- الإعلانات -

جانے کہاں پر رہ گئے ہیں

پانچ اگست کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتہا پسند ہندو ذہنیت کا عملی اظہار کرتے ہوئے ایودھیا میں تقریباً چار سو سال پرانی بابری مسجد کی جگہ ایک ریاست کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے متنازعہ رام مندر بنانے کا افتتاح کیا ۔ قتل و غارت اور مسلم مخالفت کو حکمران جماعت بی جے پی نے سیاسی ہتھیار اور ایجنڈا بنا کر اقتدار حاصل کیا، جس کے بعدبھارت میں ہندووَں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت کی ایک ایسی گہری خلیج پیدا ہوگئی ہے جسے پاٹنا ہر گزرتے دن کے ساتھ ناممکن ہوتا جا رہا ہے اس بات کا اظہار جناب سید رسول ترگوی صاحب نے اپنے ایک کالم ;3939;5 اگست کا غاصبانہ قبضہ اور رام مندر ;3939; میں کیا وہ اپنے کالم کو سمیٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ اور کشمیریوں کی رائے جانے بغیر جموں اینڈ کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ دس لاکھ افواج کے محاصرے میں زبردستی مسلط کر دیا، تب سے کشمیری بھارت کے فوجی محاصرے میں ہیں ،جہاں ان کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ۔ رابطے معطل کر دینے اور میڈیا کی عدم رسائی کے پس منظر میں کشمیریوں کی ماورائے عدالت اور پولیس حراست میں ان کے قتل، نظر بندیوں ، ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کرنے اور گھروں کی تباہی سے متعلق خبریں سامنے آ رہی ہیں ۔ ایسی صورت حال میں جینوسائیڈ واچ کو کشمیر پر جینوسائیڈ الرٹ جاری کرنا پڑی ۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چار رپورٹیں شائیع کی ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایچ آر ڈبلیو، جے اینڈ کے کولیشن آف سول سوساءٹی، ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز اور بین الاقوامی میڈیا نے بی جے پی حکومت کی براہ راست کمان میں قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ہولناک رپورٹس شاءع کی ہیں ۔ اجتماعی قبروں کے انکشافات، پیلٹ گنز سے شہریوں کو بینائی سے محروم کرنے، اجتماعی ریپ اور ماورائے عدالت قتل انسانیت کے خلاف جرائم ہیں ، جن کا حساب مودی حکومت ایک دن دینا پڑے گا بابری مسجد تنازع کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے مطابق مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں اس مسجد کی تعمیر سے ان کے دیوتا رام کی جنم بھومی تک رسائی ختم کر دی گئی تھی ۔ کیا واقعی مسجد کی تعمیر سے پہلے وہاں کوئی ہندو مندر موجود تھا جسے گرا کر یا اس میں کوئی ترمیم کر کے مسجد بنائی گئی تھی;238;یاد رہے کہ ہندو شدت پسند گروہوں نے بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو تباہ کر دیا اور اس بعد ہی اس قطعہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے ایک مقدمہ الہ آباد کی ہائیکورٹ میں درج کرایا گیا تھا ۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ 30 ستمبر 2010 کو سنایا تھا ۔ اس میں تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ ایودھیا کی دو اعشاریہ 77 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔ اس میں سے ایک تہائی زمین رام للا مندر کے پاس جائے گی جس کی نمائندگی ہندو مہاسبھا کرتی ہے، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو جائے جبکہ باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی ۔ اپنے حکم میں الہ آباد ہائیکورٹ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نازک معاملے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’یہ زمین کا ایک وہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے جہاں فرشتے بھی پاؤں رکھنے سے ڈرتے ہیں ۔ اس زمین میں لاتعداد بارودی سرنگیں دفن ہیں ۔ ہ میں اس زمین کو (جھگڑوں سے) پاک کرنے کام دیا گیا ہے ۔ فیصلے میں واضح کیا جائے گا کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین کس کی ملکیت ہے اور اس کا کون سا حصہ کس فریق کا ہے فیصلے کے دن کیا متوقع ہے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ جس دن فیصلے کا اعلان کرے گا اس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین کس کی ملکیت ہے اور اس کا کون سا حصہ کس فریق کا ہے ۔ ممکن ہے کہ سپریم کورٹ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھے اور زمین تمام فریقوں کے درمیان تقسیم کر دے ۔ فیصلے کے دن پانچوں جج ایک ایک کر کے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنائیں گے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ سنانے کا آغاز چیف جسٹس خود کریں گے ۔ یاد رہے کہ ستمبر 2010 میں الہ آباد ہائیکورٹ نے جو فیصلہ صادر کیا تھا اس میں تین اہم سوالوں کے جواب دیے گئے گئے تھے ۔ اس میں کہا گیا تھا کہ متنازع قطعہ زمین رام کی جنم بھومی ہے، یہاں پر مسجد کی تعمیر ایک مندر کو گرا کر کی گئی تھی، اور یہ مسجد اسلام کے اصولوں کے مطابق تعمیر نہیں کی گئی تھی ۔ اس فیصلے کے بعد ہندو برادری کو یہ امید تھی کہ اب یہاں ایک مندر تعمیر ہو جائے گا، جبکہ مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ قائم رہا کہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے ۔ 2010 ہندو اور مسلمان تنظیموں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں تھی جس کے بعد سنہ 2011 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کر رہے ہیں ، جبکہ اس میں دیگر چار جج صاحبان میں جسٹس ایس اے بوبدے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایس عبد النذیر شامل ہیں ۔ جسٹس نذیر اس بینچ میں واحد مسلمان جج ہیں ۔ انڈیا کے سینیئر وکیل ڈاکٹر صورت سنگھ کہتے ہیں کہ ’چونکہ ان ججوں نے شروع سے اس مقدمے کی سماعت کی ہے اور وہ اس کی ہر سماعت میں شامل رہے ہیں ، اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہی بینچ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ بھی سنائے ۔ ‘مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 1949 تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں )رام مندر اور بابری مسجد کی تاریخ کیا ہے;238;ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازع کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور یہاں پر بابری مسجد کی تعمیر ایک مسلمان نے سولہویں صدی میں ایک مندر کو گرا کر کی تھی ۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 1949 تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں ، جس کے بعد کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں رام کے بت مسجد میں رکھ دیے تھے ۔ مسلمانوں کے مطابق اس مقام پر بتوں کی پوجا اس واقعے کے بعد ہی شروع ہوئی ہے ۔ اس کے بعد کے چار عشروں میں کئی مسلمان اور ہندو تنظی میں اس زمین پر اختیار اور عبادت کے حق کے لیے عدالتوں کا رخ کرتی رہی ہیں ۔ لیکن اس تنازع میں شدت 1992 میں اس وقت آئی تھی جب ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو تباہ کر دیا ۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی ہنگاموں میں کم و بیش دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل دو ہندو ججوں نے کہا تھا کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے اس مقام پر جو عمارت تعمیر کی تھی وہ مسجد نہیں تھی، کیوں کہ ایک مندر کے مقام پر مسجد کی تعمیر ’اسلام کے اصولوں کے خلاف‘ ہے ۔ تاہم بینچ میں شامل مسلمان جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر کےلئے اس مقام پر کسی مندر کو نہیں گرایا گیا تھا، بلکہ مسجد کی تعمیر ایک کھنڈر پر ہوئی تھا چھ دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور ان کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تقریاً ڈیڑھ لاکھ رضاکاروں کے ہمراہ اس مقام پر چڑھائی کر دی ۔ یہ جلوس وقت کیساتھ ساتھ پرتشدد ہوتا گیا اور وہ کئی گھنٹے تک ہتھوڑوں اور کدالوں کی مدد سےمسجد کی عمارت کو تباہ کرتے رہے ۔ اس واقعے کے بعد اس وقت کے انڈیا کے صدر شنکر دیال شرما نے ریاست اتر پردیش کی اسمبلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ۔ اور پھر 1993 میں ایک صدارتی حکم کے تحت بابری مسجد کے ارد گرد زمین کا 67;46;7 ایکڑ رقبہ وفاقی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا ۔ اس کے بعد بابری مسجد کے واقعے کی تفتیش کےلئے ایک کمیشن قائم کیا گیا جس میں بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت 68 افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ اس کیس کی سماعت اب تک جاری ہے حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا ۔

یہ دل ابھی بھولا نہیں تھا قبلہِ اول کا دکھ

کیسے مٹاءوں گا میں اب ان تازہ زخموں کے نشاں

تیرے نمازی آج تیرے صحن میں دیکھے نہیں

گونجی نہیں ہے آج بھی تیرے موذن کی اذاں

جانے کہاں پر رہ گئے ہیں کوئی بھی پہنچا نہیں

وہ تیرا بابر، ترا عالمگیر، تیرا شاہ جہاں