- الإعلانات -

صاف اورسرسبز پاکستان ۔ ۔ ۔ !

جنگلات قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ ملک کے 25فی صد حصے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے لیکن سرکاری اعدادو شمار کے مطابق وطن عزےز پاکستان میں چار فیصد سے زےادہ حصے پر جنگلات ہےں جبکہ دےگر ذراءع کے مطابق پاکستان کے1;46;97 فیصد حصے پر جنگلات ہےں ۔ فن لینڈ 72;46;9 فیصد،سوےڈن کے 68;46;3فیصد، ملائےشےا 67;46;1 فیصد،برازیل 58;46;9، انڈونےشےا 49;46;6 فیصد،روس47;46;7 فیصد، کینڈا 38;46;2 فیصد، امرےکہ33;46;7فیصد، بھارت کے 23;46;5 فیصد حصے پر جنگلات ہےں ۔ فیصد کے لحاظ زےادہ جنگلات والے ٹاپ ٹین ممالک میں سورےنام 98;46;3 فیصد ، مائیکرونےشےا 91;46;9 فیصد، گبون 90;46;0 فیصد، سےچلس88;46;4فیصد،پلاءو (;80;alau) 87;46;6 فیصد، امریکن ساموا 87;46;5 فیصد،گےانا 83;46;9 فیصد، لاءوس 82;46;1 فیصد، جزائر سلیمان 77;46;9 فیصد اور پاپوانےوگنی 74;46;1 فیصد ہیں جبکہ رقبہ کے لحاظ سے دنےا کے ٹاپ ٹےن ممالک میں روس کے 8148895 مربع کلو مےٹر، برازےل4925540 مربع کلومےٹر،کینڈا 3470224 مربع کلومےٹر،امرےکہ 3103700 مربع کلومےٹر،چےن 2098635 مربع کلو مےٹر ، کانگو 1522665 مربع کلومےٹر، آسٹریلیا 1250590 مربع کلومےٹر،انڈونےشےا 903256 مربع کلومےٹر،پیرو 738054 مربع کلومےٹر اوربھارت کے 708054 مربع کلومےٹر رقبے پر جنگلات ہیں ۔ ان اعداد و شمار سے عےاں ہوتا ہے کہ دنےا کے ممالک جنگلات پر زےادہ توجہ دےتے ہیں اور اس قےمتی اثاثے کو محفوظ رکھتے ہیں ۔ ا ن میں سے زےادہ تر ممالک نے 2000ء کے بعد جنگلات پر توجہ دےنی شروع کی اور آج وہ جنگلات کے لحاظ سے بہت آگے بڑھے اور نماےاں ترقی کی ۔ جنگلات نہ صرف ماحول کو صحت افزا اور خوشگوار بنانے میں معاون ہےں بلکہ معےشت کے لحاظ سے بھی بہت زےادہ سود مند ہےں ۔ جس علاقے میں درخت زےادہ ہوتے ہیں ، وہاں بارشےں زےادہ ہوتی ہیں ۔ بارشےں جنگلات میں نباتاتی تنوع اور درخت انسان وحےوان کی خوراک کا ذرےعہ ہوتے ہیں ۔ درخت زمین کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں ۔ درخت اور پودے دلکش اور پرکشش تفرےح گاہیں مہیاکرتے ہیں ۔ درختوں سے آکسےجن مہیا ہوتی ہے جوکہ انسان و حےوان کی زندگی کےلئے ناگزےر ہے ۔ وطن عزےز پاکستان میں ہر چےزپر منفی سےاست کی جاتی ہے جوکہ ملک اور ملت کےلئے کسی صورت بھی اچھا نہیں ہے ۔ وطن عزےز پاکستان کی سےاست کا المیہ یہ ہے کہ سےاسی مخالفےن کو برا بھلا اور ان پر الزامات کی بوچھاڑ کرنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔ سےاسی مخالف جتنا بھی اچھا اور بہترےن کام کرےں لیکن اس پر تنقےد برائے تنقےد شےوا اور سےاست کی زےنت سمجھی جاتی ہے جوکہ دراصل غلط ہے ۔ تنقےد برائے اصلاح ہر شہری اور ہر سےاسی فرد کا حق ہے لیکن تنقےد برائے تنقےد بہت بڑی زےادتی ہے ۔ کوئی بھی شخص اچھا کام کرے تو اس کی تعرےف کرنی چاہیے ۔ انسانی کاموں میں کمی وبےشی بھی ہوسکتی ہے ۔ سابق وزےراعظم میاں نواز شرےف کا ملک میں موٹر وےز کا جال پھےلاناخوش آئند ہے ۔ ےہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا زےنہ ثابت ہوگا ۔ اسی طرح موجودہ وزےراعظم عمران خان کا کلین اےنڈ گرےن پروگرام بہترےن پروگرام ہے اور ےہ پاکستان کی تقدےد بدل دے گا ۔ سےاسی مخالفےن اس پر بھی تنقےد کرتے ہیں اور اس پروگرام میں کرپشن اور اعدادوشمار کے غلط بےانی کا ذکر کرتے ہیں ۔ حقےقت ےہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ اور کرپشن سراےت کرگےا ہے ۔ ہمارے ملک میں صرف وہ افراد کرپشن نہیں کرتے ہیں جن کے بس میں نہیں ہے ۔ گو کہ کرپشن اور جھوٹ اےک ناسور ہیں لیکن اس کو ےکدم اور جلدی ختم نہیں کیا جاسکتاہے ۔ قوی امےد ہے کہ وطن عزےز سے جھوٹ اور کرپشن کی لعنت ختم ہوگی لیکن اس کےلئے سب کوسعی کرنی ہوگی ۔ وطن عزےز پاکستان میں بےمارےاں گندگی اور گردآلودہ ماحول کے باعث پھیل رہی ہیں ۔ اگرماحول کو صاف کرےں گے تو بےمارےاں ختم ہوجائےں گی ۔ پودے زےادہ لگائےں گے تو ان کا صحت مندانہ ماحول کے ساتھ ساتھ مالی فوائد ہونگے ۔ پاکستان کاہر شہری جتنے زےادہ پودے لگائے گا تو وہ اتنا ہی اپنی مالی پوزےشن مستحکم کرے گا ۔ جس کے جتنے زےادہ درخت ہونگے ،وہ اتنا امےر اور دولت مند ہوگا ۔ آپ کے درخت ہیں تو آپ ےہ سمجھ لیں کہ آپ کے پاس نقد کیش ہے ۔ ہر سال پاکستان میں پودے لگانے کے مقابلے ہونے چاہئیں ۔ ےہ مقابلے نجی اور سرکاری دونوں سطح پر ممکن ہیں ۔ ےہ مقابلے گاءوں سے صوبے اور ملکی لیول تک ہونے چاہئیں ۔ اس سے لوگوں کے درمےان دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے ۔ ان مقابلوں میں باقاعدہ انعامات اور سرٹےفکیٹس دےنے چاہئیں ۔ محکمہ جنگلات ، انہار، زراعت ،تعلیم ، صحت، پولیس ، مال اور دےگر محکمہ جات میں بھی شجرکاری مہم کے دوران مقابلہ جات ہونے چاہئیں ۔ سڑکوں ، درےاءوں اور انہار کے کناروں ، رےلوے اسےٹشن، تھانہ جات ، سکولز ، ہسپتال سمےت ہر جگہ پودے لگانے چاہئیں ۔ پاکستان کے موٹروےز کے اطراف میں پودے لگانے چاہئیں ۔ ان مقابلوں کے نتاءج خوشگوار اور دور رس ہونگے ۔ پھل دار پودوں کو ترجیج دےنی چاہیے ۔ موٹر وےز کے اطراف میں سفےدے کے درخت لگانے کی بجائے علاقائی آب وہوا کے مطابق پھل دار پودے لگانے چاہیے ۔ ان پھل دار درختوں سے آمدن میں بے حد اضافہ ہوگا اور ان پھلدار درختوں کو ٹھےکے پر بھی دےا جاسکے گا ۔ وزےراعظم عمران خان کا آبائی حلقہ میانوالی ون کا علاقہ تبی سر، روغان اور ٹولہ بانگی خیل کے مضافاتی علاقہ جات زےتون کے پودوں کےلئے نہاےت سودمند ہےں ۔ وہاں باغات لگا کر زےتون کے تےل کے لحاظ سے خود کفےل ہوسکتے ہیں اور زرمبادلہ بچاےا جاسکتا ہے ۔ ضلع چکوال میں اس پر تجربہ ہوچکا ہے جوکہ کامےاب رہا ہے ۔ اسی طرح لوگوں کو اپنے گھروں میں پھل دار اور پھول دار پودے لگانے چاہئیں ۔ لوگوں کو کچن گارڈن کی طرف بھی راغب کرنا چاہیے ۔ کچن گارڈن سے سبزی وغےرہ گھر پر مےسر ہوسکتی ہے اوراس سے گھر ےلو بجٹ پر مثبت اثر پڑسکتا ہے ۔ قارئےن کرام! وزےراعظم عمران خان کے کلین اےنڈ گرےن پروگرام میں سےاست اور پارٹی سے بالاتر ہوکر بھرپور حصہ لیں ۔ اس سے آپ کا علاقہ صاف اور سرسبز ہوسکتا ہے ۔ اس سے آپ بےمارےوں اور غربت سے نجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس سے آپ اپنی نسل کو بہترےن مستقبل دے سکتے ہیں ۔ اس سے آپ کا سر فخر سے بلند ہوسکتا ہے ۔ اس سے آپ کی زےست میں خوشگوار تبدیلی آسکتی ہے ۔