- الإعلانات -

پاک سعودی تعلقات ۔ بہتری کی گنجائش موجود

افواج پاکستان کے ترجمان نے گزشتہ روز کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات ہمیشہ سے انتہائی اچھے اور مثالی رہے ہےں اور انشا اللہ ان میں دڑار نہےں ڈالی جاسکے گی ۔ اسی تناظر میں ان کا مزید کہنا تھا کہ بردار ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہترین ہےں اور رہیں گے اور کسی کو بھی مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مرکزیت پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنرل باجوہ کا دورہ سعودی عرب پہلے سے طے شدہ تھا ۔ سبھی جانتے ہےں کہ سعودی عرب ایشیاء کا ایک انتہائی اہم اسلامی ملک ہے جس کا رقبہ تقریبا 2,150,000کلومیٹر گویا 830,000 مربع میل ہے ۔ یہ ایشیا کا پانچواں بڑا اور دنیا کا 12 واں بڑا ملک ہے ۔ سعودی عرب کی سرحدیں شمال میں اردن اور عراق، شمال مشرق میں کویت، قطر، بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں عمان اور جنوب میں یمن سے ملتی ہیں ۔ یہ وہ واحد ملک ہے جس میں بحر احمر کا ایک ساحل اور خلیج فارس کا ساحل شامل ہے اور اس کا بیشتر علاقہ صحرا ئی، نشیبی اور پہاڑوں پر مشتمل ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2018 تک، سعودی معیشت مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی اور دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت تھی ۔ یہ دنیا کی سب سے کم عمر آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے اور اس کے 33;46;4 ملین افراد میں سے 50 فیصد 25 سال سے کم عمر ہیں اور اس بات کو بھی سعودی عرب کا مثبت طرہ امتیاز ہی قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ علاقہ متعدد قدیم ثقافتوں اور تہذیبوں کا مقام رہا ہے ۔ جدید سعودی عرب پہلے بنیادی طور پر چار الگ الگ علاقوں پر مشتمل تھا جس میں حجاز، نجد اور مشرقی عرب (الاحسا) اور جنوبی عرب (عسیر) کے کچھ حصے شامل تھے ۔ یاد رہے کہ مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932 میں ابن سعود نے رکھی تھی ۔ انہوں نے اپنے آبائی گھر ریاض پر قبضہ کے ساتھ 1902 میں شروع ہونے والی فتوحات کے سلسلے میں ان چاروں خطوں کو ایک ہی ریاست میں متحد کردیا ۔ سعودی عرب تب سے ایک خود مختار بادشاہت ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر تیل اور گیس کی تجارت سے مالی اعانت حاصل ہے ۔ ریاست کی سرکاری زبان عربی ہے ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں پٹرولیم 3 مارچ 1938 کو دریافت ہوا تھا اور اس کے بعد مشرقی صوبے میں متعدد دیگر دریافتیں ہوئیں اور یوں اس کے بعد سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا (امریکہ کے پیچھے) اور دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے ۔ سعودیہ میں تیل کے سے زیادہ ذخائر موجود ہےں ۔ شاےد اسی وجہ سے اس مملکت کی اعلی انسانی ترقیاتی انڈیکس کے ساتھ ورلڈ بینک کی اعلی آمدنی والی معیشت کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے اور یہ وہ واحد عرب ملک ہے جو جی 20 کی اہم معیشتوں کا حصہ ہے ۔ یاد رہے کہ سعودی عرب 2015 سے 2019 تک دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک تھا ۔ بی آئی سی سی کے مطابق، سعودی عرب اسرائیل کے بعد، دنیا کی 28 ویں ایسی فوجی قوت ہے جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہے ۔ جی سی سی کے علاوہ، یہ اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور اوپیک کا سرگرم رکن بھی ہے ۔ دوسری جانب پاکستان کے طول عرض میں 74واں یوم آزادی انتہائی عزت و احترام اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا ۔ اسی ضمن میں پاک فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاک ا فواج مادر وطن کی سالمیت، حرمت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے بھرپور طریقہ سے تیار اور پرعزم ہےں اور بھارت پانچ کی بجائے بھلے ہی پانچ سو رافیل لڑاکا طیارے بھی خرید لے تب بھی ہ میں ہر حال میں تیار پائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگیں محض اسلحے اور گولہ باردو کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوام کی تائید و حمایت سے لڑی جاتی ہیں لہٰذا پاک فوج عوام کے ساتھ مل کر مادر وطن کے دفاع کےلئے مکمل طور پر تیار ہے ۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین نے کہا ہے کہ کراچی سٹاک ایکسچینج پر ناکام حملہ ہو یا دہشت گردوں کےلئے منی لانڈرنگ ان تمام کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں ۔ کورونا وبا کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سیز فائر کی اپیل کے باوجود بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اپنی روایتی کارروائیاں جاری رکھیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ۔ دنیا کا ہر ظلم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے اور وہاں گزشتہ ایک سال سے کرفیو نافذ ہے اور پیلٹ گنز کا استعمال روز مرہ کا معمول بن گیا ہے لیکن ان تمام بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری آزادی کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ اسی ضمن میں سفارتی اورحربی ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک بھارت نے ایک ہزار 927 مرتبہ سیز فائر معاہدے کے خلاف ورزی کی ہے اور بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں عرصہ دراز سے نسل کشی اور مقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور ایک طے شدہ منصوبے کے تحت خطے کی آبادی کو تبدیل کرکے بھارت وہاں رہنے والے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور د رحقیقت ابھی ایسا کوئی ظلم باقی نہیں بچا جو کشمیریوں نے برداشت نہ کیا ہو ۔ ایسے میں غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بلا تعطل جاری ہیں ۔ اس حوالے سے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظا ہر کی ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے اقدامات کو خاصی حد بے نقاب کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ایک سے زائد مر تبہ کشمیر میں انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے ۔ ایسے میں حرف آخر کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے