- الإعلانات -

وطن عزیز کیخلاف بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیاں

کورونا وباء میں ممکنہ کمی، لاک ڈاوَن کھولے جانے، معاشی و تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی وجہ سے وطن عزیز تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے ۔ سی پیک منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور آئندہ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات بھی بہت ہیں ۔ اسی لئے جلد ہی خوشی اور ترقی کا دور آنے والاہے جو ہمارے ازلی دشمن بھارت کو منظور نہیں ۔ چین سے لڑائی میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت، چین کا لداخ پر قبضہ اور خطے میں شکست سے شرمندگی اور ہزیمت نے بھارتی حکومت و فوج کو پوری دنیا میں ذلیل و رسوا کر دیا ہے ۔ بھارت چین کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا ۔ وہ پاکستان سے اپنی شکست اور شرمندگی کا بدلہ لینا چاہتا ہے جو براہ راست لڑ کر نہیں لے سکتا ۔ لہذا عیار و مکار دشمن دوسروں کو ساتھ ملا کر وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ اس کےلئے بھارتی را نے اپنے ساتھ این ڈی ایس، بی این اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو ساتھ ملایا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل بلوچستان سے گرفتار بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کوبھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کا نیٹ ورک پنجاب تک پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا تھا ۔ ’’را‘‘ کی اعلیٰ کمانڈ پنجاب میں تخریب کاری شروع کرنا چاہتی تھی تاکہ خطے میں بھارت کے توسیعی عزائم میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے ۔ یادیو نے بلوچستان میں درجنوں مقامی دہشت گردوں کی مدد سے نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا اسی طرح کراچی میں بھی دہشت گردانہ حملوں کےلئے 100سے زائد سلیپر یونٹس قائم کر رکھے تھے ۔ یادیو کراچی واٹر بورڈ کے سلیپر سیلز کو فنڈز کے علاوہ تربیت کےلئے مدد کرتا تھا ۔ کراچی اور بلوچستان میں نیٹ ورک چلانے کے ساتھ اس ایجنٹ کے پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں کالعدم مذہبی تنظیموں اور جرائم پیشہ گینگ کے ارکان کے ساتھ رابطے تھے ۔ ’’را‘‘ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے اپنے ایجنٹوں کی تربیت کیلئے جنوبی افریقہ، ملائشیا، بنکاک اور دبئی میں سہولیات کا انتظام کیا تھا ۔ ان ایجنٹوں کو بسنت پور، دہرادھن، جودھپور، راجستھان، فرید پور، کولکتہ اور دیگر بھارتی علاقوں میں جدید اسلحہ کی تربیت دی تھی ۔ تربیت دینے والوں میں ’’را‘‘ آفس کا میجر بھی شامل ہوتا تھا ۔ خدشہ ہے کہ را اور این ڈی ایس کے دہشت گرد ٹی ٹی پی ، بی ایل اے ، حرکت الانصار ، مجید برج گروپ کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر سکتے ہیں ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ را کے سلیپنگ سیلز نئے سرے سے متحرک ہو چکے ہیں ۔ پاکستان مخالف دہشت گرد گروپوں اور پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جہادی تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کا خطرہ ہے ۔ کراچی میں ایک بار پھر بدامنی کیلئے را نے کالعدم تنظیموں اور عسکری ونگز رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کے بچے کچھے نیٹ ورک کو متحریک کر دیا ہے ۔ را نے نہ صرف ایک بار پھر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ تیز کرانے کا ٹاسک اپنے کارندوں کو دے دیا ہے بلکہ وہ پاکستان کے بڑے شہروں میں سکولوں ، اہم عمارتوں اورعوامی مقامات پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نے حساس اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ’’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستانی اداروں نے حاصل کر لئے ہیں ۔ ’’را‘‘ اورافغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے ۔ افغانستان میں موجود ’’را‘‘ کے حکام ان دہشتگردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کےلئے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی تحریک آزادی اور سی پیک پر تیزی سے جاری کام کو روکنے کیلئے را اور امریکی سی آئی اے نے مل کر بھارت میں پارلیمنٹ پر حملے یا ممبئی حملوں جیسا واقعہ دوبارہ کرانے کیلئے پلاننگ شروع کر دی ہے ۔ تاکہ اس کی آڑ میں سرحدوں پر کشیدگی پیدا کر کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف پاکستانی فوج کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔ ممکنہ دہشت گردی کی انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد قومی سلامتی کے ادارے چوکس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان میں پلاننگ کے تحت را نے پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یو این او کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے شہرقندھار میں بھارت کے 65 قونصل خانے جس میں اسرائیلی ، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشتگردوں کوٹریننگ دے کر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھیج کر دہشتگردی کے واقعات کرواتے ہیں جس سے اب تک سینکڑوں معصوم لوگ بم دھماکوں ، خودکش حملوں میں اپنی زندگی گنوا بیٹھے جبکہ پولیس فورس اور پاک فوج کے جوان بھی شہید ہوئے ۔ بھارت اور داعش کا تعلق کافی پرانا ہے ۔ افغانستان میں قدم جمانے کے بعد بھارت نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی کی ہے ۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان دیگر چھوٹی بڑی تنظیموں اور داعش کو ملا کر افغانستان میں ایک طاقتور پاکستان دشمن اتحاد وجود میں لایا جائے ۔ بھارت افغانستان میں پاکستان دشمن تنظیموں کے علاوہ داعش کی بھی حمایت کررہا ہے کیونکہ داعش افغان طالبان سے نبردآزما ہے ۔ وجہ یہ کہ بھارت کو علم ہے، اگر افغان طالبان برسراقتدار آگئے، تو وہ بھارت کو منہ بھی نہیں لگائیں گے ۔ اسی لیے وہ افغان حکومت کو کھلے عام اسلحہ اور ڈالر دیتا ہے تاکہ افغان طالبان کا قلع قمع ہوسکے ۔ دنیا بھر میں خلافت قائم کرنے کی دعویدار‘ داعش کے کارکن جعلی ویزوں پر افغانستان یا ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ پھر مذہبی رجحان رکھنے والے نوجوان تلاش کرتے اور ان کی برین واشنگ کرکے انہیں داعش میں شامل کرلیتے ہیں ۔ یہ نوجوان پھر اندرون و بیرون پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔