- الإعلانات -

ہندو توانظریہ،بھارت تباہی کی طرف بڑھ رہاہے

امریکی تحقیقاتی جریدہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت ہندو توا نظریہ کی وجہ سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ چند انتہا پسند افراد اور ادارے اپنی گندی سیاست اور ذاتی مفادات کی خاطر ملک کوکھائی میں دھکیل رہے جہاں سے نکلنا مشکل ہوگا ۔ بھارت میں انتہا پسندی اس حد تک بڑھ رہی ہے جو مستقبل میں خطے کیلئے خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دور اقتدار اور خصوصاً دوسرے دور اقتدار میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ، مسلمانوں کا قتل عام اور انکے حق شہریت کو کھونا یہ ایسے گھناءونے اقدامات ہیں جو بھارت کو غیر محفوظ ملک بنا رہے ہیں ۔ اسی طرح صدر ٹرمپ کے دورہ کے دوران درجنوں مسلمانوں کے قتل میں سکیورٹی فورسز کا ملوث ہونا، بھارت کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس نازی ازم سے متاثر ہیں ۔ بابری مسجد کو منہدم کر کے ایل کے ایڈوانی نے بھی گھناوَنا کھیل کھیلا ۔ مودی اور امیت شاہ کے اقدامات آر ایس ایس منشور کا حصہ ہیں ۔ بھارت کے اندرونی خلفشار کا باعث اس کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے انتہا پسند رہنما ہیں جو ہٹلر کی سوچ سے متاثر ہیں ۔ اندرا گاندھی نے بھی نفرت کی فضا پیدا کی تھی ۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا مسلمانوں کی نسل کشی اور آئین کی تباہی میں اہم کردار ہے ۔ ہندو انتہا پسندی کو پروان چڑھانے میں بابا رام دیو کا کردار بھی بڑا بھیانک ہے ۔ بھارتی عدلیہ کو تباہ کرنے میں سابق چیف جسٹس رنجن گنگوئی کا ہاتھ ہے ۔ بابری مسجد کو ہندوءوں کے حوالے کرنا اور کشمیر سمیت دیگر ایشوز پر آنکھیں بند کرنا بھارتی عدلیہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں ۔ آر ایس ایس کا دیرینہ موقف یہ رہا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر شخص، چاہے وہ کسی بھی مذہب پر عمل کرتا ہو، ہندو ہی ہے ۔ آر ایس ایس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ دستور ہند کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی نے الیکشن مہم کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو مسلم اکثریتی ریاست سے الیکشن لڑنے پر طعنے دیے ۔ انہیں ہندو مخالف کہا گیا ۔ بی جے پی کا سب سے بڑا الیکشن ایشو قومی سلامتی تھا ۔ الیکشن سے چند ہفتے پہلے بالاکوٹ فضائی حملے کے سوچے سمجھے منصوبے نے مودی کی فتح میں بڑا کردار ادا کیا ۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ۔ ہندوتوا پر کانگریس کا سخت موقف نوجوان اور جذباتی ہندو ووٹروں کو ان سے دْور لے گیا ۔ مودی نے راہول کو ہندو دشمن اور مسلم دوست کہا تو راہول ان الزامات پر دفاعی پوزیشن میں چلے گئے ۔ راہول نے الزامات دھونے کے لیے مندروں کی یاترا اور پوجا پاٹھ شروع کردی ۔ اس طرح خدا ہی ملا نہ وصال صنم، کے مصداق راہول سیکولر ووٹر کو بھی مودی کی جھولی میں ڈال گئے ۔ مودی کی تقریر میں راہول اور سیکولرازم کو نشانہ بنانا واضح کرتا تھا کہ بھارت کی سیکولر شناخت ختم کرکے اگلے 5 سال ملک کو ہندو راشٹر میں ڈھالنے کا کام کیا جائے گا ۔ مودی اس کی بنیاد پہلے دور میں رکھ چکے تھے ۔ کاشی وشوا ناتھ مندر کے لیے کوریڈور کی تعمیر شروع ہوچکی تھی ۔ اس مندر کے ساتھ کھڑی مسجد کو بھی بابری مسجد جیسے خطرات کا سامنا ہے ۔ مودی کا دنیا کو یہ کہنا کہ اب بھارت کو سپر پاور تسلیم کیا جانا چاہئے، ان کی خارجہ پالیسی کا عکاس ہے ۔ سپر پاور کہلوانے کے شوقین مودی قومی سلامتی کے ایشو پر الیکشن جیت کر آئے ۔ مودی نے پہلا الیکشن بھی قومی سلامتی کے ایشو پر لڑا اور اس وقت کے مرنجاں مرنج وزیراعظم منموہن سنگھ کو کھلے عام یہ طعنہ دیتے رہے کہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے چھپن انچ کا چوڑا سینہ چاہئے ۔ بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو کانئی دہلی میں مسئلہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ بارے کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ 370 کا خاتمہ ;34;اکھنڈ بھارت;34; کے ہدف کی طرف پہلا قدم تھا اور اس کا اگلا قدم آزادکشمیر کو واپس لینا ہوگا ۔ ہمارا اگلا ہدف پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں بھارت کی سرزمین کو واپس لینا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما نے واضح کیا کہ 1994 ء میں بھارتی پارلیمنٹ نے آزادکشمیر کو واپس لینے کی قرارداد منظور کی تھی لہذا اس پر عمل درآمد کا وقت آگیا ہے مگر یہ مرحلہ وار ہوگا ۔ پہلے مرحلے میں جموں و کشمیرکو جو مرکزی دھارے میں نہیں تھا، مکمل طور پر بھارت کے ساتھ جوڑدیا گیاہے ۔ اب اگلے مرحلے میں آزاد کشمیر کو حاصل کرنے بارے سوچا جائےگا ۔ اکیسویں صدی کا بھارت 20 ویں صدی کے بھارت سے مختلف ہے جو رومانوی اور خاموش تھا کیونکہ اس میں تازہ تازہ آزاد ہونے والے لوگوں کے خواب تھے اورمجاہدین آزادی ان کی حکمرانی کررہے تھے ۔ لیکن 21 ویں صدی کا بھارت عملی ، فعال اور متحرک ہے کیونکہ یہ نوجوانوں کا ہے ۔ نوجوانوں کی بڑی آبادی اور معاشی طاقت کی بنیاد پر عالمی رہنما بن کر ابھرنا بھارت کا مقدر ہے ۔ بھارت میں عمومی رائے یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔ اس دعوے کو تقویت دینے کےلئے مودی حکومت یہ کہتی ہے کہ پانچ اگست کو کئے گئے فیصلے کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونما نہیں ہوئے ۔ لہذا کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے اس بڑے فیصلے کو قبول کر لیا ہے ۔ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے ۔ پاکستان کا دعویٰ یہ ہے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیری علیحدگی پسند اپنے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور گذشتہ تین دہائیوں سے وادی کو مسلح شورش کا سامنا ہے ۔