- الإعلانات -

شجر کاری کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کا وژن

روزنامہ پاکستان نے شجر کاری کے حوالے سے اپنے اداریے میں لکھا ہے کے شجرکاری مہم عوامی مفاد، ملکی خوبصورتی اور ماحولیاتی تبدیلی کا منصوبہ ہے شجرکاری مہم میں پوری قوم بھرپور شرکت کرے اور ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دے ۔ قومی منصوبے ہمیشہ قوموں کی مدد سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں درخت لگانے سے ماحولیاتی آلودگی اور سانس کی بیماریوں میں کمی آئے گی، درخت ماحول کی خوبصورتی کا اہم جز ہوتا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم اپنے اپنے گھروں ، پارکس، مین شاہراہوں سمیت مختلف مقامات پر پودے لگائے، یہ ایک تاریخی شجرکاری مہم شروع ہوئی ہے جو کہ گرین پاکستان کی جانب پہلا قدم ہے اور اس مہم میں عوام بھرپور طریقے سے وفاقی حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ اس سے ایک صحت مند اور پرفضا ماحول پیدا ہوگا جوکہ ہماری جسمانی صحت اور نشوونما کےلئے بہت ضروری ہے، ملک کی سب سے بڑی شجرکاری مہم موجودہ حکومت کا عظیم کارنامہ ہے، وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے کہ عوام کو ایک بہتر اور صحت افزا ء ماحول فراہم کرنے کےلئے حکومت بھرپور اقدامات کریگی ۔ درخت موسمی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں ، پاکستان کے جن شہروں میں درختوں کی کمی ہے وہاں موسم نہایت گرم ہوتاہے جبکہ جن مقامات پر درختوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں نہ صرف موسم خوشگوار رہتا ہے بلکہ وہاں دھول مٹی بھی نہیں ہوتی اور ماحول بھی نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے ۔ اخبار آگے چل کر وزیراعظم کی شجرکاری کی مہم کے بارے میں لکھتا ہے وزیر اعظم عمران خان نے ملک گیر شجر کاری مہم 2020 کا افتتاح کر دیا ہے یوم ٹائیگر کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہو ئی جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں ایک ملین ٹن کی کمی ہوئی ہے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے ۔ ٹائیگر فورس نے ایک دن میں 35 لاکھ درخت لگائے یہ پاکستان میں ریکارڈ ہے جبکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو ہرا کرنے کی پوری کوشش کریں اور جہاں کوئی خالی جگہ دیکھیں وہاں درخت لگائیں درخت لگانا آنے والی نسلوں کیلئے جہاد کا درجہ رکھتاہے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان کا نمبر 8واں نمبرہے،اللہ نے ہ میں یہ طاقت دی ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی سے نمٹ سکتے ہیں ۔ اس خصوصی مہم کا صوبہ پنجاب اور خیبر پی کے میں باضابطہ آغاز کردیا گیا ہے جبکہ اس میں غیر ملکی سفراء نے بھی حصہ لیا ۔ اسلام آباد میں موجود کینیڈا کی ہائی کمشنر، ترک سفیر مصطفی یرداکل، یمن کے سفیر ایم الشابی، چین کے سفیر یاءو جنگ اور آذر بائیجان کے سفیر علی علیزادہ نے اپنے اپنے سفارتخانوں میں پودا لگا کر مہم میں حصہ لیاوزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اگر ضروری اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کے کئی علاقے ریگستان بن جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ موسم کی تبدیلی کے باعث دو برسوں کے دوران گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے دریاءوں کی صفائی‘ بند بنانے اور خالی جگہوں پر درخت لگانے کی ہدایت کی ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے سمندر اور منجمد خطوں کو اس دور میں جتنا نقصانپہنچ رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ اقوام متحدہ کے سائنسدانوں کے ایک پینل کا کہنا ہے کہ سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے، برف پگھل رہی ہے اور انسانی سرگرمیاں بڑھ جانے سے جنگلی حیات اپنے مسکن تبدیل کرنے پر مجبور ہے ۔ مستقل طور پر منجمد خطوں کے پگھلنے سے زیادہ کاربن ڈائی آکساءڈ گیس کے اخراج کا خطرہ ہے جس سے یہ عمل تیز سے تیز تر ہوتا جائے گا ۔ سائنسدانوں نے گذشتہ رپورٹوں میں اس بات کا جائزہ لیا تھا کہ اگر دنیا کا درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے تو اس کا کیا اثر پڑے گا اور دنیا اس سے کیسے نمٹ سکے گی ۔ انھوں نے رپورٹ میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے زمین پر پڑنے والے اثرات کی تفصیل سے وضاحت کی تھی ۔ تاہم یہ رپورٹ جس میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے سمندروں اور منجمد خطوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا سب سے زیادہ مایوس کن اور خطرناک ہے ۔ سمندروں کا پانی گرم سے گرم تر ہو رہا ہے، اس کے اثرات دنیا میں بسنے والی ہر مخلوق پر پڑیں گے ۔ نیلگوں سیارہ اس وقت حقیقی خطرات سے دوچار ہے جن کی سنگینی مختلف نوعیت کی ہے اور سب خطرات انسان کے پیدا کردہ ہیں ۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونےوالی حدت کا نوے فیصد سمندر کے پانیوں نے جذب کر لیا ہے اور سمندر کا پانی جس رفتار سے گرم ہوا ہے وہ سنہ 1993 کے بعد سے دگنی ہو گئی ہے ۔ سمندر کی سطح اب گرین لینڈ اور قطب جنوبی پر جمی برف کی تہہ پگھلنے سے بلند ہو رہی ہے ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر جمی برف اس سے پہلے کے دس سالوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ رفتار سے پگھلی ہے ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا انتہائی نتیجہ سیلاب اور قحط سالی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے ۔ عالمی بنک کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی‘ پینے کے صاف پانی کی ناکافی فراہمی‘ شور کی آلودگی اور شہری علاقوں میں آلودگی کے باعث آبادی کو بیماریوں کے خطرات بھی موسمی تبدیلی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے لئے ہوائی جہازوں کی جگہ ریل گاڑی پر سفر کو رواج دیا جائے ۔ شہری کاروں اور موٹر سائیکلوں کی جگہ سائیکل کی سواری کو رواج دیں تاکہ پٹرول کے کیمیائی اجزا ہوا میں شامل نہ ہوں ۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں تھرمل کی جگہ شمسی اور ہوائی بجلی پیدا کرنے پر توجہ دیں ۔ سب سے اہم اور موثر تدبیر شجر کاری ہے جس پر وزیر اعظم خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں تاہم اس سلسلے میں چند روز قبل ضلع خیبر میں رونما واقعہ نے شجر کاری مہم کے لئے کچھ نئے ایس او پیز کی ضرورت اجاگر کی ہے ۔ ان معاملات کو جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور شعور کی بیداری کے ساتھ بروئے عمل لایا جائے تو پاکستان کو ریگستان بننے سے بچایا جا سکتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کا ہی نہیں عالمی برادری کا مسئلہ بن چکا ہے‘ امیر ممالک عالمی درجہ حرارت کے تعین اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے فیصلے کر رہے ہیں ۔ پاکستان اور اس جیسے ترقی پزیر ممالک نے وقت ضائع کئے بغیر خرابی کو روکنے کا چارہ نہ کیا تو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔