- الإعلانات -

بھارتی عوام کو ضرور سوال کرنا چاہیے

دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج خالق کائنات نے اتارا نہ ہو، کینسر، ایڈز، کرونا وائرس کی طرح ہندوتوا بھی ایک شدید قسم کا مرض ہے اور جسے یہ لاحق ہوجائے تو وہ اسلام دشمنی و پاکستان دشمنی میں جل جل خود ہی گھستا رہتا ہے آج کل بھارت اس وبا کی لپیٹ میں ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی اپنی پیشین گوئیوں میں اور عالمی ماہرین مختلف موقعوں پر اس کا علاج بھی تجویز کرچکے ہیں جس کے پیش نظر ہندوتوا کا بچہ بچہ پاک آرمی کے نام سے نہ صرف خوف میں مبتلا رہتا ہے بلکہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوے ہیں کہ کسی بھی طرح سے پاک فوج کو کمزور کردیا جائے، ایسی ہی ایک مذموم کوشش سابق بھارتی فوجی افسر میجر گورو آریا نے بھی کی اور نتیجہ وہی مایوسی کی صورت برآمد ہوا ۔ میجر گورو آریا اس سے پہلے پاک افواج پر دہشتگردانہ حملوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسندوں سے اظہار یکجہتی بھی کرچکے ہیں ، حال ہی میں بھارتی میجر صاحب نے اپنے یوٹیوب چینل کے زریعے پاکستانیوں سے خطاب فرمایا جس میں پورے زور لگا کر افواج پاکستان سے بغض و عناد کا کھل کر اظہار کیا اور پاکستانی عوام کو اکسانے کی کوشش کی جوکہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، یوں تو بھارت میں ;7367678082; کے آرٹیکل 19 اور 20 کی خلاف ورزی معمول کی بات ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں بیگناہ مسلمان و عیسائی جان سے جاچکے اور دہلی مسلم نسل کشی کا واقعہ بھی رونما ہوچکا ہے لیکن اب بھارتی میجر براہ راست پاکستانیوں کو تشدد و فساد کے لیے اکساتے رہے جس پر عالمی اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے میجر گورو آریا نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج اپنے شہریوں میں بھارت کے خلاف نفرتیں ابھارتی ہے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے اس کے علاوہ نریندر مودی نے پروگرام من کی بات میں یوم کارگل کے موقع پر بات کرتے ہوے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جس کی حقیقت ہندوتوا کی پاکستان و پاک فوج دشمنی سے زیادہ نہیں ۔ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا، ریاست جوناگڑھ کے معاملے پر تو بھارت نے درخواست کی کہ آبادی کی خواہش کے مطابق انضمام کا فیصلہ کیا جائے لیکن کشمیر کے معاملے میں ہمیشہ دھوکہ و مکاری سے کام لیا، اس کے باوجود پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات کا خواہاں رہا جس کا ثبوت 1962 کی ہند چین جنگ ہے کہ پاکستان نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی ورنہ اس وقت اگر اس طرف سے پاکستان حملہ آور ہوجاتا تو یقینی تھا کہ بھارت کشمیر کے ساتھ ساتھ سیون سسٹرز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا لیکن مکار بھارت نے 1965 میں رات کی تاریکی میں مذموم جارحیت کی جس میں منہ کی کھانا پڑی اور روایت کے مطابق عالمی قوتوں کا سہارا لینے بھاگ کھڑا ہوا، معاہدہ تاشقند کے بعد ایک طرف تو رام رام کرتا رہا دوسری طرف مکتی باہنی کی سرپرستی کرتا رہا اور 1971 میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا، اس کے علاوہ مشرف دور میں امن کی آشا کی آڑ میں پاکستان میں دہشت گردی کےلئے راہ ہموار کرتے رہے، زرداری نوازشریف فیوریٹ نیشن قرار دیتے رہے بدلے میں بھارت افغان سرزمین کے زریعے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا، یہ ہیں وہ بھارتی مکاریاں جو قابل نفرت ہیں جن سے لاکھوں پاکستانی براہ راست متاثر ہوے، بھارت کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ عوام نہ چاہتے ہوے بھی نفرت کرتی ہے ۔ میجر گورو آریا کے وی لاگ کے بعد اب یہ بات مخفی نہیں رہی کہ پاکستان میں پاک فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں کن کے مفادات وابستہ ہیں اور مہم چلانے والوں سے ہر خاص و عام واقف ہے، بھارتی میجر صاحب نے سابق حکمرانوں و روایتی سیاسی جماعتوں کو کلین چٹ دیتے ہوے پاکستان میں انتظامی و تعلیمی ابتری، پانی کی کمی سے لیکر لوڈشیڈنگ تک ہر مسئلے کی ذمہ داری فوج پر ڈالدی جبکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سندھ میں شہری یونیورسٹی پہ پیپلزپارٹی و متحدہ میں تین دہائیوں سے جنگی سیاست چلتی آرہی ہے، یہ بھی کھلا راز ہے کہ کراچی میں ٹینکر مافیا کو کس نے رواج دیکر عروج بخشا، پولیس کو سیاسی بنانے والے کون لوگ ہیں ، ٹھیکے کون اپنے من پسند افراد کو دیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں تک کبھی کسی بھارتی فوجی کو پاکستانی عوام کا درد نہیں جاگا لیکن اب جب پاکستان میں غیرمرئی طور پر ڈنڈا سروس جاری ہے جس کی تھوڑی تھوڑی جھلکیاں عوام تک بھی پہنچتی رہتی ہیں تو ایسے میں میجر گورو آریا کو پاکستانی عوام کا درد پنپ اٹھا جس پر موصوف کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے بھارتی عوام کی فکر کرنی چاہئے جہاں آج بچوں تک کو یہ نعرے لگانے پڑتے ہیں ;3939;چاچا چاچی سرم کرو کھلے میں ہگنا بند کرو;3939; میجر صاحب پہلے لیٹرینیں تو بنالو پھر دوسری طرف جھانکنا اور رہی بات جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کی تو یہ عام فہم بات ہے کہ چور ہمیشہ اپنے اثاثے چھپاتا ہے اور جس نے حق حلال و جائز طریقے سے اثاثے بنائے ہوں تو ظاہر کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کریگا، جنرل عاصم باجوہ نے نہ صرف اثاثے ظاہر کیے بلکہ ان کی وضاحت بھی دی کہ ان کے زیر استعمال لینڈکروزر ملٹری رول کے تحت ڈاون پیمنٹ پر لی اور کچھ زرعی زمین ان کی آبائی ہے جبکہ کچھ زرعی زمین اور ایک پلاٹ بطور فوجی ملازم ان کا استحقاق ہے اس کے علاوہ ایک دو پلاٹ انہوں نے دوران ملازمت بہت عرصہ پہلے خریدے جس وجہ سے قیمت خرید کم لکھی ہوئی ہے جیسا کہ دو دہائی قبل یفینس میں پلاٹ دو تین لاکھ روپے کا تھا ۔ یہ تو پاکستانی جنرل ہیں جو بلا خوف اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں لیکن کیا بھارتی جرنیلوں میں اتنی اخلاقی جرات ہے جو وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں جن کا وطیرہ ہی یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی موقع ملتا ہے تو ملک و قوم کو رسک پہ چھوڑ کر چائنیز کہاوت ;3939;بحران یا مشکلات میں مواقع بھی ہوتے ہیں ;3939; کے مصداق مال بنانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ کفن تک پہ مال بنایا، انڈین آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق کارگل جنگ کے دوران مقتولوں کے کفن دفن کے تابوت میں بڑا گھپلا کیا گیا جس میں ;667480; اور بھارتی فوجی افسران ملوث تھے جنہیں نریندر مودی کے دور میں کورٹ سے کلین چٹ ملنا شروع ہوئی اور دلچسپ بات یہ کہ کہا گیا کہ کرپشن اسکینڈل میں نامعلوم افراد شامل ہیں ، بہتر ہوتا اس کا الزام بھی ;738373; کے سر تھونپ دیا جاتا ۔ روایت کے مطابق حالیہ ہند چین تنازعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوے مودی سرکار اور بھارتی کرپٹ فوجی افسران نے شور مچایا کہ ہمارا دفاع مضبوط نہیں اس کے لیے بھارت کو فوری طور پر رافیل طیارے خریدنے ہونگے ورنہ چین میں بھی چائے پارٹی ہوسکتی ہے اور یوں ڈوبی ہوئی رافیل طیارہ ڈیل کو زندہ کرکے اربوں روپے پر ہاتھ صاف کر بیٹھے ۔ اس کے علاوہ ٹاٹرا ٹرک اسکینڈل، جیپ اسکینڈل، میرین ملٹری ہیلی کاپٹر اسکینڈل، آبدوز اسکینڈل چند ایسے بھارتی فوج کے شاہکار اسکینڈل ہیں جن میں بھارتی عوام کی جیبوں کو ہی نہیں کاٹا گیا بلکہ یہ وہ اہم وجہ ہے کہ آج بھی 40 فیصد سے زائد بھارتی غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں اور 70 فیصد سے زائد آبادی سوچالوں کے نہ ہونے کی وجہ سے پچھواڑے دکھانے پہ مجبور ہے، ایسے میں بھارتی عوام خود ہی لیٹرین بنالے لیکن مجبور ہے ایک تو تعلیم و شعور نہیں دوسرا سیوریج سسٹم نہیں ۔ گلوبل فائرپاور اور ;8373808273; کے مطابق گرشتہ کئی سالوں سے بھارت دفاعی بجٹ کے حساب سے دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود ایمرجنسی میں اسے رافیل خریدنے کی ضرورت پڑی جس پر بھارتی عوام کو ضرور سوال کرنا چاہیے کہ سات دہائیوں سے اتنا بجٹ کہاں خرچ ہوا ۔