- الإعلانات -

بھارت کا جنگی جنون ، پاک فوج کا دو ٹوک پیغام

بھارت کا جنگی جنون سب کے سامنے ہے ،اس نے خطے کا امن برباد کرکے رکھا ہوا ہے ،اب فرانس سے رافیل طیارے خریدنے کے بعد سمجھ رہا ہے کہ وہ خطے میں سب سے زیادہ بالادست ہوگیا ہے لیکن اسکی خام خیالی ہے پاکستان نے اسے دو ٹوک انداز میں متنبہ کردیا ہے کہ چاہے وہ 500رافیل طیارے خرید لے پاک فوج جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ،نیز جنگیں اسلحے کے زور پر نہیں حوصلے سے بھی لڑی جاتی ہیں ، ابھی نندن کو بھارت یاد رکھیں یہ پاکستان کے شاہینوں نے بھارتی گیدڑوں کے طیارے کس طرح مار بھگائے اور بھارت کو جاکر یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان چاہے تو پورے بھارت کو تباہ و برباد کرسکتا ہے ،دشمن کو پاک فوج کی صلاحیتوں کا علم ہونا چاہیے پاکستان کی کروڑوں عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور اگر بھارت نے جنگی جنون کے تحت کوئی بھی غلطی کرنے کی کوشش کی تو اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائیگاجب بھی اس نے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تو پاک فوج نے ہمیشہ دندان شکن جواب دیکر دشمن کی طوپیں نہ صرف خاموش کرادی بلکہ اسے بھاری جانی ومالی نقصان پہنچایا لیکن بھارتی بنیا اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہیں آتا ۔ پاک فوج کے ترجمان نے اسی وجہ سے بھارت کو متنبہ کیا ہے ۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایاہے کہ بھارت نے فرانس سے 5 رافیل طیارے خریدے،500 بھی خرید لے، ہم تیار ہیں ۔ بھارت اسلحہ خریدنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشاندہی ہے ۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ جنگیں صرف اسلحے کے زور پر نہیں لڑی جاتیں ، پاکستانی فوج اپنے عوام کے ساتھ مل کر مادر وطن کے دفاع کےلئے باصلاحیت ہے ۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے دفاعی اخراجات مسلسل کمی کی طرف جا رہے ہیں لیکن کم وسائل کے باوجود پاکستانی افواج دشمن کا مقابلہ کرنے کےلئے مکمل تیار ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ وہاں گزشتہ ایک سال سے کرفیو نافذ ہے ۔ دنیا کا ہر ظلم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے ۔ پیلٹ گنز کا استعمال معمول بن گیا ہے لیکن تمام مظالم کے باوجود کشمیری آزادی کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ حکومت نے ہر فورم پر کشمیر کے مسائل کو اجاگر کیا ۔ ایک سال میں تین بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں زیر بحث آیا جبکہ عالمی میڈیا نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم بے نقاب کئے ۔ بھارت لائن آف کنٹرول پربھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے جس کا پاک فوج کی جانب سے موثر جواب دیا جاتا ہے ۔ بھارت اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے ایل او سی کی خلاف ورزیاں کرتا ہے ۔ حال ہی میں عالمی میڈیا کے نمائندوں نے ;200;زاد کشمیر میں ایل او سی کا خود جائزہ لیا جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی غیر جانبدار مبصر یا صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ ;200;زاد کشمیر کے عوام کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی ۔ ایل او سی پر مقیم شہریوں کے گھروں میں شیلٹرز بنائے جا رہے ہیں ۔ اب تک ایک ہزار شیلٹرز بنائے جا چکے ہیں ۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ حالیہ عالمی رپورٹ میں بھی بھارت میں دہشت گرد گروپس کی نشاندہی کی گئی ۔ قوم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کامیابی سے لڑی ۔ شمالی وزیرستان میں 11 ہزار فٹ بلندی پر بھی سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے جبکہ ایک ہزار سرحدی پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں ۔ ملک میں وبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وائرس کیخلاف کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ناممکن تھی، تاہم کورونا کا خطرہ ابھی منڈلا رہا ہے ۔ فرنٹ لائن ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ دنیا کورونا کیخلاف پاکستان کی موثر حکمت عملی کی معترف ہے ۔ سعودی عرب بارے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہ میں برادر ملک کے ساتھ تعلق پر فخر ہے، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ اس پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ برادر اسلامی ملک کیساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے ۔ ;200;رمی چیف طے شدہ دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں ۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی اور بتایا کہ احسان اللہ احسان سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت معلومات ملیں ، اس سے ہ میں بہت فائدہ ہوا ۔ پاکستان کے خلاف تین محاذ کھولنے کا بھارتی خواب، خواب ہی رہے گا ۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہتر وزارت خارجہ ہی بتا سکتا ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری بہت بڑا پراجیکٹ ہے، اس کی سیکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے ۔ منصوبے پر خطرے کا بہتر طریقے سے ادراک ہے ۔ اس کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا ۔ پاک چین دوستی دنیا بھر میں ایک مثال ہے اور سی پیک اس خطے کی قسمت کو بدل کر رکھ دے گا ، اس منصوبے سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہونگے ، ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا ، اسی وجہ سے پاکستان اور چین کی کوشش ہے کہ اس معاہدے کو جلد از جلد کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے

پشاور بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح

بالآخر پشاور میٹروبس کا افتتاح ہو ہی گیا ۔ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جس سے پشاور شہر کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے پشاور بی آر ٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ عوامی فلاح کے ہر منصوبے پر غریبوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، پشاور بی آر ٹی پورے پاکستان میں سب سے بہترین میٹرو منصوبہ ہے،مجھے اور پارٹی میں موجود کئی رہنماؤں کو پشاور بی آر ٹی منصوبے پر شدید تحفظات تھے لیکن آج پرویز خٹک مبارکباد کے مستحق ہیں ، بی آر ٹی سے شہر میں ٹریفک بہاوَ میں کمی آئی گی اور لوگوں کو آسانیاں ملیں گی ، بی آر ٹی سے ماحولیات آلودگی میں قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ منصوبے کا ڈیزائن اتنا بہترین ہے جس سے پشاور کے سارے علاقے اس کے ساتھ منسلک ہوجائیں گے منصوبہ27کلو میٹر مین کوریڈور پر مشتمل ہے جبکہ 700سے800کلو میٹر فیڈر روٹس ایریا ہے ۔ پشاور انتظامیہ نے عوام کیلئے بی آر ٹی میں مناسب اور کم کرائے رکھے ہیں غریب عوام کا خیال رکھاگیا ہے ،بی آر ٹی نے سٹاپ ٹو سٹاپ10 روپے جبکہ کہ آغاز سے مکمل سفر تک کےلئے 50

روپے کرایہ رکھا گیا ہے یہ انتہائی عوام دوست فیصلہ ہے ۔ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ عوامی فلاح کے ہر منصوبے پر غریبوں کا خصوصی خیال رکھا جائے جبکہ اس منصوبے سے شہرکے کاروبار میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو آسانیاں ملیں گی ۔ بی ;200;رٹی منصوبہ 27کلومیٹر طویل اور 30اسٹیشنز پر مشتمل ہے، ٹریک کی کل لمبائی27کلومیٹر،ابتدائی طورپر220ایئرکنڈیشنڈبسیں چلیں گی 30اسٹیشنزکے علاوہ متصل روٹس کیلئے 5سڑکوں کانیٹ ورک بنایاگیاہے، پشاور بی ;200;رٹی کا فی اسٹاپ کرایہ10روپے جبکہ مکمل سفر کاکرایہ50روپے ہے جبکہ بسوں میں انٹرنیٹ اور موبائل چارجنگ کی سہولت بھی موجود ہے ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاوَسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور نئے اقدامات، صوبہ بلوچستان میں تعمیرات کے شعبے میں نئے منصوبے، وفاقی دارالحکومت بلیو ایریا میں پلاٹوں کی نیلامی اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ وزیر اعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے تعمیرات سے وابستہ کاروباری برادری کےلئے آسانیاں فراہم کرنا خوش آئند ہے،ہفتہ وار ویب نار کے انعقاد کا اہتمام کیا جائے،تعمیرات کے شعبے میں تمام مراحل کی آٹو میشن، ڈیجیٹلائزیشن اور نظام کو آسان بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے، حکومت بلوچستان کی جانب سے ٹیکسز کی شرح میں کمی لانے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں ، مزید کمی لانے اور ٹیکسوں کو دیگر صوبوں کی سطح پر لانے کےلئے اقدامات کیے جائیں ،تمام تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل مقررہ ٹائم لائنز میں یقینی بنائی جائے ۔ اجلاس میں شریک کاروباری برادری کے نمائندوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں اس قدر آسانیاں فراہم کی گئیں ہیں اور منظوریوں کا عمل نہ صرف آسان بلکہ تیز ہو رہا ہے ۔ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے نہ صرف سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے ۔