- الإعلانات -

کورکمانڈرز کانفرنس اورپاک فوج کاقابل تعریف کردار

پاکستان پر جب بھی کڑا وقت ;200;یا، پاک فوج نے اپنی جان اور محنت کا نذرانہ پیش کیا،زلزلہ، سیلاب، وبا ء اور دیگر قدرتی ;200;فات کی صورت میں پاک فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ نظر;200;ئی اور اب کورونا کے خلاف جنگ میں بھی پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کا کردار قابلِ تعریف ہے ۔ پاک فوج نے سول انتظامیہ کے ساتھ فرنٹ فٹ پر اپنا کردار ادا کیاہے،ساری پاکستانی قوم پاک فوج کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ کرونا سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ۔ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں بھی لرز کر رہ گئیں ۔ پاکستان کی معیشت تو پہلے ہی کوئی مثالی نہیں تھی ۔ کورونا نے اسے ہلا کر رکھ دیا ۔ ابھی کرونا کے معیشت پر برے اثرات موجود تھے کہ ٹڈی کے حملوں سے فصلوں پر بدتر اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ کرونا کی طرح ٹڈی دل بھی ایک عالمی وباء ہے ۔ پاک فوج نے کرونا کے تدارک کےلئے بھی اپنا کردار ادا کیا اور اب ٹڈی دل کے خاتمے کےلئے بھی پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کو پہنچی ۔ پاک فوج نے ہمیشہ مشکل کی گھڑی میں سول انتظامیہ کی مدد کی ۔ سیلاب ہو، زلزلہ ہو یا کوئی بھی ایمرجنسی پاک فوج نے ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت تو اس کی اولین ذمہ داری ہے جو پاک فوج نے خون جگر دے کر ہمیشہ نبھائی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں ۔ ٹڈی دل کے خاتمے میں بھی پاک فوج سرخرو ہوتے ہوتے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنا رہی ہے ۔ یوں تو فوج بلوچستان میں کئی اہم ترین ترقیاتی کاموں میں بھرپور کردار ادا کرتی نظر ;200;تی ہے جس میں خصوصی طور ہر چمالانگ کوئلے کی کانوں میں ازسرنوکھدائی کا کام اوروہاں کے لوگوں کےلئے بنیادی سہولیات کا بہم پہنچانا، دیگر مقامات پر طبی سہولیات بھرتی کے اقدامات اور تربیتی اداروں کا قیام تک بھی اہم پیش رفت ہیں جو بہرصورت مجموعی طور پر صوبے میں حکومت اقدامات کے ساتھ ساتھ کئی قابل قدر نتاءج حاصل کرنے میں معاون و مدد گار ہیں ۔ حالیہ سیلاب ہوں یا موجودہ امن عامہ کی صورت حال، پاکستان فوج نے صوبے میں قابل قدر اقدامات کیے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی وعسکری قیادت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔ یقینا اس کےلئے ماضی میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ سب ملکر چلیں تو ابھرتے ہوئے بلوچستان کے ثمرات جلد حاصل کرسکتے ہیں ۔ حکومت اور فوج نے نے کافی حد تک حالات میں بہتری اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ کورکمانڈرز کانفرنس میں کنٹرول لائن پربھارتی فائرنگ کابھی جائزہ لیاگیا اورپاک افغان بارڈراورداخلی سلامتی کے ماحول کی صورتحال پربھی تبادلہ خیال کیاگیا ۔ بلاشبہ سرحدوں پرپاک فوج ہمہ وقت تیار ہے اوردشمن کی کسی بھی جارحیت کابھرپورمقابلہ کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ پڑوسی ممالک کے ساتھ امن کاکردارادا کیا ہے اورہمیشہ تعلقات بڑھانے کو فروغ دیاہے مگرکچھ شرپسندعناصراوردشمن قوتیں امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں ۔ گزشتہ روز جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت 234 ویں کور کمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی ۔ شرکاء کانفرنس نے جیو سٹریٹجک حالات اور قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ فورم نے ایل او سی ، پاک افغان بارڈر اور داخلی سلامتی کے ماحول کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ فورم نے افغان مصالحتی عمل کی پیشرفت کو سراہا اور بین الافغان مکالمہ جلد شروع ہونے کی امید کا اظہار کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی فارمیشنوں کی ;200;پریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کووڈ ۔ 19 کے وبائی مرض اور ٹڈی دل کے خطرہ پر قابو پانے کےلئے سول انتظامیہ کی مدد کی تعریف کی ۔ انہوں نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ ;200;ئندہ محرم کے دوران کووڈ19 سے بچاءو کے راہنما اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سول انتظامیہ کیساتھ ملکر عوامی تحفظ کےلئے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ ;200;رمی چیف نے بلوچستان اور سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران اور بطور خاص کراچی میں سیلاب کے دوران بچا کے اقدامات کیلئے کارروائی اور اقدامات کی بھی تعریف کی ۔ ;200;رمی چیف نے سیلاب کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر چوکس رہنے اور فعال اقدامات کرنے پر زور دیا ۔

وفاقی کابینہ ،جشن آزادی بھرپورطریقے سے منانے کافیصلہ

عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں ملکی صورتحال سمیت 13 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا تاہم کابینہ اجلاس میں مریم نواز کی نیب پیشی کے معاملہ پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ وزیراعظم اور کابینہ کو ملکی معاشی معاملات پر بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے معاشی صورت حال میں حالیہ استحکام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موڈیز کی جانب سے ملکی معیشت کی آوٹ لک کو مستحکم قرار دیا جانا خوش آئند ہے ۔ وزیراعظم نے معاشی اعشاریوں میں بہتری کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جشن آزادی شایان شان طریقے سے منانے ہدایت کی ہے اور کہا کہ کرونا کے باعث تقریبات میں احتیاطی تدابیر مدنظر رکھی جائیں ۔ جشن آزادی کے موقع پر جدوجہد آزادی سے نئی نسل کو روشناس کرایا جائے ۔ کابینہ کو جشن آزادی کی تیاریوں پر بریفنگ بھی دی گئی ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازنے کہا کہ وزیراعظم کی اخراجات میں کمی کی پالیسی اور حکومتی خرچے کم ہونے سے مالی خسارہ ایک فیصد کم ہوا ہے ۔ چند دنوں میں ہماری حکومت کے دوسال مکمل ہوجائیں گے ۔ اس کے پیش نظر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے معاشی صورت حال پر آگاہ کیا ۔ حفیظ شیخ نے بریفنگ میں بتایا کرونا وائرس سے قبل مالی خسارہ متوقع 9;46;1 فیصد تھا جبکہ اصل 8;46;1 ہے ۔ وزیراعظم کی غیرضروری اخراجات کم کرنے کی پالیسی اورحکومتی اخراجات کو کم کرکے خسارے میں ایک فیصد کمی لائی گئی ہے ۔ قرضوں پر سود اور دیگر چیزیں منہا کرکے جو خسارہ متوقع تھا وہ 3;46;1 تھا جبکہ حاصل کیا گیا ہدف 1;46;8 سے بھی بہتر تھا ۔ احساس پروگرام کے ذریعے ہم نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں تک منظم اور شفاف طریقے سے پیسے پہنچائے ۔ یوٹیلٹی سٹور کو بھی سبسڈی دی جس کا مقصد غریبوں کو سستے داموں اشیا کی فراہمی تھی، تعمیرات کے شعبے میں آسانیاں اور مراعات دینے کےلئے اقدامات کیئے گئے ۔ تعمیرات کے شعبے میں غریبوں کےلئے آسانیاں پیدا کی گئیں اور حکومت کی طرف سے سبسڈی دی گئی اور بلڈرز کو ٹیکس میں چھوٹ دی ۔ معیشت خاص طور پر کرونا ایسی وبا تھی جس سے بہتر طور پر نمٹا اور وزیراعظم دباو کے باوجود ڈٹے رہے ۔ ایک آدھ صوبے سے مخالفت کے باوجود ہم اپنے فیصلے میں ثابت قدم رہے اور کرونا کا نقصان کم کرنا تھا ۔ کچھ اشرافیہ تھی اورخود کو محفوظ سمجھتی تھی، انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں تھا اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی پروا نہیں تھی ۔ ہر ملک کو اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے، ہم پاکستان کے مفاد کو تقویت دیں گے ۔

نیب عدالت کے با ہر ہنگامہ آرائی شگون نہیں

مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب لاہور آفس کے باہر پولیس اور لیگی کارکنوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان مشتعل ہوگئے ۔ ٹھوکر نیاز بیگ کا علاقہ کئی گھنٹوں تک میدان جنگ بنا رہا ۔ لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھراءوکیا جبکہ کارکنوں نے بیرئیر توڑنے کی بھی کوشش کی ۔ جوابی پتھراءو سے مریم نواز کی گاڑی کی فرنٹ سکرین بھی ٹوٹ گئی ۔ لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی جس سے خواتین سمیت متعدد کارکن اور کچھ پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے ۔ پولیس نے خواتین سمیت کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔ خطرناک صورتحال پر نیب کی جانب سے مریم نواز کی پیشی ملتوی کر دی گئی ۔ جبکہ مریم نواز پیش ہونے پر بضد رہیں ۔ کافی دیر نیب آفس کے باہر انتظار کے بعد نیب نے مریم نواز کو پیشی کی اجازت نہ دی ۔ نیب عدالت کے باہر اس طرح کے واقعات نیک شگون نہیں ہیں عدالتوں کو اپناکام کرنے دیناچاہیے عدالتو ں کو سیاست میں مت گھسیٹیں ۔ اس طرح کے واقعات نئے نہیں ہیں اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔ لہٰذا حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کے کارکنو ں کو چاہیے کہ اپنے اندرایسے عناصرکونکالیں جوعدالتوں کے باہرتماشاکھڑاکرتے ہیں ۔ عدالت مقدمات سننے کےلئے ہوتی ہیں نہ کہ سیاست کےلئے ۔