- الإعلانات -

شجر کاری کی اہمیت و ضرورت!

شجر کارصدقہ جاریہ بھی ہے اوربنی نوع انسان کےلئے قدرت کا انمول تحفہ بھی ہے ۔ شجر کاری سے ماحولیاتی آلودگی کو کم ہوتی ہے اور سیلابوں کی تباہ کاریوں سے زمین کے کٹاوَ کو روکنا ممکن ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کو ماہرین باعث تشویش قرار دے رہے ہیں اور ایسے ماحول میں درخت لگانا ناگزیر ہے ۔ یہ امر خوش آئند کہ موجودہ حکومت شجر کاری کو اہمیت دے رہی ہے اور شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ عوام اور سماجی اداروں کا تعاون ضروری ہے ۔ قدرتی مناظر ، فطرت کے حسین نظارے اس کائنات کا حسن ہیں ۔ تخلیق کا نے بڑی مہارت اور حکمت سے ان مناظر کو بنایا اور انہیں مناظر کو انسانوں کی بقا کیلئے اہم جز قرار دیا ۔ پہاڑ، دریا، سمندر ، درخت یہ سب مل کر مناظر قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں ۔ اگر محسوس کرنے والی آنکھ ہو تو ان مناظر میں ایک بہترین تخلیق کار نظر آتا ہے جس نے بڑی مہارت اور اصولوں کے تحت یہ کائنات بنائی ۔ زمین پر قدرتی مناظر انسانیت کی بقا ہیں انسانوں کیلئے ایک بہترین ماحول ہیں جہاں انسان کیلئے زمین پر قدرتی حسن کا کوئی نعم البدل نہیں ۔ قدرتی اور فطری ماحول کی تباہی در حقیقت انسانی بقا کی تباہی ہے اور اس تباہی کا آغاز خوبصورت پہاڑوں کی کٹائی سے بڑی سرعت سے کیا جاچکا ہے ۔ مانسہرہ سے ایبٹ آباد کے سفر میں اس تباہی کو بڑی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں مانسہرہ اور ایبٹ آباد اپنی سرسبز پہاڑوں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ یہ پہاڑیاں چیڑ کے درختوں سے ڈھکی ہوتی تھی ایک خوبصورت کشش اور ٹھنڈک کے احساس سے بھر پور اور منفرد خوبصورتی کے مناظر جو پورے پاکستان سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ ایبٹ آباد تو اپنے بلند و بالا پہاڑوں اور سرسبز مناظر کی بدولت ایک دیومالائی شاہکار نظر آتا ہے ۔ ایبٹ آباد کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر سر جیمز ایبٹ نے ایک ایک خوبصورت نظم تخلیق کی جو آج بھی ایبٹ آباد کی لیڈی گارڈن میں کندہ ہے ۔ یہ نظم سر جیمز ایبٹ کے جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے کہ ایبٹ آباد واقعی پریوں کا دیس تھا ۔ مگر گزشتہ چند سالوں سے قدرتی حسن سے مالا مال اس شہر کے ساتھ تباہ کن سلوک کیا جارہا ہے بڑھتی ہوئی بے ترتیب آبادی اور وہ بھی بغیر کسی پلاننگ کے اور پہاڑوں کی مسلسل کٹائی ۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمت سے اس زمین کو تخلیق کیا ہے پہاڑں کو اس زمین پر جما کر اس میں ایک تواز رکھا ہے یہی توازن انسانوں کی بقا ہے ۔ ہمارے ملک کا عجیب عالم ہے، ترقی کے نام پر پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر بڑے برے پلازے اور ہوٹل تعمیر کرنا ترقی نہیں بلکہ اپنی کج فہمی کے ذریعے خود اپنے ہاتھوں سے تباہی کرنا ہے ۔ روڈ کے دونوں اطراف جس انداز سے پہاڑوں کی کٹائی ہو رہی ہے اس سے قدرتی ماحول کو بے تحاشا نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اس کٹائی سے نہ صرف پہاڑ اپنا حسن کھو رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر موجود خوبصورت بلند و بالا درخت بھی سرعت سے ختم ہو رہے ہیں یہ کٹائی روڈ کشادہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ مالکان زمین ہموار کر کے پلاٹنگ کر کے مہنگے داموں فروخت کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں ذیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کیلئے بڑی تیزی سے ان کو ختم کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ دو تین سالوں سے اس کٹائی میں بے حد تیزی ہے اور اس پر غضب یہ کہ یہ سب کسی بھی ذمہ دار انسان یا ذمہ دار ادارے کو نظر نہیں آرہا;238; ۔ کیا کوئی ادارہ ایسا نہیں جو ان قدرتی اثاثوں کی حفاظت کرے ، ان کو محفوظ کرنے کا ذمہ دار ہو جو انسانیت کی بقا کے ان ذراءع کو سمجھے ۔ شاید تعلیم ،فہم اور شعور سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ۔ شاید پلازوں اور ہوٹلزکی تعمیر کر کے اگر اس کو ترقی کا نام دیا جارہا ہے تو یہ سراسر تباہی ہے ۔ قدرت کے ان اثاثوں کی ذمہ داری حکومت کا فرض ہے ۔ اگر لوگوں میں شعور کی کمی ہے تو اس شعور کو اجاگر کرنا بھی ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اگر پہاڑوں کی کٹائی کے اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو آنے والے سالوں میں اس کی بھیانک قیمت چکانی ہوگی ۔ ماحول کو بے حد نقصان پہنچے گا ۔ نباتات غائب ہو جائیں گی درخت جڑ سے اکاڑے جائیں گے تو پانی زمین کے اندر جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوگی جس سے زمین پر ہنے والوں کیلئے تباہ کرنے ہونگے ۔ سیاست سے قطع نظر موجودہ حکومت شجر کاری کو اہمیت دے رہی ہے اور خاص کر خیبر پختونخواہ میں کافی حد تک اس کے ثمرات بھی نظر آرہے ہیں اور ٹمبر مافیا پر بھی قابو پالیا گیا ہے کافی حد تک ورنہ سابقہ ادوار میں چاہے پہاڑ کٹیں یا زیریں زمین پانی کم ہو یہ ان کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں تھے ۔ ایسی قانون سازی ہونی چاہئیے جو انسانوں کے قدرتی ماحول کا تحفظ کرے اور جو عناصر قدرتی ماحول کو خراب کریں ان کو قانون کے مطابق سزا ملے ۔ یہ میرا یا کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر بد ترین اثرات ہونگے اور پھر اس نقصان کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوگا ۔