- الإعلانات -

سید علی گیلانی کےلئے پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز

وطن عزیزکے 74ویں یوم ;200;زادی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو سب سے بڑے سول اعزاز نشانِ پاکستان عطا کیاگیا ہے ۔ یہ اعزاز صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں عطا کیا جسے اسلام ;200;باد میں موجود حریت رہنماؤں نے وصول کیا ۔ 29ستمبر 1929کو پیدا ہونے والے88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا ;200;واز ہیں ۔ ان کی ساری زندگی کشمیر پاکستان،کشمیر پاکستان کی مالا جپتے گزری ہے ۔ وہ اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں ۔ بھارت کی بربریت کو سہتے سہتے ان کی عمر بیت گئی ہے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے،قید و بند کی صعوبتیں اس بوڑھے شیر کا بال بھی بیکا نہیں کر پائیں ۔ ان کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو یہ اعزاز بھی کم ہے ۔ آج بھارت اپناسیاسی اور ناجائززمینی قبضہ مضبوط بنانے کے لئے ہر حربہ آزما رہا ہے لیکن حریت پسندوں کے عزم کمزور نہیں ہو سکے ۔ لاکھوں کورونا متاثرین کے ساتھ نریندر مودی کا بھارت دنیا میں اول پوزیشن پر ہے روزانہ ایک ہزار سے زائد بھارتی اس سے مر رہے ہیں لیکن مودی سرکار کو ککھ پروا نہیں ۔ اسے صرف اس بات کی فکر ہے کشمیر پر73برس سے جاری غیر قانونی قبضے کو کیسے مضبوط کیا جائے اور دنیا کی آنکھ میں کیسے دھول جھونکی جائے ۔ مودی جس طرح اپنے گھر کے معاملات سے بے فکر ہو کر پڑوسی ممالک کے خلاف سرگرم ہیں وہ بھارت کے وجود کےلئے خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ خالصتان تحریک بھارت کی بنیادیں ہلانے کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ 1947والی تقسیم ہند کی تاریخ کسی بھی مرحلے پر دوہرائی جاسکتی ہے ۔ بھارت میں خالصتان تحریک اتنی زور پکڑچکی ہے کہ گزشتہ روزضلع موگا کے ڈی سی آفس پر خالصتان کا پرچم لہرادیا گیا جس کے بعد بھارتی حکام میں کھلبلی مچ گئی ،دوسری جانب امرتسر میں بھی سکھوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور آزادی کے بینرز تھام کر نعرے بلندکرتے رہے ۔ بھارتی پنجاب کے ضلع موگا میں بھارت کا یوم آزادی مقبوضہ کشمیر کی طرح یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے ترنگا اتار کر خالصتان کا پرچم لہرانا کوئی چھوٹا موٹا واقعہ نہیں ہے ۔ یہ اس بات کا پیغام ہے کہ مودی جی پہلے اپنے گھر کی خبر لو ۔ تقسیم ہند کی ایک نئی داستان لکھی جانے والی ہے ۔ کشمیر پر تو تیری فوج نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ابھی تک کچھ حاصل نہیں کیا ۔ اسی چکر میں مشرقی پنجاب کہیں تیرے ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔ کشمیر مسلم اکثریتی وادی کی متنازعہ حیثیت یو این او کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے ۔ 5اگست 2019کا سورج جب طلوع ہوا تو وادی کا چپہ چپہ لاکھوں بھارتی فوجیوں کے نرغے میں تھا ۔ ذراءع ;200;مدورفت بند اور کشمیر کا مواصلاتی رابطہ دنیا سے کٹ چکا تھا ۔ مساجد امام بارگاہوں اور سکولوں پر تالے اور فوجی پہرے لگا دیئے گئے ۔ اخبارات تک کی اشاعت معطل کر دی گئی ۔ سوا کروڑ ;200;بادی کا یہ مسلم اکثریتی علاقہ تاریخ انسانی کی سب سے بڑی جیل بن چکا تھا ۔ بظاہر کشمیرکی زمین فتح کرنے میں کامیاب مودی سرکار کشمیریوں کے دل نہ جیت سکی اور نہ ان کی ;200;واز کو دبایا جا سکا ۔ خاص طور پر نوجوان ، محسوس کرتے ہیں کہ نئی دہلی کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں رہا اور اب ان کے سامنے صرف دو ہی راستے بچے ہیں کہ وہ نئی دہلی کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا اس کے خلاف مزاحمت کےلئے نکل کھڑے ہوں ۔ اس ایک سال کے دوران ریکارڈ شہادتیں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ۔ مودی حکومت نے پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ جس کے نتیجے میں اب تک بھارتی فوج کے ہاتھوں 217کشمیری شہید ہو چکے ہیں جن میں 4خواتین اور10نو عمر بچے شامل ہیں ۔ ایک ہزار سے زائد زخمی اس کے علاوہ ہیں ۔ 14 خواتین بیوہ اور 29 بچے یتیم ہوئے جبکہ 64 خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔ 827 افراد پیلٹ گنز سے زخمی ہوئے جن میں سے 162 بینائی کھو بیٹھے ۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں ،کارکنوں اور عام شہریوں سمیت 13 ہزار کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا ۔ اس ایک سال میں حریت پسند جو مزاحمت میں مصروف ہیں وہ سب مقامی کشمیری اور مختلف مقامی تنظیموں کے کمانڈر ہیں ۔ دوسری طرف اس عرصے میں سینکڑوں حریت رہنماؤں ،سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں ،مذہبی سربراہوں ، صحافیوں ، تاجروں ، وکلا اور سول سوساءٹی کے ممبروں ، نوجوانوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ جو اَب بھی تہاڑ اور مقبوضہ کشمیر کی دیگر جیلوں میں بند ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر;73;ndian illeglly ;79;ccupied ;74;ammu and ;75;ashmir میں سیکیورٹی فورسز کو زمین کے حصول کےلئے درکار1971کے سرکلر کے مطابق این او سی کی شرط ختم بھی ختم کردی گئی ہے ۔ نئے حکم نامے کے تحت بھارتی فوج، بارڈر سیکیورٹی فورسز، پیراملٹری فورسز اور اسی طرح کے دیگر اداروں کے عہدیدار محکمہ داخلہ کے این او سی کے بغیر زمین حاصل کرسکیں گے ۔ اسی طرح ہندوتوا ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کشمیری مسلمانوں کو اہم عہدوں سے ہٹاکر انکی جگہ ہندووَں کوتعینات کیا جا رہاہے ۔ دوسری جانب بھارت نے آزادی پسند نوجوانوں اور کارکنوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کےلئے 44 نئے افسروں کا تقررکیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو جس اذیت کا سامنا ہے اس کا ذکر توبھارت رکن راجیہ سبھاچدم برم نے ایک آرٹیکل میں مقبوضہ کشمیر کے ایک بڑی جیل میں تبدیل کئے جانے کے اعتراف کے ساتھ لکھا ہے کہ 5اگست 2019 کے اقدام سے مودی سرکار جو کچھ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے گزشتہ ماہ کی 18تاریخ کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شوپیاں میں ایک جعلی مقابلے میں راجوری کے تین بے گناہ مزدوروں کے قتل کے خلاف واقعہ کی کسی بین الاقوامی ادارے کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن راءٹس واچ سے اپیل کی ہے کہ وہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے لیے اپنی ٹی میں بھیجیں ۔ ادھر اٹلی کے شہر بریسیا میں کشمیر کانفرنس کے شرکا نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں ۔