- الإعلانات -

عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے حکومت کا ایک اورقدم

توانائی بحران گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل جاری ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 80 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ملک میں بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے شروع نہ کئے جا سکے ۔ تاہم موجودہ حکومت امن و امان کی بحالی کےلئے اقدامات کے ساتھ ساتھ توانائی بحران کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کےلئے کوشاں ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام بجلی کی ;200;ئے روز بڑھتی قیمتوں سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی کمائی کا بڑا حصہ بجلی کے بل کی نظر ہو جاتا ہے، لوگ کسی بھی طرح بل کم کرنا چاہتے ہیں ، بعض تو اس کےلئے چوری جیسے گھناءونے اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اصل مسئلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہیں بلکہ عوام کی قوت خرید میں کمی ہے ۔ اگر حکومت بے روزگاری کے خاتمے اور فی کس ;200;مدنی میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو کسی کو بھی زیادہ بل دینے میں مشکل پیش نہیں ;200;ئے گی ۔ اشیا کی قیمتیں بڑھنا بری بات نہیں ، عوام کی قوت خرید گرنا بحران کو جنم دیتا ہے ۔ اگر دونوں معاملات ایک ہی تناسب سے بڑھیں تو کوئی مسئلہ نہیں ، تاہم پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے مہنگائی دوہرے ہندسے کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ ;200;مدنی میں اضافے کی بجائے کمی ہو رہی ہے، جو مسئلے کی اصل بنیاد ہے ۔ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہو گی تاہم انہیں مستحکم رکھ کر ;200;مدنی میں اضافے کےلئے اقدامات کرنے سے بحران کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ قوم کیلئے خوشخبری ہے کہ نجی پاور کمپنیوں سے طویل مذاکرات کے بعد معاہدہ ہو گیا ہے اب صنعتوں اور عوام کیلئے سستی بجلی دستیاب ہوگی مہنگی بجلی کے باعث گردشی قرضے بڑھتے جارہے تھے نئے معاہدے سے بجلی کی قیمت بھی کم ہو گی اور گردشی قرضوں کامسئلہ بھی حل ہو گاسارا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے، ان کے حق کے لئے دعا گو بھی ہیں اور جدوجہد بھی کریں گے ۔ قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے عظیم خواب کی تعبیر ہے ۔ وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالا دستی اور سب انسانوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں ہم اس سفر کی جانب گامزن ہیں اور جدوجہد کے ذریعے منزل پر پہنچ کر دم لیں گے ۔ میں آج قوم کو کورونا وائرس کا مل کر مقابلہ کرنے پر بھی مبارکباد پیش کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا خاص شکر اور کرم ہے کہ کورونا کیسز میں بھی کمی آئی ہے اور معیشت بھی بہتری کی جانب گامزن ہو گئی ہے ۔ وزیراعظم نے عوام پر زور دیا کہ وہ احتیاط کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور چہرے پر ماسک کا استعمال کریں ۔ میں قوم کو تیسری مبارکباد معیشت کی صورتحال بہتر ہونے پر دینا چاہتا ہوں ۔ دو سال بہت مشکل میں گزرے جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو بہت مشکل حالات کا سامنا تھاقرضوں کی قسطیں ادا کرنی تھیں ۔ ہمارے پاس فارن ایکسچینج نہیں تھا اور ہم ڈیفالٹ کررہے تھے ۔ اگر ہم خدانخواسہ ڈیفالٹ کر جاتے تو اس کے بہت برے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا اللہ کا شکر ہے کہ ہم ڈیفالٹ سے محفوظ ہو کر بہت بڑی مہنگائی سے بچ گئے ہیں ۔ اقتدارسنبھالنے کے بعد سابق حکومتوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کا بہت بڑا بوجھ تھا ۔ ہم نے 4 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کیا جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو گیا ۔ دوسری جانب ہمارے اوپر پاور سیکٹر کا بہت بڑا بوجھ تھا کیونکہ سابقہ حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کئے ہوئے تھے جن کے ذریعے بہت مہنگی بجلی مل رہی تھی اور ہماری صنعتیں خطے کے دیگر ممالک کی صنعتوں کا مقابلہ مہنگی بجلی کی وجہ سے نہیں کر پا رہی تھیں ، اسی لئے ہماری معیشت اوپر نہیں اٹھ رہی تھی ۔ دوسری جانب عوام کو بھی مہنگی بجلی مل رہی تھی ۔ اب آمدن بڑھنا شروع ہو گئی ہے ۔ جولائی میں ہدف سے زائد ٹیکس وصولی ہوئی ہے، اس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے اور یہ بھی بہت بڑی خوشخبری ہے کہ کورونا کے باوجود ہماری برآمدات بڑھنا شروع ہو گئی ہیں جبکہ پوری دنیا کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں ۔ اس کے علاوہ لائن لاسز اور چوری کو کم کرنے کے لئے حکومت اصلاحات کا پیکج لا رہی ہے جس سے چوری بھی کم ہو گی اور بجلی کی قیمت بھی کم کی جائے گی ۔ حالیہ حکومتی اقدامات اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ حالات یونہی چلتے رہے تو حکومت یقینا اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کےلئے بڑے پیمانے پر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو پرکشش مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ جو فی کس ;200;مدنی میں اضافے کا باعث بنے گا، کئی دہائیوں سے مایوسی کا شکار عوام اب اچھے کی امید کر سکتے ہیں ، اگر ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی، چین سمیت دیگر ممالک سے ہونے والے تجارتی اور توانائی معاہدوں کی تکمیل میں اندرونی و بیرونی عوامل رکاوٹ نہ بنے تو روشن پاکستان کے دیرینہ خواب کی تعمیر کچھ زیادہ دور نہیں ۔ توانائی بحران کی ایک بڑی وجہ بجلی چوری میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ اور اس کی روک تھام میں ناکامی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013-14 کے دوران 90 ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی، اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ بجلی چوری کے معاملے ریکارڈ کئے گئے، جبکہ پنجاب جہاں بلوں کی وصولیوں کی شرح بھی 90 فیصد سے زائد ہے، وہاں بجلی چوری باقی صوبوں کی نسبت انتہائی کم ہے ۔ بجلی کی چوری میں کمی لانے کے حکومتی اقدامات خود واپڈا ملازمین کی صارفین سے ملی بھگت کے باعث ناکام ہو جاتے ہیں ۔ جس کا خمیازہ عام صارف کو طویل لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔ لہٰذا بجلی چوری کی روک تھام سے بھی اس بحران کے حل ہونے میں کافی مدد ملے گی ۔

جشن آزادی۔۔۔کشمیریوں سے بھرپوراظہاریکجہتی

مملکت خدا داد پاکستان کا 74 واں یوم آزادی پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک سر زمین کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا جائے گا ۔ جشن آزادی کی تقریبات کا آغاز صبح سویرے اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی سے ہوا ۔ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں اکتیس اور لاہور کے محفوظ شہید گیریژن میں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی ۔ دن کا آغاز ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کےلئے خصوصی دعاءوں کے ساتھ ہوا ۔ اس موقع پر علماء کرام اور مشاءخ عظام نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں بھی خصوصی دعائیں کیں ۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں پاکستان کی سلامتی کےلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔ ایوان صدر اسلام آباد میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی مہمان خصوصی تھے ۔ جشن آزادی کو پوری شان و شوکت سے منانے کےلئے لوگوں نے محلوں ، گلیوں ، گھروں اور فلیٹوں کو جھنڈیوں سے سجایا ۔ ملک بھر میں یوم آزادی پر مختلف جماعتوں و تنظیموں نے ریلیاں نکالیں ۔ ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست بھرپور جوش و جذبے سے منایا ۔ پوری وادی پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ۔ فوجی محاصرے کے باوجود سری نگر کے در و دیوار پر پاکستان جیوے کے نعرے درج کر دیئے گئے ۔ کشمیریوں کا کہنا تھا پاکستان کے ساتھ ان کا رشتہ لازوال ہے ۔ قابض فوج نے جموں جیل میں قید حریت رہنما اشرف صحرائی کی فیملی کو ان سے ملنے سے روک دیا ۔ دیگر کشمیری رہنماءوں کو بھی بھارتی سرکار کی ناجائز پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر میں ناءوگام بائی پاس کے قریب پولیس پارٹی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ۔ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہوگئے ۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، حملے کے بعد پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا ۔ اس کے باوجود غیور اور بہادر کشمیریوں نے پاکستان کے حق میں ریلیاں نکالیں اور جشن منایا ۔ کشمیر جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ۔