- الإعلانات -

ڈھیر

ڈھیر کسی چیز کا بھی ہو سکتا ہے ۔ مگرکراچی کے کچرے کے ڈھیر سب سے مشہور ہیں ۔ اگر ڈھیر کی بات کسی بزنس مین سے کریں تو اس کے ذہین میں نوٹوں کا ڈھیر آئے گا ۔ اگر ڈھیر کی بات کسی کراچی والے سے کریں تواس کے ذہین میں کچرے کے ڈھیر آئیں گے ۔ اسی طرح اگر بچوں سے ڈھیر کی بات کریں تو ان کے ذہنوں میں کتابوں کے ڈھیر آئیں گے ۔ انسان کے ذہن میں وہی چیزیں سامنے آتی ہیں جن سے انہیں واسطہ رہتا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ ڈھیر کسی چیز کے بھی ہو ں نقصان ہوتا ہے ۔ جیسے ایک ڈھیر ایمونیم ناءٹریٹ کا بیروت کی بندگاہ پر کافی عرصے سے پڑا تھا ۔ ویلڈنگ کرتے ہوئے ایک چنگاری اس ڈھیر کو لگی ۔ جس سے ڈھیر میں آگ لگی اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔ اس دھماکے سے یوں لگا جیسے تین اعشاریہ پانچ کا زلزلہ آیا ہو ۔ اس ڈھیر کے دھماکہ سے پورا علاقہ لرز گیا ۔ اس حادثے میں سوسے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور اس سے کئی زیادہ زخمی ہوئے ۔ کسی زمانے میں ہمارے ہاں راولپنڈی اوجڑی کیمپ میں اسلحہ کا ڈھیر تھا جس کئی سے آگ لگی اور پھر ہر طرف گولے چلنے شروع ہوئے ۔ میزائل پھٹے اور اسلام آباد کے دور دراز گنجان علاقوں میں جا کر گرے تھے ۔ جس میں سابق وزیراعظم خاقان عباسی کے والد مرحوم بھی ایک میزائل کا نشانہ بنے ۔ یہ حادثہ ان کے ساتھ اس وقت پیش آیا جب آپ گاڑی میں گھر جا رہے تھے اور ایک میزائل کی زد میں آ کر آپ اللہ کو پیارے ہوئے ۔ یہ بھی اسلحہ کا ایک ہی ڈھیر تھا ۔ ہمارے ہاں وہ بھی جگہیں ڈھیر ہی کہلاتی میں جہاں بے سہارا بے روزگار بچے بوڑھے مرد عورتیں رزق تلاش کرتے ہیں ۔ جہاں اکثر ہ میں جانور اور انسان اکھٹے اپنا اپنا رزق تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ ڈھیر ہی ہیں جو انسانوں اور حیوانوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ چونکہ یہ محلے گلیوں والے ڈھیر کسی کے زیر سرپرستی نہیں لگتے لہٰذ ا یہاں سے تلاش کرنے والوں کو انہیں اتنا رزق مل جاتا ہے جتنا قدر ت نے لکھ دیا ہوتا ہے ۔ ذخیرہ دوز بھی اجناس کا ڈھیر لگاتے ہیں ۔ پھر اسی ڈھیر سے وہ نوٹوں کے ڈھیر بناتے ہیں اور خود ان پر سانپ بن کر بیٹھ جا تے ہیں ۔ اس وقت تک بیٹھے رہتے ہیں جب خود مٹی میں نہ چلے جائیں ۔ ڈھیر خواہ کچرے کے ہوں ، یا اسلحے کے یا مافیا کے بنائے گئے ڈھیر سبھی ڈھیر برے انسانوں کےلئے برے اور نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ جن علاقوں میں ایسے ڈھیر ہوں جہاں انسان اپنا رزق تلاش کر کے کھاتے ہوں ان کے رہائشیوں کے حج عمرے نمازیں کیسے قبول ہو سکتی ہیں ۔ ہم حج عمرے اس ذات کی خوشنودی کےلئے کرنے جاتے ہیں ۔ جبکہ وہ ذات جس کی خوشنودی کے لئے جاتے ہیں اس کا کہنا ہے تم اگر مجھ سے پیار کرتے ہو تو میری مخلوق سے پیار کرو ۔ انہیں بھی وہی کھانے پینے کو دو جو تم خود کھاتے ہو پیتے ہو ۔ کیا ہم ایسا کرتے ہیں ۔ ایک دوست نے بتایا کہ عید کے دوسرے روز ہمارے محلے کے بابا جی اپنی چھڑی سے محلے کے ڈھیروں کا معائنہ کر رہے تھے ۔ یہ بزرگ کچھ ہفتے قبل ہی فارن سے آئے تھے ۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے ان کا تعلق تھا ۔ مجھے اس طرح انہیں دیکھ کر حیرت ہوئی ۔ میں نے انہیں سلام کیا ۔ پوچھا کیا کوئی چیز گم ہوئی ہے ۔ کہا نہیں ۔ بس شک تھا کہ کسی نے گدھانہ کاٹ لیا ہو ۔ میں نے کہا سمجھا نہیں ۔ کہا جب میں آیا تھا ایک لاغر گدھا اکثر یہاں دیکھا کرتا تھا ۔ اب کچھ دنوں سے یہ غائب ہے ۔ سوچتا ہوں لوگ گدھے کا گوشت شوق سے کھاتے ہیں ۔ کئی اسی شوق میں اس گدھے کا کام بھی کسی نے تمام نہ کر دیاہو ۔ لہٰذا اس کا کھرا تلاش کر رہا ہوں ۔ پوچھا کچھ ملا ۔ کہا ہاں گدھے کے بال دیکھے ہیں ۔ پھر مجھے بھی وہ بال دکھائے ۔ میں بال دیکھ کر پہچان گیا یہ تو بابا رحمتے کے سر کے بال ہیں ۔ یہ بابا کافی پریشان تھا کہ کہ عید آ گئی ہے ۔ اس کے پاس نائی کو دینے کو پیسے نہیں تھے ۔ میں ہی اسے نائی کے پاس لایا تھا ۔ اس کے پیسے بھی میں نے ہی دئے تھے ۔ یہ بال اسی بابا رحتے کے ہیں ۔ پھر ان کے چہرے پر مسکڑاہٹ دیکھی اور میرے ساتھ اپنے گھر کی طرف چلا دئے ۔ اس دوران پوچھا بزرگوں بتائیں کہ گدھے کا خیال آپ کو کیسے آیا ۔ کہا میں فارن میں تھا ۔ وہاں مجھے بے شمار وڈیو کلپ دیکھنے کو ملے ہیں جس میں بتایا اور دکھایا گیا تھا کہ خاص کر لاہور میں لوگ بڑے شوق سے گدھے کا کڑائی گوشت کھاتے ہیں ۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے جب تک شک دور نہ ہو جائے وہ شک حقیقت کا روپ دھارے رکھتا ہے ۔ اچھا ہوا آپ مل گئے اور یہ شک دور کر دیا ۔ پھرکہا جو حرام کی کمائی کھاتے ہیں وہی حرام جانور کا گوشت بھی کھانا پسند کرتے ہیں ۔ پانچ اگست کے دن بابا کرمو کے ہاں گیا ۔ بابا کرموں سے پوچھا لگتا ہے کئی جانے کی تیاری میں ہیں کہاں جانے کی تیاری ہے ۔ کہا سری نگر ۔ میں نے کہا وہاں تو بھارت کا قبضہ ہے ۔ کرفیو لگا ہوا ہے ۔ آپ وہاں کیسے جا سکیں گے ۔ کہا مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا کہ پچھلے سال پانچ اگست دوہزار انیس کو بھارت نے اپنی فوج اس مقبوضہ کشمیر میں داخل کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا پھر وہاں کرفیو لگا دیا تھا ۔ ہم نے ایک واءف سٹار ہوٹل کے ساتھ اسلا آباد میں ایک بہت بڑی تاریخ دن بتانے والی کھڑی لگا دی تھی ۔ ہم سمجھے کہ چوبیس گھنٹوں میں ہم بھی مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لیں گے ۔ مگر سال ہو چلا ہے کچھ بھی نہیں کیا ۔ اب سال کے بعد نقشہ بناکر کشمیر کا نام بدل کر سری نگر روڈ رکھ کیا ہے ۔ دعا کریں کہ بھارت اس کا برا نہ منائے ۔ اگر ہم بھارت کو اینٹ کا جواب پتھرسے دیتے تو آج نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔ اب ہم نے نقشہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔ اس کے بعد اب تو ضروری ہو گیاہے کہ ہم بھارت سے اپنا علاقہ ہر حالت میں آزاد کرائیں ۔ ورنہ دنیا والے ہ میں طعنے دیں گے ۔ ہ میں کس چیز کی کمی ہے ۔ ایمان بھی ہے ایٹم بم بھی ہے ، فوج بھی ہے اور عوام میں جوش بھی ہے اور اب روڈ میپ بھی ہے ۔ آءو اس نقشے پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو لوہے کے چنے چبانے جائیں ۔ بابا کرمو نے کے ساتھ اسلام آباد کا سڑکوں کا چکر لگا یا لیکن اس موقع پر مودی کی بڑی بڑی تصویریں نصب کرنے کی منطق سمجھ نہیں آئی ۔ جھنوں نے ایساکرنے کی تجویز دی اس پر غصہ ہ میں ضرور آیا ۔ مودی کو یاد رکھنا چائیے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا ۔ پرندہ جب زندہ ہوتا ہے تو وہ چو ونٹیوں کو کھا تاہے مگر جب مر جاتا ہے تو اسے چونٹیاں ہی کھاتی ہیں ۔ مودی نے جو نفرتوں کے بیج بھارت میں بوئے ہیں اب وہ فصل پک چکی ہے ۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔