- الإعلانات -

شجر کاری اور موسمیاتی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر ہے کہ خطہ اراضی گرم سے گرم ترہوتا جا رہا ہے ۔ موسم کی سختی بڑھ رہی ہے اورحالات بدل رہے ہیں ۔ بلکہ ہمارے حالات تلخ سے تلخ تر ہو رہے ہیں ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے ;200;گے بند نہ باندھاگیا تو زندگی تلخ ہوجائے گی ۔ ہمارے ملک کی معیشت و معاشرت کمزور ہونے کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ کم علمی وغربت کی وجہ سے ہم اپنے ماحول کو خراب سے خراب ترکرانے میں سرگرم ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلی کی کچھ وجہ تو قدرتی ہوگی اور کچھ وجوہات کے ذمہ دار ہم انسان ہوں گے ۔ اگر ہم نے اپنی زمین سے درختوں کو اپنی ضرورت کے لیے اکھاڑ کر انہیں جلاتے ہیں ان سے فرنیچر وغیرہ تیار کرتے ہیں ۔ تو اس طرح ہم درخت کاٹ کر اپنی زمین کو بنجر اوراپنے موسم کو سخت بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ درخت زمین کا حسن اور ہماری بنیادی ضرورت ہیں ۔ یہ ہماری فضا کو صاف کرتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت کی ;200;کسیجن پیدا کرتے ہیں ۔ درخت ہ میں سایہ اور چھاوں دے کر ہماری زندگی ;200;سان اور پرسکون بناتے ہیں ۔ درخت جتنے زیادہ ہوں گے موسم اتنا خوشگوار ہوگا اور درخت ہی بارشوں کا سبب بنتے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے موسمیاتی تبدیلی پر جس تفکروپریشانی کا اظہار کیا ہے ۔ یہ سوچ کسی سیاستدان کی ہو ہی نہیں سکتی ۔ عمران خان نے اس موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے ملک میں اربوں درخت لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ درخت نہ لگائے گئے تو نہ صرف ہماری زندگی تلخ یعنی گرمی بڑھ جائے گی بلکہ ہمارے پہاڑوں پر پڑی برف کے ذخائر ختم ہو جائیں گے ۔ اس طرح ہماری سرزمین پانی کے بحران سے دوچار ہوجائے گی ۔ ہماراخطہ صحرا میں تبدیل ہو جائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اگست کے پہلے ہفتے میں درخت لگانے کی ملک گیر مہم چلائی ۔ مگر ڈسٹرکٹ خیبر صوبہ خیبرپختونخوا میں کچھ لوگوں نے شجرکاری کے لیے درختوں کو کاٹ پھینکا اور سیاہ جھنڈوں والے لوگوں نے حکومتی منصوبے کو تہہ بالہ کردیا ۔ فسادیوں نے قیمتی درختوں کو کاٹ کر حکومتی رٹ کو چیلنج کیا اور ہماراپیارا میڈیا اس ساری غنڈہ گردی کی فلم کو دنیا بھر میں دیکھا کر قوم کی جہالت کی تصویر پیش کرتا رہا ۔ یقینا اس فسادیوں کے گروہ کے خلاف حکام مقدمات بھی درج کرائیں گے اور ان فسادیوں کے مقدمات کو منطقی انجام تک بھی پہنچانا حکام کا قومی فریضہ ہوگا ۔ قوم ان جیسے فسادیوں کی حوصلہ شکنی چاہے گی ۔ اگر فسادی عناصر سے ;200;ہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا ۔ تو یہ لوگ قومی املاک کو نقصان بلکہ دشمن ایسے افراد کو خرید کر کے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کرے گا ۔ عمران خان نے سابق حکمرانوں کی طرح پودا بھی لگایا تقریب سے بھی خطاب کیا بڑے بڑے اعلیٰ وبالا افسران بھی اس تقریب میں شریک ہوئے ۔ عمران خان نے شرکا سے خطاب کے دوران وزیر ماحولیات اور امین اسلم خان کی کاوشوں کو سراہا یقینا شجرکاری قومی ضرورت ہے ۔ اس سے ماحول میں بہتری ;200;ئے گی ۔ لیکن عموماً ایسی تقریب وپروگرام کاغذی وفرضی ہوتے ہیں ۔ عمران خان افتتاح ہوتے رہے ہیں ۔ تختیاں لگتی رہی ہیں ۔ مگربیوروکریسی حکمرانوں کو بے وقوف بنا کرکاغذی پروگرام چلا کر قوم سے مذاق کرتی رہتی ہے ۔ اگر ;200;پ نے شجرکاری سے نتاءج حاصل کرنے ہیں ۔ اگر شجرکاری کوقوم وملک کے لیے مفید بنانا ہے تو ملک میں ہونے والی شجرکاری کی اگلے سال رپورٹ لیں نتاءج ٹھیک اورحوصلہ افزاہوں تو پھر ماتحت ٹیم کو مبارک دیں ورنہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں ۔ عموماً وزیراعظم ہاوَس،اسلام ;200;باد، شکرپڑیاں اور صدر ہاس وغیرہ میں شجر کاری ہوتی ہے ۔ ملک بھر میں شجرکاری کی مہم نہیں چلتی جس کی وجہ سے نتاءج بہتربرآمدنہیں ہو،جس طرح حکمران سالانہ لاکھوں پودے لگانے کے دعوے کرتے ہیں اگر ان دعووں کے مطابق شجرکاری ہوتی تو ;200;ج پاکستان میں افریقہ سے زیادہ جنگلات ودرخت ہوتے اورپاکستان کا موسم بھی بہتر ہو چکا ہوتا ۔ بلکہ شجرکاری کے مقابلے میں جس رفتارسےدرختوں کو کاٹا جارہا ہے پاکستان کا موسم دن بدن پہلے سے خراب اور سخت ہوتا جا رہا ہے ۔ کوئی ادارہ اور قومی محکمہ خرابی اور برائی کےخلاف بند بندھنے کو تیار ہی نہ ہے ۔ بلکہ ذمہ دار اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر درخت کی اس شاخ کو کاٹتے میں مصروف ہیں جن پر وہ سوار ہیں ۔ عمران خان ;200;پ بھی پرانے حکمرانوں کی طرح چاپلوسوں میں گھر چکے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ;200;پ کرپٹ نہیں مگر یہ بھی درست ہے کہ ;200;پ کے ;200;س پاس کے لوگوں نے آپ رابطہ وناطہ عوام سے منقطع رکھا ہے جسکی وجہ سے ;200;پ کو عوام کے مسائل و مشکلات سے ;200;گاہی نہ ہے اور نہ ہی عوام کے لیے مشکلات و مسائل پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کےلئے ;200;پ کی رہنمائی کی جاتی ہے ۔ ;200;پ کے حلقہ میانوالی میں دلیوالی اڈہ پر چند نوجوانوں نے کچے جھونپڑے بنا کر اپنی غریبانہ روزی روٹی کا بندوبست کر رکھا تھا ۔ جنہیں بلاضرورت اور بلاوجہ گراکرڈپٹی کمشنر میانوالی نے دلیوالی کی مزدورشعیب شاہ کو خود کشی پر مجبور کر دیا تھا ۔ ایسے مسائل ملک بھر میں انتظامی افسران کھڑے کرکے کئی شعیبوں کو جان کی بازی لگا دینے پر مجبور کر دیتے ہیں اور ;200;پ کی طرح حکمران لاعلم رہتے ہیں ۔ کیادلیوالی اڈہ پر جھونپڑی گراکرکوئی ترقیاتی منصوبہ بنانا تھا اگر ایسا کوئی منصوبہ نہ تھا تو غریبوں کی جھونپڑیوں گرانے کا ڈی سی نے حکم کیوں دیا تھا ۔