- الإعلانات -

کراچی کے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی کاقیام خوش آئند

کراچی پاکستان کاحب ہے جس میں پوری قو میں بستی ہیں اوراس سے لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کا روزگاروابستہ ہے مگرافسوس کہ اس روشنیوں کے شہرکوسیاستدانوں نے سیاست کی نذرکرکے اپنے اپنے مفادات حاصل کئے ۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود گندگی اور سیوریج زدہ نظام سے اٹا پڑا ہے ۔ کراچی شہر کا سب سے بڑا مسئلہ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں ، ایک تحقیق کے مطابق کراچی میں روزانہ 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جس میں سے صرف 8 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ باقی 4 ہزار ٹن سڑکوں پر پڑا رہتا تھا، جس کی وجہ سے شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے ۔ سندھ حکومت سارا ملبہ شہری حکومت پر اور شہری حکومت سارا ملبہ سندھ حکومت پر ڈال دیتی ہے مگر عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے اور کراچی کا کچرا اٹھانے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ۔ کراچی کی کچی ;200;بادیوں ، مضافاتی اور دیہی علاقوں کی حالت دیکھ کر ;200;پ کو ایسا لگے گا جیسے ;200;پ دادو یا شکارپور کے کسی چھوٹے سے گاءوں میں ;200;گئے ہیں ، کراچی کے سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے ;200;نسو روتا ہے، کراچی کے سرکاری اسکولوں اور سرکاری اسپتالوں میں بھی صفائی ستھرائی کا کوئی نظام نہیں ، کراچی کے بہت سے مقامات پر گٹر ابلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ شہر میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، سندھ حکومت اگر کراچی کے مسائل کا حل چاہتی ہے تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز فراہم کرے تاکہ بلدیاتی نمائندے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں ۔ مگراب خوش آئند بات یہ ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ایک دوسرے کی شدید مخالف جماعتیں کراچی کیلئے ایک ہوگئیں ، کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے شہر کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی اسلام آباد اور کراچی میں دو اہم ملاقاتیں ہوئیں ۔ وفاق اور سندھ ملکر کام کرینگے، وزیر اعلیٰ کی قیادت میں کراچی کی ترقی کیلئے نگراں کمیٹی قائم کردی جس کی تصدیق ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بھی کی ہے، ایم کیو ایم بھی آن بورڈ، پہلی میٹنگ میں تینوں جماعتوں اور جنرل افضل نے بھی شرکت کی، کمیٹی میں وفاق اور سندھ حکومت کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے ۔ وفاق سے اسد عمر، علی زیدی، امین الحق جبکہ سندھ سے مراد علی شاہ، ناصر شاہ اور سعید غنی کمیٹی میں شامل ہوں گے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کمیٹی کے سربراہ ہونگے ۔ میئر کراچی کی مدت ختم ہونے کے بعدمشترکہ ایڈمنسٹریٹر لانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ہونگی، اس سلسلے میں سندھ اسمبلی میں بل بھی لایا جائیگا ۔ پی پی قیادت کی منظوری کے بعد کراچی میں تینوں جماعتوں کے درمیان ملاقات کا دوسرا دور ہوا جس میں اتحاد پر اتفاق ہوگیا اور معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سعید غنی اور ناصر حسین شاہ شامل تھے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزراء اسد عمر اور علی زیدی نے شرکت کی، میئر کراچی وسیم اختر اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی شریک تھے جبکہ ملاقات کا ایجنڈا کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے کاموں کو آگے بڑھانا تھا ۔ وزیر بلدیات و اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے اس اتحاد و اتفاق کی تصدیق کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا کراچی کی تعمیر و ترقی کیلئے اتحاد و اتفاق خوش آئند ہے ۔ تین جماعتوں کا اتحاد کراچی کی تعمیر و ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا ۔ کراچی کے مسائل کوئی بھی حکومت اکیلے حل نہیں کرسکتی ۔ کمیٹی صوبے کے ترقیاتی کاموں میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی ۔ کراچی سمیت سندھ کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کے 2 دور ہوچکے ہیں ۔ تمام حکومتیں ملکر کام کریں گی تو مسائل حل ہوں گے ۔ سندھ حکومت صوبے کی ترقی کیلئے ملکر کام کرنے کو ہمیشہ سے تیار ہے ۔ وزیر اطلاعات سندھ کے مطابق وفاقی وزراء سے ملاقات صوبے کی بہتری کیلئے کی ہے، کراچی دشمن عناصر کو یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھائے گا ۔ حکومت سندھ ہر اس جماعت یا فرد کو خوش آمدید کہے گی جو کراچی کی ترقی میں کردار ادا کرے گا ۔ اجلاس میں ترقیاتی کاموں اور مسائل کے حل سے متعلق بات ہوئی، کراچی کی بہتری اور پورے صوبے کیلئے سندھ حکومت کام کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ 13 اگست کو اسلام آباد میں وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے دو وزرا کے ہمراہ، ایک اہم شخصیت اور تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے رہنماءوں سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد فیصلوں کی منظوری پر مشاورت کیلئے وقت مانگا گیا تھا ۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں اورعوامی نمائندے اختلافات بالائے طاق رکھ کر شہرکے مسائل کے حل کے لئے کام کریں ۔

’’را‘‘ کے ایجنٹ گرفتار

گوجر خان کے مندرہ کے علاقے ہرنال لکھڑا میں حساس اداروں ، آزادکشمیر پولیس اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرکے را کے ایجنٹ کے بیوی بچے حراست میں لے لیے ۔ تاہم را کا ایجنٹ جس کی شناخت محمد جلال ولد نور محمد سکنہ اولی پنجنی کوٹلی آزاد کشمیر فرارہونے میں کامیاب ہو گیا اس کے ساتھی،ساتھی شال پال کی تلاش بھی جاری ہے ۔ اس سے قبل تھانہ فتح پور نکیال میں میجر سلمان خضر کی درخواست پر را کے ایجنٹ، اس کے ساتھی شاہ پال اور ایک نامعلوم عورت کے خلاف زیر دفعات اور دہشت گردی کی دفعات مقدمہ درج کیا گیا ۔ مدعی کے مطابق ملزم محمد جلال کا تعلق‘‘را’’سے ہے اور وہ پاکستان آرمی پر حملوں پر منصوبہ بندی میں ملوث ہے ۔ را;3939; سلیپر سیل لائن آف کنٹرول پر تعینات پاک فوج کی چیک پوسٹس کی نشاندہی کرتا تھا جس کے نتیجے میں انڈین آرمی پاک فوج کی چیک پوسٹس کونشانہ بناتی تھی،اس جرم میں اس کا ساتھی شاہ پال ولد محمد رفیع سکنہ اولی پنجنی کوٹلی بھی شامل ہے ۔ پاکستان کے پاس دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں ، پاکستان متعدد بار دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے شواہد عالمی برادری کو دے چکا ہے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم مودی کے دھمکی ;200;میز بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ بھارت اپنے رویے سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنی شمولیت کو چھپا نہیں سکتا ۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب پاکستان ایسے ہی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، لیکن پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے صلے میں پاکستان میں امن قائم ہوا، پاک فوج نے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا تاہم ابھی بھی تلچھٹ باقی ہے ۔ گزشتہ دنوں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ دراصل پاکستان کی معیشت پر حملہ تھا لیکن سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کر کے دہشت گردوں کو پسپا کیا اور کئی قیمتی جانوں کو بچایا ۔ اس نوعیت کے حملے سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے را ہے، جو پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتی ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہے لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے کہ وہ امن تباہ کردے گا ۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ بھارتی حکومت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی پشت پناہ ہے اور بھارت ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی جاسوس و دہشت گرد کلبھوشن یادیو، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی زندہ مثال ہے ۔ عالمی برادری کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کے استعمال کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔