- الإعلانات -

سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آبادتجھے

اہل وطن کو یوم آزادی مبارک ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج وہ خوش قسمت، خوش نصیب اورمبارک دن ہے جس دن وطن عزیز پاکستان کاوجوددنیا کے نقشے میں آیا اور قائداعظم محمدعلی جناح کی ولولہ انگیزقیادت میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی قوت بنا ۔ آج ہم آزادی کی نعمت سے مالا مال اس دھرتی پر خوش وخرم زندگی بسر کررہے ہیں ، آزادی اورغلامی کی خوشیوں ا ورسختیوں کی قدران لوگوں سے پوچھئے جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے بھارت کے لاک ڈاءون ،محاصرے اورظلم وتشدد کاسامنا کررہے ہیں ۔ آئیے اپنی آزادی کی قدر کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سمیت تمام محکوم علاقوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت اور دعاکریں ۔ مقبوضہ وادی میں اٹھنے والی آزادی کی جدوجہد اب دنیا بھر میں ایک مثال بن چکی ہے ۔ آزادی حاصل کرنے سے لیکر آج تک ہمارے پاکستان کے بسنے والے لوگو ں کے ذہنوں میں ایک آزاد وطن کی شمع تو جل چکی تھی اور ہم ایک آزاد ملک میں اپنی مرضی کی زندگیاں بھی گزارنے لگے تھے مگر ہ میں صرف پاکستان ہی نہیں چاہیے تھا ہمار ے مسلمان بہن بھائی جو کشمیر میں بھی موجود تھے ہ میں ان کو بھی آزادی کی ان خوشیوں میں شامل کرنا تھا ۔ آج ہم اس ملک خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آزاد ہونے کی خوشیاں منارہے ہیں لیکن ایک بات جو یا درکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ آزادی کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ہر فرد اپنے نظریات اور جائز خواہشات کے مطابق زندگی کو بسر کرسکے بلکہ آزادی کا مقصد یہ بھی ہے کہ اس آزاد ملک میں رہتے ہوئے وہ شخص اس آزادی سمیت اپنے افکار و نظریات اور فلسفے کی حفاظت بھی کرسکے کیونکہ دنیا میں ہمارے سامنے بے شمار ایسے ممالک بھی موجود ہیں جو اپنی جدوجہد سے آزادتو ہوئے مگر اپنی لاپرواہیوں اور آزادی کی قدر نہ کرنے کے باعث ایک بار پھر سے بکھر گئے ۔ اس آزادی کو قائم ودائم رکھنے میں جہاں ہماری باشعور قوم کا ایک بڑا ہاتھ ہے وہاں ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنی افواج پاکستان کو جن کی وجہ سے دشمن کی مسلسل چالیں ناکام ہوتی چلی جار ہی ہیں ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے فوجی جوانوں کو جو نہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کررہے ہیں بلکہ یہ جوان کشمیر کی آزادی کےلئے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ۔ آج اللہ رب العزت کا خاص کرم ہے ،جتنا ہی ہ میں پیارا نعمتوں سے بھرا ملک ملا ہے اتنی ہی لازوال قربانیاں ہمارے بزرگوں اور آباءو اجداد نے دی ہیں ۔ تب جا کر ہ میں اتنا پیارا ملک اور آزادی ملی ہے ۔ ہ میں بزرگوں کی ان گنت قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے ۔ ان کے افکار ،کردار ،حوصلہ ،ہمت اور غیرت کو ہمیشہ فالو کرنا چاہیے اور اسی جذبہ کو آمدہ نسلوں میں منتقل کرنا چاہیے ۔ تبھی جا کر کامیابیاں ،کامرانیاں اور منزلیں ہمارے قدم چو میں گی اور حقیقی مقصد بھی پورا ہوگا ۔ ہ میں صرف بنیاد میں ایمان ،یقین ، اتحاد ،اتفاق ،دیانت داری ،مخلصی کےلئے ہر ایک کو پیش کرنا ہوگا تبھی جا کر اللہ کا شکر ادا ہوگا اور ہم اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہوں گے ۔ اگر کسی بھی عمارت کی بنیاد جتنی مضبوط ہوگی ،اتنی ہی وہ عمارت مضبوط ہوگی ۔ ہمارے قائد محترم قائد اعظم اور علامہ اقبال نے ہ میں اتنی مضبوط بنیادوں پر بنا مضبوط ملک دیا جو ساری دنیا میں ماندہ ملک ہے اور جس میں موجودہ قوم صلاحیتوں کا منبہ ہیں اور ان کے پاس جو کردار ہیں وہ قیامت تک ایک ماندہ کردار ہیں ۔ صرف ہ میں عملاً کوشش کرنی ہوگی بزرگوں کے فلسفہ کردار پر عمل کرنا ہوگا ۔ یہ امر نہایت ہی ضروری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نئی نسل کو قیام پاکستان کے حوالے سے اِس کی المناک داستانوں ، جگر خراش واقعات اور جاں گداز حالات کے پس منظر میں اس کے وہ اہداف و مقاصد بھی مکمل طرح بیان کریں کہ جن کی بنیاد پر ہمارے اکابرین نے آگ و خون کے دریا عبور کرکے حصولِ پاکستان کی نعمت یقینی بنایا اور ہ میں ایک الگ خطہ ، ایک علیحدہ ملک اور ایک جدا گانہ مملکت کا نہایت ہی گراں قدر تحفہ پیش فرمایا تاکہ کہیں وہ اس کی پیش منظر رونقوں ، سجاوٹوں ،آسائشوں ، آرائشوں اور زیبائیوں میں گم ہوکر اِس کے پس منظر کی لہو رنگ تاریخ ساز داستان کا انکار کرکے اس کے ڈھانچے سے اس کی رُوح کوہی عنقاء نہ کردیں ۔

وزیراعظم کانوٹس،آٹے کے نرخ یکساں رکھنے کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اوراس کے نتیجے میں عوام کی پریشانی کانوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کےلئے فوری حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خود ہرہفتے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کاجائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیاہے ۔ وزیراعظم نے خصوصی طورپرآٹے کی قیمت میں اضافے اورچاروں صوبوں میں اس کے مختلف نرخوں کابھی سختی سے نوٹس لیاہے ۔ بلاشبہ مہنگائی عروج پر ہے صرف آٹا ہی نہیں ضرورت کی تمام اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہرہوتی جارہی ہے ۔ وزیراعظم کو نہ صرف اس کا ادراک ہے بلکہ ہراجلاس میں عام آدمی کی فکر کرتے ہوئے وزراء ،مشیروں اورانتظامیہ کو باربارباورکرتے ہیں کہ وہ غریبوں کاخاص خیال رکھیں مگر وزیراعظم کے احکامات پرعملدرآمدنہ ہونے سے عام آدمی پریشانی کی حالت میں مبتلا ہے اوراس کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔ گزشتہ روز اسی سلسلے میں وزیراعظم کی زیر صدارت مہنگائی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ غریبوں کے بارے میں سوچا جبکہ ماضی میں صرف اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا گیا تھا ۔ اس وقت ہماری حکومت کو مہنگائی کا چیلنج درپیش ہے، وزیراعظم ہر ہفتے پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہیں جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ افسران شریک ہوتے ہیں ۔ اشیا کی قیمتوں میں کمی تو ;200;ئی ہے لیکن یہ کمی وزیراعظم کے ہدف پر پورا نہیں اترتی، ;200;ٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی انتہائی ضروری ہے ۔ یہ تو حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ عام آدمی کی فلاح کے لئے اقدامات کرے مگر کوروناوائرس کی وباء کے باعث معیشت کوشدیددھچکا لگا جس کے باوجود وزیراعظم کی کوشش ہے کہ عوام کوریلیف فراہم کیاجائے ۔

سائبرحملے کی ناکامی ،بھارت کے منہ پرایک اورطمانچہ

بھارت کی شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان کوکسی صورت نہ پنپنے دیاجائے اوراس نے شروع سے ہی وطن عزیز کو تسلیم نہیں کیا اس کی تمام تر سازشوں اورمکاریوں کے باوجود جب پاکستان قائم ودائم اوردنیاکی سب سے بڑی اسلامی مملکت بن گیا تواس نے اسے توڑنے اورنقصان پہنچانے کی سخت توڑکوششیں کیں ۔ بنگلہ دیش جس کانتیجہ ہے موجودہ دور میں بھارت کے وزیراعظم مودی نے سرعام نہ صرف تسلیم کیابلکہ اعلان کیاکہ ہم پاکستان کے خلاف سازشیں ہی نہیں بلکہ اسے نقصان پہنچانے کےلئے تمام حربے استعمال کریں گے اس سلسلے میں پاکستان کا ازلی دشمن روایتی طریقوں کے علاوہ سائبرحملوں پربھی اترآیاہے لیکن الحمداللہ پاکستان کی ایجنسیوں اورمسلح افواج چوکس اورچوکناہے جواس کے ہرحربے کوناکام بنارہی ہے ۔ گزشتہ روز بھی حساس اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے سائبر اٹیک کا سراغ لگاکر اسے ناکام بنا دیا ہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے اعلیٰ حکومتی اور فوجی افسران کے موبائل اور آلات ہیک کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے ۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق دشمن کے اہداف کی تحقیقات، سائبر سیکورٹی ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں ،بھارتی خفیہ ادارے سرکاری اور دفاعی حکام کے موبائل اور آلات ہیک کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے ۔ جس کے بعد متعدد سائبر کرائم کیے جانے والے تھے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی سائبر حملوں میں ذاتی موبائل فونز کی ہیکنک کررہی تھی ۔ جن میں اعلیٰ حکومتی، فوجی افسران کے موبائل، ٹیکنیکل گیجٹس کی ہیکنک شامل تھی ۔ دشمن انٹیلی جنس ایجنسی کے اہداف کی تحقیقات کی جارہی ہیں ، پاک آرمی نے ایسی سرگرمیوں کو ناکام بنانے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے ہیں ۔ اس سے قبل رواں سال 3 جون کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت کےلئے جواب ہے کہ ہم تیار ہیں ، بھرپور طاقت سے جواب دیں گے ۔