- الإعلانات -

تحریک پاکستان، قائد اعظم اور لا الہ الا اللہ کا نعرہ

برصغیر کے مسلمانوں کی انتھک جدوجہد اور جانی ومالی قربانیوں پر اللہ کریم اور اسکے پیارے حبیب ;248; نے وطن عزیز پاکستان کا خصوصی تحفہ بطور انعام دیا اور اسکی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ۔ مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں اسلام کی خاطر اور مسلمانوں کیلئے بننے والی پہلی ریاست کا نام پاکستان ہے ۔ ہمارے مشاءخ عظام کی پاکستان کے قیام اور بقاء کیلئے عظیم ترین قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں ۔ بابائے قوم قائد اعظم;231; کے خلوص اور انتھک محنت کے باعث 14 اگست 1947، 27 رمضان المبارک یعنی شب قدر کے مبارک موقع پر پاکستان دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہوا ۔ رمضان اور قرآن استحکام پاکستان کے ضامن اور آزادی کے محافظ ہیں ۔ عید آزادی ہمارا تمدنی، تہذیبی تہوار ہے ۔ تحریک پاکستان ایک نظریاتی، ملی تحریک تھی جس کا مقصد ہندی، فرنگی تمدنی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا ۔ 27 رمضان آزادی و تشکر کا یوم سعید ہے جس کو بھول جانا ناسپاسی ہے ۔ یہاں یہ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ تحریک آزادی پاکستان کے دوران ایک نعرہ جو پاکستان کی بنیاد بنا وہ تھا لا الہ الا اللہ ۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔ تحریک آزادی کے متوالے نہ صرف جلسے جلوسوں میں بلکہ مسلما ن بچے بھی گلیوں میں کھیلتے ہوئے یہ نعرہ لگایا کرتے تھے ۔ اس نعرے کے خالق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے اصغر سودائی نے اسے 1944ء میں لکھا اور سنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے طول و عرض میں ہونے والے مسلم لیگی جلسوں میں گونجنے لگا ۔ اس نعرے سے پاکستان کی مذہبی تشخص بھی واضح ہوتا ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی وجہ سے کہا تھا کہ تحریک پاکستان میں اصغر سودائی کا کردار 25 فیصد ہے ۔ تحریک پاکستان کے جلسوں میں اصغر سودائی تقریبا ہر روزایک قومی نظم لکھ کر لاتے اور جلسوں میں موجود افراد کو سنایا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ ایک ایساکلام لائے جس کے ایک مصرعہ نے گویا مسلمانوں کے دلوں کے تار کو چھو لیا ۔ اصغرسودائی سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ یہ مصرعہ کیسے آپ کے ذہن میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ:’’ جب لوگ پوچھتے تھے کہ، مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا ہے ;238;‘‘تو میرے ذہن میں آیاکہ سب کو بتانا چاہیے کہ:’’پاکستان کا مطلب کیا ہے‘‘ ۔ پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ ۔ یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اس قدر مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے ۔ پروفیسر اصغرسودائی نے 18 مئی 2008ء کو سیالکوٹ میں وفات پائی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔ پاکستان ایک جغرافیہ ہی نہیں ایک نظریہ اور عقیدہ بھی ہے پاکستان کے قیام کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے پاکستان عالم اسلام کا دھڑکتا دل اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے ۔ قائد اعظم;231; نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اور قرآن کے دستور کی سرزمین قرار دیا ۔ مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیلئے ضروری ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں اور نظریے کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے ہیروز ہیں ۔ علامہ اقبال ;231;اسلام کے بغیر مسلمان کی زندگی کا تصور بھی نہیں کرتے تھے ۔ وہ مسلمانوں کی آزادی کی حفاظت صرف اسلام کےلئے چاہتے تھے ۔ انہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کےلئے ایک آزاد مملکت کا تصور ہزار سالہ اسلامی تمدن کی حفاظت اور بقا کےلئے پیش کیا ۔ بقول علامہ اقبال ;231;کے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام ایک تمدنی قوت کے طور پر زندہ رہے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے ۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مرکزی تقریب میں امیر سراج الحق نے بھی پاکستان اور اسلام کے مضبوط رشتے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پوری دنیا میں یہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ۔ برصغیر کے کروڑوں لوگوں کی جدوجہد اورلاکھوں جانوں کی قربانیوں کا واحدمقصد اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا ۔ پاکستان جغرافیہ بھی ہے نظریہ بھی، ہرطرح کے مفادات سے بالاتر ہوکر اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کےلئے جدوجہد کا وقت ہے ۔ ہم نے تحریک پاکستان کے دوران اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پاکستان کو اسلام کے اصول حریت و اخوت و مساوات کا ایک مثالی نمونہ بنائیں گے اور برصغیر کے گلی کوچے اس نعرے سے گونج اٹھے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ ۔ آج ہم اللہ سے کئے گئے اس عہد کے خلاف ورزی کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ نفاق عملی کا روگ ہمارے جسد ملی کے رگ و ریشے میں سرایت کرچکا ہے اور اس صورتحال کا علاج اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہم پاکستان میں اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے قیام کے احیا کےلئے کمر بستہ ہوجائیں اوراس ضمن میں کسی حقیقی پیشرفت کا آغاز کردیں ۔ ظاہر بات ہے کہ یہ کام جب تک ایک قابل ذکر پیمانے پر نہیں ہوگا اور نمایاں دینی قوتیں جب تک جمع ہوکر اس کے لئے سنجید ہ اور مخلصانہ کوشش نہیں کریں گی ، بات آگے نہیں بڑھے گی ۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اس عظیم نعمت کے ملنے بننے اور آزادی حاصل ہونے پر اپنے رب کریم کے حضور سر بسجود ہو کر اسکی حفاظت، سلامتی اور ترقی کیلئے ہر وقت دعا گو رہیں ۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب تمام اختلافات بھلا کر وطنِ عزیز کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کیلئے ایک ہو جائیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وطنِ عزیز کی خود مختاری اور سا لمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور اس عظیم مشن میں پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ او ر اسکی پشت پر ہر وقت تیار کھڑی ہے ۔