- الإعلانات -

سوچنے کاوقت

پی ٹی آئی کی حکومت نے بر سر اقتدار آنے کے بعد یہ کہنا شروع کردیا کہ انہیں تباہ حال معیشت ملی اس لئے اسے ٹریک پر لانے کیلئے بہت محنت کرنا پڑ رہی ہے ۔ ن لیگ جب اقتدار میں آئی تو انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگانے شروع کردیئے تھے کہ انہوں نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ۔ اب عمران خان کی حکومت ن لیگ کو کوس رہی ہے ۔ غریب عوام جنہوں نے پی ٹی آئی کو اسلئے ووٹ دیئے کہ انکی معاشی حالت بہتر ہوجائےگی ملک ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہوگا لیکن تیسرے سال میں داخل ہونے کے باوجود موجودہ حکومت،بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے ۔ اس وقت نہ تو عوام کا بھر پور اعتماد رہا نہ ہی سیاسی جماعتوں سے ورکنگ ریلیشنز بن پائے ۔ نتیجہ سوکنوں کی طرح اسمبلی اور ٹی وی چینلز پر لڑائی جھگڑے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ٹھنڈے دل سے نیوٹرل ہوکر آپ سوچیں تو ن لیگ کی حکومت جب برسراقتدار آئی تھی تو اس وقت بھی ملکی معیشت کا برا حال تھا لیکن اسحاق ڈار جو مالیات کے وزیر تھے انہوں نے بہترین پالسیز کے ذریعے نہ صرف ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا یعنی 7;46;65ارب ڈالر سے بڑھاکر اسکا والیم 18;46;46ارب ڈالر تک پہنچادیا یہ بھی سننے کو ملا کہ ذخائر 22ارب ڈالرز ہوچکے ہیں ، ان کی بہتر معاشی پالیسیوں کے ذریعے 5فیصد افراد سطح غربت کی لکیر سے اوپر گئے جسکا اعتراف غیر ملکی مالی اداروں نے بھی کیا ۔ ریونیو کا ہدف دوہزار ارب روپے سے بڑھ کر چار ارب تک پہنچا ، پاکستان کی جی ڈی پی سات فیصد تک لے جانے کی کوشش جاری تھیں ۔ اس دور میں ڈالر 102روپے تھا اور اب 167روپے کا ہے،آٹا جو بیس کلو تھیلی تھی سات سو دس روپے میں مل رہاتھا اب 1150روپے میں دستیاب ہے ، چینی 52روپے فی کلو تھی اور اب سو روپے کے قریب ہے ، کوکنگ آئل جو کہ پانچ لیٹر پیک میں 740روپے میں ملتا تھا اب 1300روپے میں ملتا ہے ۔ دالیں بھی بہت مہنگی ہوچکی ہیں چنے کی دال سو روپے سے دو سو روپے پر چلی گئی اسی طرح دیگر اشیاء خوردنوش بھی عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں ، عوام سوچ رہے ہیں کہ تبدیلی کیوں نہیں آئی اور ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرکے انہیں کیوں بیوقوف بنایا گیا ، ن لیگ کے تیرہ سالہ دور حکومت میں 5;46;8کی جی ڈی پی حاصل کی گئی جو پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں گر کر 10;46;9فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ۔ دوسرے سال پر شروع منفی 0;46;45پر آگئی ، ملکی قرضوں میں اضافہ ہوگیا ، نہ تو ان سے صوبوں کی حکومتیں سنبھل رہی ہیں اور نہ ہی وفاق کی سطح پر کارکردگی تسلی بخش ہے ، دنیا میں یہ طریقہ راءج ہے کہ اپوزیشن شیڈو وزراء بناکر حکومتی وزراء کی کارکردگی کیوں پر کڑی نگاہ رکھتی ہے ، خراب کارکردگی پر اعترافات کی بوچھاڑ کرنے میں لحاظ نہیں کرتے ، لگتایوں ہے کہ پی ٹی آئی نے ہوم ورک پر توجہ نہیں دی ۔ صرف جلسے ، جلوسوں اور تفریحات کو مدنظر رکھا ، وزراء کی کارکردگی سے کیوں عمران خان مطمئن نہیں ، انہیں جھنجھوڑ رہے ہیں لیکن کوشش کے باوجود اس حکومت کے پاؤں جم نہیں رہے ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کروالیتے ہیں غیر ملکی مالیاتی اداروں کا راج ہے ۔ حال ہی میں کرونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں ۔ فیسوں کی وصولی جاری ہے ، اب آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے جسکی وجہ سے بچے گھر ، بیٹھے نام نہاد پڑھ رہے ہیں ، نہ ان میں ڈسپلن رہا نہ کتابوں سے دلچسپی ،ہوم ورک بھی نہ تو کیا جارہا ہے اور نہ ہی چیک ہورہا ہے ۔ دو تین سوالات بتاکر پوری پوری مشقیں بچوں کے سر منڈھ دی جاتی ہیں کہ خود کریں ۔ ہر بچے کو فون سیل چایئے کیا والدین اس قابل ہیں کہ ہر بچے کو موبائل خرید کردیں ۔ تب وہ آن لائن کلاسز اٹینڈ کرسکتا ہے ۔ مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے آسانیاں تو ایک خواب بن چکیں ، پانچ سال پورا کرتے ہوئے نہ جانے مزید کیا گل کھلیں گے ۔ عوام کی زبانیں ٹیکس اور مہنگائی بوجھ تلے باہرنکل آئی ہیں ۔ حاضر سروس سرکاری ملازمین اور پیشنرز رہ گئے تھے جن پر رندہ نہیں پھیرا گیا تھا اب وہ بھی شکنجے میں لئے جارہے ہیں ، آئی ایم ایف کے کہنے پر بہت سے تجویزات زیر غور ہیں جن میں ریٹائرڈ منٹ کی عمر کم کرنا ، پینشن پانچ سال تک دیکر ختم کردینا ، فیملی پینشن کا خاتمہ ، کارکردگی کی بناء پر ملازمت کا جاری رہنا انیکرنمیٹ کا خاتمہ جسکی جھلک حالیہ بجٹ میں نظر آگئی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی پیشنرز کی طرف توجہ دی گئی ، جن لوگوں نے اپنی جوانی سے بڑھاپے تک تمام تر صلاحتیں حکومتی فراءض کی انجام دہی میں صرف کی ہوں انہیں اس طرح بے یارو مددگار چھوڑ نا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں فیملی پنشن کی نہ صرف ابتداء بلکہ تیزی لائی گئی تھی وہ تمام قوانین منسوخ کردینے کی سوچ ہے ، کمزور تین معاشرے میں ملازمین کی فلاح و بہبود کا سوچنے کی بجائے انہیں ذہنی طور پر دباوَ میں لاکر مراعات ختم کرنے کی پالیسیوں کو پذیرائی نہیں مل سکی ۔ بیروزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ با عزت زندگی گزارنے کا عندیہ جو سرکاری ملازمت میں ہے وہ ختم کردینے کی مشق زیر نظر ہے ۔ سرکاری ملازمین کو کبھی بھی معقول تنخواہ نہیں دی گئی ان کا گزارہ روپیٹ کر ہوتا ہے اس پر بھی یہ ضرب لگائی گئی ہے کہ فکسڈ تنخواہ اور ملازمت کا جاری رہنا اچھی کارکردگی سے منسلک ہوگا ، اسطرح تو کوئی بھی ملازم دلجمی کے ساتھ کام نہیں کر سکے گا اس کے شب روز سیاسی شعبدہ بازوں کے رحم ، کرم پر ہونگے ، ملازمین جو اس وقت سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہیں انہیں نیوٹرل بنانے کی ضروت ہے نہ ان پر جبر کی پالیسی نافذ کرنے کی میں ذاتی طور پر کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھنا ۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسکی دل کھول کر تعریف کی جائے اور ان کی خامیوں پر مثبت انداز سے تنقید کی حکومت کی معاشی اور مالیا اتی پالیسز بنانے اور چلانے کیلئے تجربہ کار ماہر معاشیات ، مالیات کی ضرورت ہے ، تجربات کے ذریعے ملک کو چلانا مشکل بھی ہے اور نقصان دہ بھی ، حکومت کے پاس اب صرف ایک سال ہے کیونکہ آخری سال میں سیاسی مصروفیات ایکٹیوٹیز بڑھ جائیں گی دوبارہ برسراقتدار میں آنے کی کوشش شروع ہوجائیں گے ،حکومت کو سوچنا چاہیے اسکی موجودہ پالیساں عوام کیلئے کیا سہولتیں لائی ہیں کیا انہیں پذیرائی حاصل ہوئی یا ہر طرف سے مایوسیوں کی آوزایں بلند ہوئیں ۔ اس طرح کی کارکردگی سے کیا پی ٹی آئی کے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ساتھ واضح اکثریت حاصل کرسکتی ہے کیا عوام انہیں ووٹ دینگے یا پھر پیپلز پارٹی ،ن لیگ کیلئے اپنے ہاتھوں سے راہ ہموار کررہے ہیں ۔