- الإعلانات -

یوم آزادی، آزادی اظہار اور فتنہ پرور بھارت

آج 14اگست ہے اور آزادی کا 73واں سالانہ جشن منا رہے ہیں ۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہ میں ایک آزاد اور خود مختار مملکت عطا کی اور قائداعظم محمد علی جناحآ کی جدوجہدسے ہندو سامراج سے نجات دلائی، ورنہ آج ہم بھی نریندر مودی کے جاہلانہ راج کے رحم و کرم پر ہوتے ۔ بھارت ان دنوں انتہا پسندی اور وحشی پن کا ایپی سنٹر ہے ۔ جس کا بروقت سدباب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے بصورت دیگر اس کی لپیٹ میں خطے کے کئی ممالک آسکتے ہیں ۔ ابھی دہلی فسادات کے زخم ہرے تھے کہ گزشتہ روز فیس بک پر ایک گستاخانہ پوسٹ اپ لوڈ کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ۔ یقینا یورپی اور مغربی ممالک کی پیروی کرتے ہوئے یہاں بھی آزادی اظہار کی آڑ میں یہ افسوسناک اور قابل مذمت حرکت کی گئی ہے ۔ بنگلور کے مسلمانوں نے بروقت رد عمل دے کر مودی حکومت کو پیغام دیا کہ تم طاقت کے نشہ میں ہماری مساجد تو مسمار کر سکتے ہو لیکن ہمارا جذبہ ایمانی نہیں ڈھا سکتے ۔ آزادی اظہار ایک ایسی آڑ ہے جسے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت نے ایک بڑا ہی اہم فیصلہ دیا تھا جس کے بعدکسی حد تک ٹھہراوَ دیکھا گیا ۔ 25 اکتوبر2018 کوفرانس کے شہر سٹراسبرگ میں واقع یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے دس سال سے آسٹریا کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت توہین مذہب کے ایک کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی توہین آزادیِ اظہار کی جائز حدوں سے تجاوز کرتی ہے،اس کی وجہ سے تعصب کو ہوا مل سکتی ہے اور مذہبی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ ملزم خاتون نے 2008 ء اور2009ء میں اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات کے عنوان سے مختلف تقاریر میں پیغمبرِ اسلام ﷺکے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے جن کی پاداش میں ان پر ویانا کی ایک عدالت میں مقدمہ چلا اور عدالت نے انھیں فروری 2011ء میں مذہبی اصولوں کی تحقیر کا مجرم قرار دے دیا تھا ۔ اس فیصلے کو ;آسٹریا کی اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا جبکہ2013ء میں وہاں کی سپریم کورٹ نے بھی اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا ۔ اپنے فیصلے میں ای سی ایچ ;200;ر نے کہا کہ مقامی عدالتوں نے سائل کے بیانات کا بھرپور جائزہ لیا اور انھوں نے انکی ;آزادیِ اظہار اور دوسروں کے مذہبی احساسات کے حق کے درمیان بڑی احتیاط سے توازن برقرار رکھا ہے، ای ایچ سی آر نے فیصلہ صادر کیا کہ خاتون کے بیانات معروضی بحث کی جائز حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور انھیں پیغمبر اسلام ﷺپر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ مذکورہ خاتون نے اپنے خلاف آسٹریا کی عدالتوں کے فیصلے کو یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت میں چیلنج کیا تھا لیکن یورپی عدالت نے قرار دیا کہ شق 10 کے تحت اس خاتون کے حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ۔ یہ عدالت یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق کے تحت فیصلے سناتی ہے جس پر47ملکوں نے دستخط کر رکھے ہیں اور یہ 47 ججوں پر مشتمل ہے ، ان کا انتخاب کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کرتی ہے ۔ یورپ اور کئی دیگر ممالک میں ایک عرصے سے آزادیِ اظہار کی آڑ میں توہینِ رسالت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن کا مسلم ورلڈ میں شدید ردِ عمل سامنے آتا رہا ہے ، اس دوران کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ سلمان رشدی ،نیدر لینڈز کے سیاستدان گیرٹ وائلڈر اور چارلی ایبڈو جیسے شرپسندوں نے توہین آمیز خاکے بنانے ،قر;200;ن پر پابندی لگانے اور فتنہ انگیز فل میں بنانے جیسے اشتعال انگیز اقدامات پر مسلم دنیا میں غم و غصے کا اظہار ایک فطری رد عمل تھا ۔ اگلے روز بھارت میں بھی یہی کچھ ہوا،ایک بد بخت ہندو نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ شیئر کی تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور بھارتی پولیس کی براہ راست فائرنگ سے تین جانیں ضائع ہو گئیں ۔ یورپ کے مقابلے میں مودی کا بھارت اسلام دشمنی میں بہت آگے ہے، یہاں شر پسند ہندووَں نے مسلم اقلیت کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ مسلم کش فسادات بھارت کی دوسری پہچان ہے،ان فسادات میں حالیہ کچھ سالوں میں اس لئے تیزی آ گئی ہے کہ گجرات فسادات کا ماسٹر مائنڈ مودی اب بھارت کے سیاہ سفید کا مالک بن چکا ہے جبکہ لبرل بھارت میں چھپائے پھرتا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بنگلور میں ایک ایم ایل اے کے رشتہ دار نے سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پوسٹ شاءع کی جس کے خلاف منگل 11اگست کی شام لوگوں کی بڑی تعداد پولیس اسٹیشن پہنچی اور پوسٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ مشتعل ہجوم کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور ایم ایل اے کے رشتہ دار کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے کیونکہ اس نے ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں لیکن جب پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی تودیکھتے ہی دیکھتے ہجوم بے قابو ہوگیا اور پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر ;200;تش کر دیا جبکہ ایم ایل اے کے گھر باہر جمع ہونے والے ہجوم نے بھی وہاں کھڑی کچھ گاڑیوں کو ;200;گ لگا دی ۔ بنگلور بھارت کی سلیکون ویلی کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ 80لاکھ ;200;بادی والے اس شہر میں بڑی تعداد میں مسلمان ;200;باد ہیں ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بھارت میں اس طرح کے فسادات نے جنم لیا بلکہ اس سے قبل بھی وہاں مذہبی فسادات رونما ہوتے رہے ہیں ، جن میں زیادہ تر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ بھارت میں 2014 میں ہندو قوم پرست جماعت کی حکومت اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد اس طرح کے فسادات میں اضافہ ہوا ہے ۔ رواں سال فروری میں بھی نئی دہلی میں بڑے پیمانے پرمذہبی فسادات ہوئے تھے جس میں 50 سے افراد مارے گئے اور اس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا ۔ انسانی حقوق کی شق 10 جس کی ;200;ڑ میں ایک منظم سازش کے تحت اسلام یا پیغمبر اسلامﷺ کو نشانہ بنایا جاتا ہے،وہ اتنی بھی آزادی نہیں دیتی جتنا اس کا واویلا کیا جاتا ہے اس شق10 کے دو حصے ہیں ۔ پہلا حصہ یہ ضرور کہتا ہے کہ ہر کسی اور ;200;زادیِ اظہار کا حق حاصل ہے جس میں حکومت کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے لیکن اسی شق کے دوسرے حصے میں ;200;زادیِ اظہار پر قدغنیں بھی لگائی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ;200;زادیِ اظہار کے ساتھ فراءض اور حقوق بھی شامل ہیں اور یہ ;200;زادی کسی جمہوری معاشرے کے قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے رسومات، حالات، ضوابط کے ماتحت ہے اور اس کی ;200;ڑ میں کسی کے جذبات مجروح نہیں کیے جا سکتے ۔ یہ تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ ہر کسی کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے لیکن کسی دوسرے کی ناک تک ہی محدود ہے ۔ اگر آپ کی آزادی کی زد میں کسی کی ناک آتی ہے تو پھر فساد ہی ہو گا، مذہب کا معاملہ تو پھر کہیں زیادہ حساس ہے ۔