- الإعلانات -

موساد فرقہ وارانہ فساد پھیلانے میں سرگرم

بھارت نے جب بھی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی اسرائیل نے ہمیشہ اس کی پشت پناہی کی ۔ اسرائیل پاکستان کو اپنی راہ میں آنے والا واحد کانٹا سمجھتا ہے ۔ عرب ممالک کو تو اسرائیل نے طاقت کے زور پر یا چکنی چپڑی باتوں سے بہلا لیا مگر اسے معلوم ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا کوئی داوَ نہ چل سکے گا ۔ اسی لئے پاکستان کو کوئی بھی نقصان پہنچانے کےلئے اسرائیل بھارت کے ہاتھ مضبوط کرتا رہتا ہے ۔ دو سال قبل بھارت نے راجستھان کے جانب سے حملے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ اطلاعات کے بعد پاکستان نے بھارتی منصوبہ بندی سے متعلق بھارت کو آگاہ کرتے ہوئے ایئراسپیس بند کردی تھی اور پاکستان کی جانب سے طیارے گرانے کے بعد واضح پیغام دیا گیا کہ حملہ ہوا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ اسرائیل کی ہمیشہ کوشش رہی ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچایا جائے ۔ پاکستان نے حال ہی میں اپنے خلاف اسرائیلی سازش کا پتہ لگایا ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام ;39;مختلف مسالک کے درمیان روابط و حسن تعامل کا لاءحہ عمل;39; کے عنوان سے منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی مذہبی امور نورالحق قادری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون رکن جعلی اکاوَنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے اور ;39;عائشہ;39; نام استعمال کر رہی ہے ۔ جو بہت اچھی عربی بولتی ہے ۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ مواد سوشل میڈیا پر بھیج دیتی ہے اور پھر آگے اہل تشیع اور سنی مکتبہ فکر کے لوگ خود سے اسے پھیلاتے ہیں ۔ اس کنونشن کا مقصد اس سازش کے ہاتھوں علمائے کرام اور عوام الناس کو استعمال ہونے سے بچانا ہے ۔ گزشتہ چار عشروں سے پاکستان کو لسانی، مذہبی، مسلکی، علاقائی بنیادوں پر عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ناکام ہوچکی ہے ۔ اب آخری کوشش اہل تشیع، سنی، بریلوی، دیوبندی ، سلفی کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی سازش ہو رہی ہے ۔ کچھ عرصے سے نوٹ کیا جارہا ہے کہ مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز گفتگو ہورہی ہے ۔ یہ سب کچھ پوری منصوبہ بندی سے ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ناسمجھ لوگ بغیر سوچے سمجھے اس کے پیچھے لگ گئے ہیں ۔ فرقہ واریت کے خاتمے کےلئے متحدہ علما بورڈ پنجاب، ملی یکجہتی کونسل، بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی نے الگ الگ کوشش کی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ان ساری کوششوں کو ایک جگہ جمع کرکے نئے قومی چارٹر کی شکل میں جمع کردیا ۔ کچھ سال پہلے مکہ مکرمہ میں آٹھ فرقوں کو اعلان مکہ میں تسلیم کیا گیا ۔ اختلاف رائے رحمت ہے جبکہ اختلاف پیدا کرنا زحمت ہے ۔ حکومت نے علمائے کرام کی مدد سے کورونا کی وبا کے سامنے بند باندھا ۔ یہ بدقسمتی ہے کہ محرم الحرام کی آمد پر انتظامی افسران علمائے کرام کو پرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں ۔ علمائے کرام کو یہ کام خود کرنا چاہیے تھا جبکہ ریاست ہر صورت اپنی رٹ برقرار رکھے گی ۔ اس وقت امت مسلمہ کو عالمی سطح پر انتہائی تشویشناک حالات کا سامنا ہے ۔ عالمی استعمار جو ممالک اسلامیہ میں انتشار اور اختلافات کے جو بیج بورہا ہے یہ ہماری اپنی نا اہلی کا نتیجہ بھی ہے اور ان کی بھی کوشش ہے کہ ان کو تقسیم در تقسیم کرکے باہم دست بہ گریباں کیا جائے ۔ سب سے پہلے عراق میں فوجی مداخلت کرکے ایک عرصے سے شیعہ سنی مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے ۔ شام میں بھی یہ عمل جاری ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے ۔ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں ایک دوسرے کا بدترین دشمن بنا دیا گیا ہے ۔ اب سعودی عرب، عرب امارات اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں ۔ قرآن کا فرمان ہے کہ یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔ یہ انتہا درجہ کا المیہ ہے ۔ پاکستان میں ہمیشہ سے شیعہ سنی اپنے اپنے مسلکی عقائد کی پیروی کرتے ہوئے پر امن طور پر مل جل زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں لیکن ایک دور میں بڑی سازش کے تحت ان کو آپس میں لڑایا گیا جس میں عالمی قوتیں ملوث تھیں ۔ بظاہر بڑی خونریزی نظر آرہی تھی جس کے پیچھے را ، اسرائیل اور امریکہ کا ہاتھ تھا ۔ پاکستان کو کمزور کرنے کےلئے یہ سب کچھ کیا گیا ۔ کبھی مسجد میں دہشتگردی کی واردات ہوتی اور کبھی امام بارگاہ میں ۔ یہ معاملہ تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا ۔ لیکن پاکستانی عوام نے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا ۔ آج بھی شیعہ سنی وطن عزیز میں پر امن طور پر رہ رہے ہیں ۔ اس محبت اور بھائی چارے کو دیکھتے ہوئے حال ہی میں دشمنوں نے اس سلسلے میں اپنی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ بھارت نے بار بار پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن افواج پاکستان کے مقابلے میں انہیں ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی اور شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب بھارت نے ڈا ئریکٹ مقابلے کی بجائے ہمیشہ کی طرح مکاری اور عیاری سے کام لیتے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارنہ اختلافات پیدا کر رہا ہے ۔ اس کےلئے اسے اسرائیلی ساتھ دستیاب ہے ۔ ہمارے ہاں افغان جنگ کے بعد ہی دہشت گردی پھیلی جس میں ہزاروں جانوں اور کروڑوں کی املاک کا نقصان ہوا ۔ اگر ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اس کےلئے انتہا پسندانہ سوچ کو روکنا ضروری ہو گا ۔ انسانی حقوق سے متعلق قوانین میں حالیہ تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ پاکستان میں مسلمانوں کی ہی مختلف مذہبی جماعتیں اور فرقے، جو اس وقت غیروں کے دیے ہوئے زخموں کی وجہ سے منقسم ہیں ، اْنہیں ساتھ ملانے کی اشد ضرورت ہے ۔