- الإعلانات -

خالصتان اور ناگالینڈ کی علیحدگی پسند تحریکیں

کشمیریوں کاحق خودارادیت دبانے والے بھارت کا وجود خطرے میں نظر آرہا ہے ۔ بھارت میں آزادی کی تحریکیں اب حقیقت کا روپ دھارنے لگیں ہیں ۔ بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک مزید تیز ہو گئی ہے ۔ کشمیر کی طرح بھارتی پنجاب میں بھی بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ۔ امرتسر میں سکھوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ۔ آزادی کا مطالبہ کرتے بینرز تھامے جوشیلے پنجابیوں نے خوب نعرے بازی کی ۔ 15اگست کو ہریانہ اور بھارتی پنجاب میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔ بات اگر یوم سیاہ تک ہوتی تو چلو قابل قبول تھی مگر پنجاب میں تو بات بہت آگے بڑھ چکی ہے ۔ بھارتی پنجاب کے ضلع موگا میں ڈی سی آفس پر ترنگے کو اتار کرپھینک دیا گیا اور اس کی جگہ خالصتان کا پرچم لہرا دیا گیاجس سے کھلبلی مچ گئی اور انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں ۔ بھارت میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی سکھوں اور کشمیریوں نے پندرہ اگست کو یوم سیاہ منایا ۔ بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر امریکا میں مقیم سکھ کمیونٹی اور کشمیریوں نے بھارتی مشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرے میں کشمیری اور سکھوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اورفضاء ;34;قاتل مودی’’کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی ۔ مظاہرین نے بھارتی پنجاب کو علیحدہ ملک خالصتان بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی پرچم کو بھی نذر آتش کیا ۔ آپریشن بلیو اسٹار کی ہر برسی کے موقع پر خالصتان کے نعرے لگانا معمول بن گیا ہے لیکن اس بار اکال تخت کے قائم مقام جتھ دار گیان ہرپریپ سنگھ نے پر عزم انداز سے ہوئے کہا کہ تمام سکھ خالصتان چاہتے ہیں اور اگر اس کی منظوری دی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کرینگے ۔ گولڈن ٹیمپل کے احاطے سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کےلئے فوج کے آپریشن کی 36 ویں برسی پر گیان ہرپریت سنگھ ، جو اکتوبر 2018 میں جتھے دار بنے تھے ، نے میڈیا سے کہا کہ اگر حکومت ہ میں خالصتان دیتی ہے تو ہم اور کیا مانگ سکتے ہیں ;238; ہم اسے قبول کریں گے ۔ ہر سکھ خالصتان چاہتا ہے ۔ شورومندر گوربندھ بندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) کے صدر گوبند سنگھ لونگوال نے کہا: ;34;اگر کوئی ہ میں پیش کرتا ہے تو ہم اسے لے لیں گے ۔ ‘‘ بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ;39;بھارت کی جانب سے جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت، جس کے ذریعے انہیں اپنا جھنڈا اور آئین رکھنے کی اجازت تھی، کے خاتمے کے بعد ہی ناگا لینڈ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے پہلی مرتبہ اپنے علیحدہ جھنڈے اور آئین کو 22 سالہ ناگا امن مرحلے کے لیے ;39;باعزت حل;39; کے لیے ضروری قرار دے دیا ۔ نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے چیئرمین کیو توکو اور جنرل سیکریٹری تھوئن گالینگ موئیواہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا کہ ناگا کے سیاسی مسئلے کا کوئی بھی حل اس کے مرکزی مسائل کے بغیر حل نہیں ہوسکتا جس میں ناگا کا جھنڈا اور آئین شامل ہے ۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے امن مرحلہ اور ریاست خطرے میں آگیا ہے ۔ بھارتی حکومت اہم مسائل پر موقف اپنانے میں تاخیر کر رہی ہے جس سے شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ سیاسی حل ہوگا یا نہیں ۔ ناگا لینڈ کے عوام اپنے آباوَ اجداد کے قومی فیصلے پر بالکل مطمئن ہیں کہ ناگا لینڈ 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ہم ناگا لینڈ کی عوام کے درمیان تقسیم کرنےوالے کسی بھی بیرونی فیصلے کو تقسیم نہیں کرینگے ۔ ناگا لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کی آزادی کا اعلان کیا گیا اور ناگا لینڈ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ناگا لینڈ کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا کیونکہ ہماری اپنی زبان، اپنا مذہب اور اپنا کلچر ہے لیکن بھارت نے 1947 سے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا بالکل اسی طرح ناگا لینڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے ۔ ناگا لینڈ میں اس باربھارت کا یوم آزادی منانے کی بجائے ناگا لینڈ کا یوم آزای منایا گیا ۔ کبھی اتنے بڑے پیمانے پر عوامی جشن نہیں منایا گیا ۔ پہلے چھوٹے چھوٹے حصے میں ہی یہ جشن منایا جاتا تھا ۔ ناگا تحریک کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں کا نکل کر اس تاریخی دن کا جشن منانا عوام کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ لوگ حکومت کی پالیسیوں سے تھک چکے ہیں ۔ کوئی اسے ;39;بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے;39; ہونے کی ابتدا کہہ رہا ہے تو کوئی اسے مرکز کی نریندرمودی حکومت کی ناکامی قرار دے رہا ہے جبکہ بعض مبصرین اسے ناگا آزادی کی ;39;نئی لہر;39; کہہ رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ;39;ایک ملک، ایک آئین اور ایک پرچم;39; والا نعرہ کہاں گیا;238;بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ملکی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چھ سو میں سے دو سو اضلاح میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ صرف علیحدگی کی تحریکیں ہی نہیں نسلی تنازعات اورذات پات کے جھگڑے بڑھ چکے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بھارت کا وفاق جبر کے نظام کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور خود بھارتی حلقے ماضی میں خبردار کرتے رہے ہیں کہ بھارت ٹوٹ جائے گا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے محض پانچ اگست، 2019 کے فیصلے پر ہی اکتفا نہیں کیا جب اس نے کشمیر کی شناخت، پرچم اور آئینی حیثیت کو ختم کیا بلکہ روز روز نئے قوانین لاگو کر کے مسلم آبادی کی ’نسل کشی‘ کی ایسی دوڑ لگائی ہے کہ اگلے 10 برسوں میں محال ہی کوئی ایسا شہری نظر آئے گا جو خود کو کشمیری مسلمان سمجھے گا یا خود کو مسلمان کہنے کی جرت کرے گا ۔ ان ہی خدشات کے پیش نظر ہمارے بچے اپنی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں ۔ مارچ میں ڈومیسائل قانون لاگو کرنے کے بعد مشرقی پاکستان سے آنے والے ہندووَں ، نیپال کے گورکھا اور والمیکی کہلانے والے شرنارتھیوں کو کشمیر میں بسایا جا رہا ہے ۔ ان کی تعداد سرسری اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے ۔