- الإعلانات -

حق آ کر اور چھا کر رہے گا

انیس سو سینتالیس میں جب برطانوی حکمرانوں نے برصغیر سے اپنا بوریا بستر سمیٹا تو جاتے جاتے کشمیر کا مسئلہ تحفے کے طور پر چھوڑ گئے تاکہ دونوں نوزائیدہ ممالک اسی مسئلے میں الجھے رہیں اور کبھی سکھ کا سانس نہ لے سکیں مسئلہ کشمیر کی بدولت ہندوستان اور پاکستان کے مابین جہاں دیگر اختلافات دیکھنے میں آئے وہاں اسلحہ کی دوڑ کو بھی نمایاں خصوصیت حاصل رہی دونوں ممالک ایک دوسرے پر فوجی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نظریاتی طور پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کو ایٹمی اسلحے کی دوڑ میں مصروف ہونے کی بجائے دوسرے کاموں پر توجہ دینی چاہیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جس کے چاروں طرف موجود ممالک اپنی افواج کو ایٹمی اسلحہ سے مسلح کر رہے ہیں اور خصوصاً بھارت جس سے ماضی میں پاکستان کی چار جنگیں ہو چکی ہیں اپنی فوج کو ایٹمی میزائلوں سے مسلح کر رہا ہے جبکہ تنازعہ کشمیر کے تناظر میں مستقبل میں کسی جنگ کے امکان کو بالکل مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مطابق اس دوڑ میں شرکت ضروری ہے کیونکہ اب ایک فریق جو کینہ پرور وعدہ خلاف بدنیت غا صب اور دشمن نمبر ون ہو اور اپنے آپ کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح کر رہا ہوں تو دوسرے فریق کو مجبوری کی بنا پر طاقت کا توازن اور اپنی سلامتی برقرار رکھنے کےلئے نہ چاہتے ہوئے بھی اسی ناپسندیدہ دوڑ میں شرکت کرنا پڑتی ہے کیوں کہ سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے اور فوقیت رکھتی ہے اور آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت اس دنیا میں میسر نہیں ہے جس کو برقرار رکھنے کےلئے چند ناپسندیدہ فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہمیشہ امن کو ترجیح دیتا ہے اور پاکستان کی اس امن پسند پالیسی کو ہمیشہ دشمنوں نے بھی سراہا ہے امریکی ادارے نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ کرنیوالے ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے اور سب سے زیادہ موثر اقدامات پر متذکرہ امریکی ادارے نے پاکستان کی درجہ بندی میں سات پوائنٹ کا اضافہ کردیا ہے ۔ این ٹی آئی انڈیکس کے مطابق نئے قواعد لاگو کرکے پاکستان نے زیادہ تر اقدامات سکیورٹی اور کنٹرول سے متعلق کئے ہیں اور اس حوالے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں خود کو بہت بہتر بنالیا ہے ۔ انڈیکس کیمطابق پاکستان نے پلس 25 پوائنٹ حاصل کئے جبکہ گلوبل نارمز کیٹیگری میں بھی پاکستان کا پلس ون درجہ بڑھا ہے ۔ اسی طرح بھارت کے 41 کے مقابلے میں پاکستان نے 47 پوائنٹس حاصل کئے ۔ اس تناظر میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے تمام 22 ممالک کا موازنہ کیا جائے تو اثاثوں کے تحفظ میں پاکستان کا 19واں اور بھارت کا 20واں نمبر ہے جبکہ تنصیبات کے تحفظ میں 47 میں سے پاکستان کا 33واں اور بھارت کا 38واں نمبر ہے ۔ امریکہ کی سابق سفیر اور تخفیف اسلحہ سے متعلق کانفرنس کی مستقل مندوب لارا کینڈی نے این ٹی آئی انڈیکس میں پاکستان سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسدمجید نے این ٹی آئی رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے اور اس ٹیکنالوجی کے حصول اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے انتظامات بھی مکمل فول پروف ہوتے ہیں چنانچہ کسی بے احتیاطی کے نتیجہ میں ہماری ایٹمی تنصیبات سے ایسے نقصانات کا قطعاً اندیشہ نہیں جو بھارت بے احتیاطی کی بنیاد پر اپنی ایٹمی تنصیبات سے کئی بار اٹھا چکا ہے اور اس تناظر میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی کئی مواقع پر سنگین خطرات پیدا کرچکا ہے ۔ پاکستان نے درحقیقت بھارت کی جانب سے ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث ہی خود کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کیا تھا کیونکہ اس نے 1971ء کی جنگ میں مکتی باہنی کی سازش کے تحت پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد 1974ء میں ایٹمی دھماکے کرکے باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق کر دیئے تھے ۔ اسی تناظر میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جرمنی سے ملک واپس بلوا کر انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی ذمہ داری سونپی اور اعلان کیا کہ ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائینگے ۔ اس کیلئے بھی پاکستان کو یقیناً بھارت نے ہی مجبور کیا جس کی جنونی ہندولیڈر شپ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنا حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنا چکی تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس مشن کو ملک کی آنیوالی عسکری اور سیاسی قیادتوں نے خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچایا اور جب مئی 1998ء کے آغاز میں بھارت نے دوسری بار ایٹمی دھماکے کئے تو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑ میں ایٹمی بٹن دبا کر پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا باضابطہ اعلان کیا ۔ میاں نوازشریف کو ان دھماکوں کی بہت بڑی قیمت چکاناپڑی ۔ یہ بلاشبہ پاکستان کیلئے سرخروئی کا دن تھا جس کے باعث بدمست بھارت کا نشہ ہرن ہو گیا اور ہماری ملکی اور قومی سلامتی کی ضامن اس ایٹمی ٹیکنالوجی کے باعث ہی آج تک موذی بھارت کو پاکستان پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جراَت نہیں ہوئی ۔ تاہم اسکے جارحانہ عزائم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے اور آج جس طرح بھارت کی مودی سرکار پاکستان کی سلامتی کو اعلانیہ چیلنج کر رہی ہے اور بھارتی فوجوں نے گزشتہ ایک سال سے تسلسل کیساتھ کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ اسی بنیاد پر پاکستان نے کم سے کم ڈیٹرنس کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی اور استعداد میں اضافہ کیا چنانچہ آج بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی ایٹمی استعداد بھی زیادہ ہے اور گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے 105 ایٹمی وار ہیڈز کے مقابلے میں پاکستان کے پاس 115 ایٹمی وار ہیڈز ہیں ۔ اسی طرح پاکستان نے ٹیکنیکل ہتھیاروں میں بھی بھارت پر سبقت حاصل کی ہے ۔ 80ء کی دہائی میں بھارت اور اسرائیل پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملے کی سازش بھی کرچکے ہیں جو پاک فضائیہ نے بروقت ایکشن لے کر ناکام بنائی ۔ بیشک ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی ہی ہمارے دفاع کی سب سے بڑی محافظ اور ضامن ہے ۔ اگر بھارتی جنونیت سے پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی جنگ کی نوبت آئی جس کا مودی سرکار ماحول بنارہی ہے تو اس سے ہونیوالی تباہی کی داستان لکھنے اور سنانے والا بھی شاید بھارت کے پاس کوئی نہیں بچے گا ۔ اسی لئے پاکستان اقوام عالم کو بار بار یہ بات باور کروا رہا ہے کہ انڈیا کے جارحانہ اقدامات کو بروقت روکا جائے اور حالات کو انتہائی سنگین ہونے سے بچایا جائے مسلمان کبھی بھی لڑائی میں پہل نہیں کرتا ہے لیکن انڈیا اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہا ہے اور پاکستان کو جنگ پر مجبور کر رہا ہے اور خاکم بدہن کبھی ایسی صورت پیدا ہوئی تو نتاءج پوری دنیا دیکھے گی ۔