاہ سے اثر انداز ہو کے تبدیل کیا جائے ۔ درحقیقت ، ماڈرن دنیا میں فنکاری یا چالاکی سے بنائی جانے والی اِس نوعیت کی گمراہ کن اطلاعات کی فریب کاری کی ابتدا نازی جرمنی میں ہوئی جبکہ اِسے منظم انداز سے سابق روسی کیمونسٹ حکومت نے روسی ایجنسی ;757166; کے ذریعے سرد جنگ کے دوران مغربی ملکوں کے خلاف استعمال کیا جس کی مفاد پرستانہ افادیت کو دیکھتے ہوئے بعد میں اسرائیلی ایجنسی موساد، امریکی ایجنسی سی ;200;ئی اے اور بھارتی ایجنسی راَ نے بھی ٹارگٹ ممالک میں اپنے ایجنٹوں اور سلیپرز کے ذریعے عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کےلئے اِسی منفی فکر کو استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اِس کی ایک مثال عراق میں میڈیا اور مذہبی و سیاسی جماعتوں میں ;677365; کے رابطے میں موجود افراد اور خفیہ ایجنٹوں کی مدد سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کی عراق میں مبینہ موجودگی کے پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو باور کرانے کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کو منظم ملٹری ایکشن سے گرا دیا گیا جبکہ ملٹری ایکشن کے دوران عراق میں ایسے کسی ہتھیار کی موجودگی نہیں پائی گئی ۔ دراصل ڈِس انفارمیشن یا مِس انفارمیشن سے متعلقہ گمراہ کن اطلاعات عوامی رائے عامہ پر منفی اثرات ثبت کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے چنانچہ اِس کھلی فریب کاری نے بل خصوص تیسری دنیا کے ملکوں میں مقامی سطح پر مافیائی قوتوں کو جنم دینے میں بھی مددگار کا کردار ادا کیا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں یہ صورتحال وسیع پیمانے پر ہونے والی اکنامک کرپشن کے پس منظر میں میڈیا اور مذہبی و سیاسی جماعتوں میں مافیائی اثر و رسوخ رکھنے والے کچھ سینئر صحافیوں اور سیاسی کارکنوں میں اِس حد تک سرایت کر گئی ہے کہ بانیانِ پاکستان کے خلاف بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ درج بالا منظر نامے میں گزشتہ ماہ 28 جولائی 2020 ایک اہم قومی روزنامہ کے ممتازمورخ ، دانشور کالم نگار اور سابق سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنے کالم میں اِسی موضوع پر ;34; غیر مصدقہ کہانی بحوالہ قائداعظم;34; میں بی بی سی اور سماجی میڈیا میں بانیانِ پاکستان کے بارے میں غیر مستند کہانیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی کالم نویسوں اور بی بی سی کو بانیانِ پاکستان کے حوالے سے سنسنی خیز کہانیاں بنانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ڈاکٹر صفدر محمود کہتے ہیں کہ ہمارے دانشور بلا تحقیق قوم کو یہ بتانے سے گریز نہیں کرتے کہ قائداعظم کی زندگی کے ;200;خری ایام سازش اور حکومتی بے اعتنائی کا شکار تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے زیارت میں قائداعظم کو وزیراعظم لیاقت علی خان کے ;200;نے کی اطلاع دی تو قائداعظم نے جواباً کہا کہ وہ یہ دیکھنے کےلئے ;200;ئے ہیں کہ میں کتنے دن اور زندہ رہوں گا ۔ جس مسودے کو قائداعظم اکادمی نے چھاپا ہے اُس میں یہ جملہ نہیں ہے لیکن پبلشر نے یہ اضافت کی ہے ۔ دوسرے یہ کہ قائداعظم کو وزیراعظم کے ;200;نے کی اطلاع محترمہ فاطمہ جناح نے نہیں بلکہ قائداعظم کے اے ڈی سی نے دی تھی اور جواباً قائداعظم نے اِس قسم کا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔ یہ کارنامہ جی الانا صاحب کا ہے جو بوجوہ لیاقت علی خان سے ناراض تھے جبکہ دستیاب اور معتبر ذراءع کےمطابق قائداعظم اور لیاقت علی خان کے تعلقات دوستانہ تھے ۔ جہاں تک مادر ملت کی کتاب ;34; مائی برادر ;34; کا تعلق ہے ، کتاب مادر ملت نے خود نہیں لکھی تھی بلکہ یہ مسودہ جی الانا نے تیا کیا تھا جسے محترمہ فاطمہ جناح نے کتابی شکل میں شاءع نہیں کیا تھا جس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اُنہیں اِس مسودے کے کچھ پورشن سے اتفاق نہیں تھا چنانچہ یہ مسودہ دہائیوں تک اُن کے کاغذات میں پڑا رہا ۔ ڈاکٹر صفدر محمود یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ وزیراعظم لیاقت علی خان قائداعظم کے استقبال کےلئے ائر پورٹ نہیں ;200;ئے تھے ۔ لیاقت علی خان نہ صرف ہوائی اڈے پر ;200;ئے بلکہ جب ایمبولنس خراب ہوئی وہ دوسری ایمبولنس ;200;نے تک وہیں موجود رہے جبکہ یہ غلطی گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری کرنل نوئلز کی تھی ۔ جناب ڈاکٹر صفدر محمود چند برس قبل بھی بانیانِ پاکستان کے بارے میں چند اہم سینئر صحافیوں کی غلط بیانیوں پر اُنہیں قائداعظم اور لیاقت علی خان کی عزت و حرمت کا خیال رکھنے کی تلقین کر چکے ہیں لیکن ذاتی مفادت کے اِس سمندر میں غوطے لگا کر راتوں رات اشرافیہ میں شامل ہونے والے کچھ نام نہاد دانشور اپنی منفی سوچ کوبدلنے سے قاصر ہیں ۔ (جاری ہے)