- الإعلانات -

بانیانِ پاکستان کی حرمت کا تحفظ کیونکر ممکن ہے

گزشتہ سے پیوستہ

قارئین کرام ، ایک ہی کالم میں بانیانِ پاکستان کے تمام ناقدین کی فنکاری اور چالاکی پر تو گفتگو نہیں ہو سکتی لہٰذا راقم کی کوشش ہے کہ ابتدائی طور پر بانیانِ پاکستان کے حوالے سے بار بار تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرنے والے سینئر کی گمراہ کن تحریروں پر گفتگو کی جائے ۔ راقم کی اُن کی خدمت میں یہ مودبانہ درخواست ہے کہ وہ بیرونی ایجنسیوں اور کرپٹ سیاسی مافیا کی ڈِس انفارمیشن یا مِس انفارمیشن کو بانیانِ پاکستان کے حوالے سے ;200;گے بڑھانے کے بجائے اگر وہ قبلہ ڈاکڑ صفدر محمود کی رائے سے استفادہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو بیرونی دیانت دار مورخوں اور دانشوروں بشمول امریکی پروفیسر اِسٹینلے والپرٹ اور ہیکٹر بولیتھو کی رائے پر ہی غور و فکر کریں ۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو دیانت دار بھارتی دانشوروں کی ریسرچ سے ہی مستفید ہونے کی کوشش کریں ۔ بھارتی ;200;ئینی امور پر مستند کتابوں کے علاوہ تقسیم ہند پر اہم کتاب کے مصنف جناب ایچ ایم سیروائی جو کافی مدت تک بھارت کے ایڈوکیٹ جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں ، کی 1988 میں ٹرانسفر ;200;ف پاور کے حوالے سے برطانوی حکومت کی جانب سے والیم ;887373; کی اشاعت کےساتھ ساتھ برطانوی مصنف ذیگلر کی کتاب ماءونٹ بیٹن اور عائشہ جلال کی ریسرچ سے متاثر ہوکر سیاق و سباق کےساتھ تنقیدی نگاہ سے لکھی ہوئی کتاب ;3476;egend ;65;nd ;82;eality;34; میں جو کچھ اُنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح اور اُن کے دست راست لیاقت علی خان کے بارے میں مہاتمہ گاندہی کے پوتے راج موہن گاندہی کے حوالے ے لکھا ہے اُسی پر ہی غور و فکر کرلیں تو اُن پر بانیانِ پاکستان کی عظمت کی بخوبی وضاحت ہو جائیگی، وہ لکھتے ہیں : ;3473;f ;74;innah founded ;80;akistan, ;76;iaquat, underestimating his own role, felt that he simply found it;46; ;74;innah had the pride of attainment, ;76;iaquat the enthusiasm of obtainment;46; ;84;he spirit to his devotion to ;80;akistan is conveyed by his remark, ;39;if ;73; can render service to ;80;akistan as a chaprasi, ;73; shall be the proudest man in the country;3946; ;84;he ;78;awab;39;s son, leaving valuable property in ;73;ndia, stayed landless in ;80;akistan, refusing the claim, as compensation, land evacuated by ;72;indus or ;83;ikhs;46; ;66;ut he showed the world that ;80;akistan was viable;3446;

ملک کے ایک نامور کالم نگار کے کالم رسوائی پر تو پچھلے ایک کالم میں سیر حاصل گفتگو ہو چکی ہے ا لبتہ 16 جولائی 2020 کے کالم ;34; نیا متبادل;34; میں اُنہوں نے قائداعظم کے دست راست لیاقت علی خان کے خلاف غیر معتبر ذراءع کے حوالے سے انتہائی بےہودہ الزامات لگائے ہیں ۔ اُن کا یہ فرمانا کہ قائداعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خان کو احتساب کا شوق چرایا تو اُنہوں نے اگست 1949 میں عوامی نمائندوں کی نا اہلی کےلئے پروڈا کا قانون نافذ کر دیا ۔ اِس قانون کے ذریعے اُنہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ ، سندھ کے وزیر اعلیٰ پیر الہی بخش اور تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرنے والے حسین شہید سہروردی کے خلاف مختلف مقدمات قائم کر دئیے ۔ پروڈا کا قانون پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی ملک سے کرپشن بدعنوانی اور بدانتظامی ختم کرنے کےلئے بنایا گیا تھا ۔ پاکستان کو 1956 کا پہلا ;200;ئین دینے والے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب ظہورِ پاکستان میں پروڈا کے بارے میں لکھا ہے : ;3484;he ;65;ct provided that any person found guilty of misconduct in any matter relating to his office as minister, deputy minister, or parliamentary secretary of the federal or provincial government , or as a member of central or provincial legislature, might be disqualified from holding any public office for a period not exceeding ten years by an order of the ;71;overnor ;71;eneral;46; ;84;he tribunal appointed to try cases under this ;65;ct was to consist of two or more ;74;udges of ;72;igh ;67;ourt;46; ;84;he ;71;overnor ;71;eneral was to exercise his powers under this ;65;ct not on the advice of cabinet but in his personal judgement;46464680;ir ;73;lahi ;66;akhsh came under trouble as the five editors of ;75;arachi dailies simultaneously published an indicment against him headed, ;3480;ir ;73;llahi ;66;ukhsh must go;3446;

جہاں تک حسین شہید سہروردی کا تعلق ہے اُن کے خلاف پروڈا کے حوالے سے کوئی کاروائی ریکارڈ پر موجود نہیں ہے ۔ حسین شہید سہروردی کا تحریک پاکستان میں کوئی قابل ذکر کردار نہیں ہے ۔ اُن کی سیاست میں ;200;مد کانگریس کی ایک ذیلی جماعت سوراج پارٹی کے حوالے سے 1924 میں ہوئی تھی بعد میں سوراج پارٹی چھوڑ کر 1936 میں اُنہوں نے بنگال مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اُنہیں قائداعظم نے 1946 کے انتخابات کے بعد بنگال کا چیف منسٹر بنوایا تھا لیکن جب تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت بنگال کی تقسیم کی بات ;200;ئی تو حسین شہید سہروردی نے اپریل 1947 میں کانگریس پارٹی کے گاندہی جی کی سرپرستی میں بنگال کی تقسیم روکنے کےلئے پورا زور لگا دیا ، چنانچہ قیام پاکستان سے قبل 5 اگست 1947 کو قائداعظم کے حکم پر اُن کی مسلم لیگ کی رکنیت ختم کر دی گئی ۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے بھارتی تربیت یافتہ دہشت گردوں نے بنگالی زبان بولنے والے پاکستان کے وفادار ہزاروں شہریوں کو جس سفاکانہ انداز سے ختم کیا اِس کا اندازہ مشرقی پاکستان سے سابق ممبر قومی اسمبلی مولوی فرید احمد کے بہیمانہ قتل سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ایاز ظہیر ہاشمی نے اپنی کتاب مولوی فرید احمد کی ڈائری میں لکھا ہے :;34; مولوی فرید احمد نے 26 دسمبر کی صبح اِس انداز میں کلمہ شہادت ادا کیا کہ اُن کی ;200;نکھیں نکال لی گئیں ، اُن کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی وہ کلمہ شہادت پڑھتے رہے ، اُن کا ہاتھ کاٹ دیا گیا وہ کلمہ شہادت پڑھتے رہے اور اُن کے منہ سے ;200;خری وقت تک پاکستان زندہ باد کے لفظ نکلتے رہے حتیٰ کہ اُن کی زبان کاٹ دی گئی ،پاکستان زندہ باد، سلام مولوی فرید احمد ۔ اِن گزارشات کے بعد سوال یہی ہے کہ کیا بیرونی ایجنسیوں کے اِس طوفان بدتمیزی میں ہمارے ادارے بانیانِ پاکستان کی حرمت کا تحفظ کر پائیں گے ۔ اندریں حالات، حامد کی میر کی خدمت میں علامہ اقبال کے چند اشعار ہی پیش کئے جا سکتے ہیں :

جن کو ;200;تا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو

نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو

بجلیاں جس میں ہوں ;200;سودہ وہ خرمن تم ہو

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو