- الإعلانات -

مقبوضہ وادی میں نصاب تعلیم تبدیل

جموں و کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ خطے میں سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی نصابی کتب کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کی انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے نیشنل کونسل اف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ)کو ہدایت کی ہے کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں تعلیم کے بارے میں پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لے ۔ بھارتی سرکار کا کہنا ہے کہ سوشل سائنس اور زیادہ تر تاریخ کی کتب تبدیل ہونگی ۔ بھارتی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پورے بھارت میں 12ویں جماعت کے نصاب سے کشمیریت کو خارج کرتے ہوئے ہندو ازم کا پر چار کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی یہاں تک کہ مسلمانوں کی طرف سے ڈوگرا راج کی مزاحمت سے متعلق تمام مواد کو خارج کر دیا ہے ۔ اس کے برعکس آرٹیکل 2370اور 35اے کی تنسیخ کے حق میں مواد کو شامل کیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں یوم آزادی اور ریاستی امور سے متعلق تمام ابواب بھی نصاب کا حصہ نہیں رہے ۔ شہادتوں کا باب بھی نکال دیا گیا ہے ۔ نئے ابواب میں بھارتی حکومت کشمیریوں کو یہ بتائے گی کہ جانیں دینے والے کشمیری دہشت گرد ہیں جو یہ نہیں پڑھے گا وہ جیل جائے گا ۔ کشمیریوں کو یہ بتایا جائے گا ان کا تعلق دہشت گرد قوم سے ہے جنہوں نے بھارتی سپاہیوں کا قتل کیا ،بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی حفاظت کے لئے فوج بھیجی ،مرکز کے زیر انتظام مضبوط حکومت کا قیام کا مقصد بھی دہشت گردی پر قابو پانا ہے ۔ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ سابقہ کمزور حکومتوں کے اقدامات مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کا سبب بنتے رہے ۔ کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا جائے گا ۔ ’’ بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی تنازعات ‘‘ کے زیر عنوان کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی جائے گی ۔ درسی کتاب میں مقبوضہ کشمیرکے حصے بخرے کرنے کے فائدے بھی گنوائے گئے ہیں ۔ ‘‘divergent political and developmental aspirations’’ کے زیر عنوان باب میں ترقی کے نئے امکانات کی بڑھکیں ماری گئی ہیں ۔ نئے نصاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پسندیدہ نعروں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ کشمیری مسلمانوں پر مختلف مظالم کے ساتھ یہ ظلم بھی ڈھایا جا رہا ہے کہ وادی کی تمام درسی کتب کو ہندو ازم کا لبادہ اوڑھتے ہوئے ان میں سے اسلامی تعلیمات خارج کر دی گئی ہیں ۔ تبدیلیوں کو نصاب کی (‘‘saffronisation) کہا جا رہا ہے ۔ 2014ء کے بعد سے تو حد ہی ہو گئی ہے ۔ چھ برسوں میں سوشل سائنسز کو’’ہندو سائنسز ‘‘بنا دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ ذات پات(caste conflict )، نسلی تضادات اور بود و باش کے ابواب جو ہندو معاشرے کا حصہ ہیں ، بھی نصاب میں شامل نہیں ہیں ۔ کسی کو یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ بھارت میں طبقاتی کش مکش یا ذات پات کا کوئی نظام ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے پر کسانوں اور دہقانوں سے متعلق مواد بھی نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ تاریخی لڑائیاں ،جنگیں اور فیصلوں کو از سرنو اپنی مرضی سے ترتیب دیا گیا ہے ۔ پانی پت کی لڑائی کو دوبارہ لڑا گیا ہے یعنی اس جنگ کی تاریخ ازر سر نو مرتب کرتے ہوئے تمام تاریخی حقائق پس پشت ڈالتے ہوئے مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز مواد شامل کر دیا گیا ہے ۔ اسلامی ہیروز نکال دیئے گئے ہیں ۔ چند ہی مہینے قبل سکیولر ازم کا باب بلا ضرورت قرار دیتے ہوئے نصاب سے نکال دیا گیا تھا ۔ اس سیاسی کش مکش میں بھارتی بچے اصل تاریخ سے ہی محروم ہو جائیں گے،کیونکہ کئی حکمرانوں کا دور شامل ہی نہیں کیا ،مغل اور دوسرے مسلمان خاندانوں کی تاریخ بھی مسخ کر دی گئی ہے ۔ پانچ اگست ہی سے جب مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا اور وادی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، اس کے بعد سے وادی کے تمام تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں ۔ اس سے قبل بھی 2016 میں کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تقریباً چھ ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہے تھے ۔ کالج و یونیورسٹی طلباء کی طرح اول سے بارہویں جماعت کے طلبا کی تعلیم بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ دسویں ، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء جن کے امتحانات جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن منعقد کراتی ہے ، محض 50 فیصد ہی نصاب کور کیا گیا ہے ۔ ان طلباء سے امتحانات کے فارم بھی بھروائے گئے ہیں اور انہیں پورا نصاب پڑھائے بغیر ہی امتحانات کیلئے تیار رہنے کو کہا گیا ہے ۔ اب طلبا کو یہ فکر ہے کہ امتحانات پرانے نصاب سے ہوں گے یا نئے نصاب سے جو فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے ۔ انہی غیر اسلامی اقدامات کی بدولت بھارتی مقبوضہ کشمیر (اور ہندوستان میں بھی)مسلمانوں کو قربانی کرنے اور نماز عید کی ادائیگی کی اجازت نہیں ملی ہے ۔ کشمیری قیادت کے علاوہ اتر پردیش میں علماء نے مسلمانوں کو جانور ذبح کرنے اورنماز عید پڑھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر عید گزرنے کے بعد بھی یہ درخواست فائلوں میں دبی ہے ۔ سماج وادی پارٹی نے بھی دودنوں کے لئے تمام عید گاہیں اور مساجداور عید فیسٹیول منانے کےلئے مارکیٹوں کو کھولنے کا مطالبہ بھی کیاہے لیکن عید الفطر کی طرح عید الضحیٰ پر بھی کشمیر میں سب کچھ بند ہے ۔