- الإعلانات -

کشمیر میں 3 ہزار گزٹیڈ نوکریاں ہندووَں کے حوالے

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ ہی اس لئے کی تھی کہ یہاں آبادی کا تناسب بدلا جا سکے ۔ یہاں غیر کشمیریوں کی آباد کاری کی جائے ۔ آباد کاری کی راہ میں حال آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اسی لئے ختم کیا گیا ۔ 35 اے کے خاتمے کی وجہ سے کشمیر میں باہر سے آنے والے ہندووَں کےلئے جائیداد کی خریداری ممکن ہو سکی ۔ جائیداد خرید کر رہائش پذیر ہونے والے غیر کشمیریوں کو کچھ عرصے بعد ووٹ کا حق بھی مل جائے گا اور یوں حکومت کی تشکیل میں اصلی کشمیریوں کا تناسب نسبتاً کم ہوتاجائےگا ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی سرکار نے غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل کے بعد ملازمتیں بھی بانٹنا شروع کر دی ہیں اسی لئے کچھ ماہ قبل پچیس ہزار بھارتیوں کو کشمیری قرار دینے کے بعد تین ہزار گزیٹیڈپوسٹیں ہندووَں کے حوالے کر دی ہیں جن میں ایک ہزار ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ۔ بھارتی حکومت کا مقصد جموں کشمیر میں رہنے والے کشمیر یوں کو بھارتی بالادستی کیلئے ذہنی طور پر قبول کرنے کیلئے تیار کرنا ہے ۔ سرینگر میں اعلیٰ عہدوں پر پہلے ہی انڈین سروس کمیشن کے افسر تعینات ہیں لیکن 73سال بعد بھی بھارت کشمیری افسروں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں جنہوں نے تعلیم بھارتی سکولز اور کالجز سے حاصل کی ہے اور بھارتی سول سروس سے امتحان پاس کیا ہے ۔ حال ہی میں پبلک سروس کمیشن کے جاری اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ صرف بھارت سے آنے والے افراد ہی اہل ہوں گے ۔ بھارت نے یکم اپریل کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق اب مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل (شہریت) کا نیا قانون نافذ ہوگا اور اْس کی رو سے سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ کے چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کےلئے مخصوص کیا گیا ہے جب کہ گیزیٹِڈ عہدوں کےلئے پورے بھارت سے امیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے ۔ مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ڈومیسائل بنواکر کشمیریوں پر حا وی ہو گئے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نافذ ڈومیسائل کے نئے قانون کے تحت 3 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری کردیے ہیں جن میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ۔ مقبوضہ وادی سے متعلق جاری ہونے والی نئی رپورٹس میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا ہے کہ جیسے ہی بھارت نے خطے میں ڈومیسائل کا قانون نافذ کیا ہے اس کے بعد سے وادی میں موجود 8 لاکھ سے زائد قابض فوجیوں اور 6 لاکھ سے زائد مزدوروں کو بھی آنے والے دنوں میں ڈومیسائل جاری کیے جاسکتے ہیں ۔ آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس تھے جن میں سیکورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں ،باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے ۔ بھارت اب کشمیریوں کی جداگانہ پہچان ختم کرکے متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے ۔ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعدبھارت اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم کرنا چاہتا ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا ۔ جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے ۔ مسئلہ کشمیر ان ہی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔ بھارت کے حالیہ اقدام سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی پر اپنا ناجائز قبضہ مستحکم کرنے کےلئے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی فوج کم کرنے کی بجائے، اس میں اضافہ کر رہا ہے ۔ بھارتی فوج نے سکولوں ، دفاترو سرکاری بلڈنگوں پر قبضے کر رکھے ہیں تو دوسری جانب زرعی و باغاتی زمینوں ، سیاحتی اور تمام صحت افزا مقامات پر بھی فوجی چھاوَنیاں قائم کر کے نہتے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں ۔ جموں کشمیر میں اس وقت 71,500ایکڑ زمین پر بھارتی فوج نے جبری قبضہ کر رکھا ہے ۔ گلمرگ، ٹنگمرگ، سونا مرگ اور پہلگام جیسے بہت سے علاقے ہیں جہاں کشمیریوں کے شدید احتجاج اور شہادتوں کے باوجودبھارتی فوج اپنی چھاوَنیاں اور بنکرز ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ گلمرگ کا وہ علاقہ، جو معروف سیاحتی مقام ہے، صرف وہاں 1360کنال اراضی پر فوج نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ بھارتی فورسز منظم منصوبہ بندی کے تحت یہاں کے صحت افزاء مقامات کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیر استعمال لا کر ان کی اہمیت اور افادیت ختم کر رہی ہیں ۔ سرکاری سرپرستی میں درختوں کے کٹاوَ، بڑے پیمانے پر لکڑی کی سمگلنگ اور جنگلات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی عدم توازن پیدا کیا جا رہا ہے ۔ فوج کے ان علاقوں کے فائرنگ رینج میں ہونے کی وجہ سے آئے دن انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے ۔ بھارتی اقدامات کے نتیجے میں کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔ کشمیری عوام کو اس بات کا شدت سے خدشہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے اور وادی کو ایک اور فلسطین بنارہا ہے ۔ اسلام ا;63;باد(وقاءع نگار خصوصی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی ریاستی ادارے فلسطینیوں کی طرح مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کاماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے ۔ تما م دنیا جبکہ کورونا وائریس کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے ایسے میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قابل مزمت نئے ڈومیسائل پالیسی کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلمان اکثریت آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھناونی سازشیں شروع کر دی ہیں ۔ جس کا عالمی دنیا کو فوری نوٹس لینا چائیے ۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو قیادت درحقیقت مسلمانوں کے خلاف اپنی عداوت میں ان کے حقوق سلب کر رہی ہے اور ان کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری قرار دیا جا رہا ہے ۔ جنوبی ایشیا ء میں پائیدار امن کادارومدار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں ہے اور بھارت کو اس سلسلے میں کشمیریوں کو ان کا حق خودا اردیت دینا ہو گا اور پاکستان اس مقصد کے حصول کےلئے کشمیریوں کے حقوق کی آواز دنیا کے تمام فورمز پر بلند کرنے کا سلسلہ پر عزم انداز میں جاری رکھے گا ۔