- الإعلانات -

وزیراعظم کافرمان!

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کے خلاف خصوصی اجلاس میں حکم دیا کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لائی جائے اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی فرمایا کہ وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ آٹا،چینی اور ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں ہر صورت کمی کی جائے;46; بلکہ جوبات شبلی فراز نے کہی ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے ذاتی مفاداور اشرفیہ کے لیے پالیسیاں بنائیں ۔ عمران خان نے ہمیشہ غریب طبقہ کے لئے سوچاہے ۔ شبلی فراز صاحب ہر حکمران نے جو بھی پالیسی بنائی وہ غریبوں کے مفاد میں نہیں تھی ۔ اسی طرح موجودہ حکومت کی پالیسیاں بھی عوامی مفاد میں نہ ہیں ۔ یہ سب کچھ بھی ڈرامہ بازی ہے آپ کی پالیسیاں بھی ماضی کی طرح حکمران طبقہ کے مفادات کی نگرانی کے لئے ہیں ۔ عوام ہر دور ہر حکمران اور ہر پالیسی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ عوام سے خوبصورت وعدے حکمرانوں سے کرائے جاتے ہیں ان نعروں کی خوب تشہیر کی جاتی ہے مگر نتاءج ہمیشہ مخصوص اور متعبرطبقہ کےحق میں نکلے ہیں ۔ حکومتی وزیر کا فرمان تھاکہ آٹا، چینی، گھی کی قیمتوں میں ہر صورت کمی لائی جائے ۔ اس طرح کے مبہم اور نامعقول بیانات عوام کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہیں کیونکہ گندم، آٹا اور چینی بھی سرکاری قیمتوں سے زیادہ قیمتوں پر ہر جگہ فروخت کی جا رہی ہیں ۔ عوام بازاروں میں لٹ رہے ہیں ;46; اور حکمران صرف وعدوں نعروں کے ذریعے عوام کو رام کرنا چاہتے ہیں ;46; کیا حکمران کے لئے اتنا کہنا کافی ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو ہر صورت کم کیا جائے گا!کیا اتنا کہہ دینے سے قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی;238;قیمتوں کو کیا سرکاری قیمتوں پر لائے بغیر حکمران اپنی ساکھ بچا سکتے ہیں ;238;شبلی فراز آپ نے فرمایا ہے کہ تمام حکمرانوں نے ذاتی مفاد اور اشرفیہ کے لیے پالیسیاں بنائی ہیں اور موجودہ حکومت نے صرف اور صرف عوامی مفاد کی خاطر پالیسیاں اختیار کی ہیں ۔ یہ بھی عوام کے ساتھ دھوکا فراڈ ہے ۔ آپ کی کیا پالیسی تھی کہ تیل کی قیمتیں گزشتہ ریکارڈ حد تک بڑھائی گئیں ;46; آپ کی کیا پالیسی تھی جب تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور آپ کی انتظامیہ تیل کی فراہمی پوری نہ کر سکی! فراز صاحب گندم کی قیمت فروخت 3500 روپے تھی اورمارکیٹ میں عوام نے 5200کی فی بوری خرید کی;46; چینی کا بھاؤ 70 روپے کلو تھا اور چینی ہر دوکان پر 100 روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہی ہے ۔ گندم آٹا چینی سرعام سرکاری قیمت کی بجائے مہنگے داموں میں سربازار بک رہی ہیں ،آپ ستو پی کر آرام کر رہے ہیں ۔ عمران خان صرف تقا ریر،نعروں اور اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا;46; ہر دور میں حکمران حکم نامے جاری کر دیتے ہیں ;46; عوام کو خوش اور بلیک میل کر لیا جاتا ہے ۔ آج بھی خوبصورت نعرے و اعلانات کیے جارہے ہیں ، کل نہ چینی کی قیمت کم ہو گی نہ آٹاسرکاری ریٹ پر میسر آئے گا اورنہ دوسری اشیاء ضرورت حکومتی ریٹوں پر میسر آئیں گی ۔ اسی طرح آپ نے پھر عوام کوخوشخبری دینے کی بات کی ہے;46; آپ مہنگی بجلی خریدرہے تھے اور عوام کو سستے داموں بجلی فراہم کر رہے ہیں اور آپ نے پاور کمپنیوں سے بجلی سستی کرنے کے معاہدے کیے ہیں ;46; اور آپ عوام کو سستی بجلی فروخت کریں گے! خان صاحب عوام الناس کو ڈر ہے کہ آپ خوبصورت وعدے کرکے عوام کے ساتھ دھوکہ کر جاتے ہیں ۔ آپ کہتے کچھ اورہیں اور کرتے کچھ اورہیں خان صاحب! آٹا، چینی، گھی کی قیمتوں کو آگ لگ چکی ہے ۔ ان کی قیمتوں میں آپ ضروری کمی بھی نہیں کر سکے یہ تمام اشیاء حکومت کے مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ پر ہر جگہ پر بک رہی ہیں ۔ آپ کی انتظامیہ خواب خرگوش میں مزے لیتے ہوئے عوام کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہے! خان صاحب! سبزی فروٹ منڈی گوشت منڈی سے ڈی سی اور اے سی کو بنیادی ضروریات کی اشیا گھر بیٹھے مفت مل جاتی ہیں ۔ منڈی مافیا دن رات ڈی سی اور اے سی کے دفاتر میں محفلیں سجاتی ہیں ;46; انتظامی مافیا حکمرانوں کو سب اچھا کی رپورٹ دے کر عوام کا استحصال اور حکمرانوں کی بدنامی و ناکامی کی راہ ہموار کرتی رہتی ہے ۔ خان صاحب عوام نے تبدیلی کےلئے آپ کو ووٹ دیے تھے کیا یہی تبدیلی ہے کہ عوام تھانہ کچہری میں لٹتے پھریں ! کیا یہی تبدیلی ہے کے سائل افسران کی دہلیز پر دھکے کھاتے پھریں ! اور پرسان حال کوئی نہ ہو! کیا یہی تبدیلی ہے کہ آپ کے ممبران اسمبلی ڈکٹیٹر بن کر نامعقول افراد کو معقول افراد پر مسلط کر دیں ;46; کیا عمران خان یہی تبدیلی ہے کہ آپ کے ضلع میں ڈپٹی کمشنر بعض افراد کو خوش کرنے کےلئے روڈ کے ساتھ بنی غریبوں کو جھگیوں کو بغیر ضرورت کے اکھیڑ کر غریبوں کو خود کشیوں پر مجبور کر دے! خان صاحب ولایتی مشیروں کے ساتھ دیسی مشیروں سے بھی مشورہ کر لیا کریں ورنہ آپ ورلڈ بینک وغیرہ کو تو خوش راضی کر لیں گے مگر عوام سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور دیسی مشیروں کے مشورے آپکو عوام میں مقبول اور معتبر بنائیں ۔