- الإعلانات -

وزیراعظم منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے پُرعزم

حکومت کے منصوبوں کے ثمرات بار آور ہونا شروع ہوگئے ہیں جیسا کہ آئی پی پیز سے معاہدوں کے بعد حکومت اس حوالے سے پُرعزم ہے کہ بجلی سستی ہوجائے گی ۔ دیگرمنصوبوں کے بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے اور عوام ان سے مستفیدہوسکے گی ۔ تاہم یہاں پر ایک بات اہم ہے کہ جہاں بجلی سستی ہونے جارہی ہے وہاں پرحکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات پر بھی توجہ دے کیونکہ اس کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس کی وجہ سے دیگراشیاء کاسستا ہونا محال ہے ۔ اسی طرح اشیائے خوردونوش جو کہ بنیادی ضروریات ہیں انہیں بھی سستا ہوناچاہیے ۔ یہ بات درست ہے کہ بڑ ے بڑے منصوبے جن پر حکومت کام کررہی ہے اس سے بیروزگاری کاخاتمہ ہوگا، معیشت مضبوط ہوگی اورگردشی قرضوں میں بھی کمی واقع ہوگی ۔ اس جانب وزیراعظم عمران خان اشارہ دے چکے ہیں کہ اب اچھے حالات آرہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بجلی کے شعبہ سے متعلق امور کے بارے میں جائزہ اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم کے میڈیا آفس کے مطابق اجلاس میں بجلی کے شعبہ میں اصلاحات کے روڈ میپ پر بھی غور کیا گیا ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا سب سے اہم اور کلیدی منصوبہ ہے، ایم ایل ون منصوبے سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہوگا، ایم ایل ون منصوبے سے عوام کو سفر اور مال برداری کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی ۔ وزیر اعظم کو ایم ایل ون منصوبے، پراجیکٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے مقرر کردہ ٹائم لائنز، اب تک ہونے والی پیش رفت اور منصوبے کے ثمرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے سے نہ صرف ریلوے کا نظام جدید اور مضبوط ہوگا بلکہ اس منصوبے سے ہنرمندوں اور تربیت یافتہ افراد کےلئے نوکریوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی عمل کو فروغ ملے گا ۔ ایم ایل ون منصوبے سے کاروباری برادری کے لیے جہاں کاروبار میں آسانیاں پیدا ہوں گی وہاں کاروباری لاگت میں واضح کمی واقع ہوگی ۔ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کے تعین میں ہمارے پیش نظر عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی ہے ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے جولائی 2020 میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں واضح اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک و قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ترسیلات زر کے حوالے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیر اعظم نے وزارت خزانہ، ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر اور ملکی زر مبادلہ میں اضافے کےلئے مزید اقدامات تجویز کیے جائیں تاکہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ملکی معیشت کے استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں ۔ مزید بر;200;ں اپنے ٹوئیٹ میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی معیشت کےلئے مزید اچھی خبریں موصول ہونے پر مسرت کا اظہار کیا ہے ۔ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے جولائی 2020 میں بھجوائی جانے والے ترسیلات زر 2768 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو ملکی تاریخ میں ایک ماہ میں بھجوایا جانے والا سب سے زیادہ سرمایہ ہے ۔ یہ ترسیلات زر جون 2020 کی نسبت 12;46;2 فیصد جبکہ جولائی 2019 کی نسبت 36;46;5 فیصد زیادہ ہیں ۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ سی پیک ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے اس سے نہ صرف پاکستان کے حالات بدلیں گے بلکہ پورے خطے کی قسمت بدل جائے گی ۔ پھر وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے بھی کہاکہ ان کی جانب سے بھجوائے گئے ترسیلات زرانتہائی حوصلہ افزا ہیں ۔ دراصل سمندرپار پاکستانیزہمارا اصل سرمایہ ہیں لہٰذا حکومت کوچاہیے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے ۔ کیونکہ ان کی جتنی حوصلہ افزائی ہوگی اتنا ہی سرمایہ پاکستان میں آئے گا ۔ نیزحکومت کو یہ بات بھی لازمی بتاناہوگی کہ وہ بیرون ملک کے لوگ سرمایہ کاری کریں انہیں اس بات کایقین ہوناچاہیے کہ ان کی رقم محفوظ ہے ۔

پاک سعودی تعلقات میں دراڑنہیں ڈالی جاسکتی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر سعودی عرب گئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سعودی عرب کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الروائلی اور سعودی جوائنٹ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنر ل فہد بن ترکی آل سعود سے ملاقاتیں کیں ۔ ان ملاقاتوں کے دوران فوجی تعلقات، بشمول تربیتی مقاصد کیلئے تبادلوں جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ سعودی عرب کی وزارت دفاع میں آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے نہیں کہ پروپیگنڈوں سے ختم ہو جائیں ، سعودی عرب اور پاکستان دونوں مشکل کے ساتھی ہیں ، سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی ۔ دونوں ممالک دیرینہ دوستی اور سٹریٹجی پر قائم ہیں اور دونوں بیشتر علاقائی اور بین الاقوامی امور خصوصاً امت مسلمہ کے امور پر اتفاق رائے رکھتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان مسلم اتحاد کے نظریے اور اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو برقرار رکھنے پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے ۔ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کو ایک کامیاب اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتا ہے، دونوں ملکوں کے مابین برادرانہ تعلقات کی وجہ سے سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب سعودی عرب کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے ماضی میں بھی ایسی کوششیں ہوئیں لیکن ناکامی ہوئی ۔ پاکستا ن اورسعودی عرب کے عوام کے مابین تعلقات مضبوط اور قریبی ہیں اور اسلام آباد ہمیشہ سعودی عرب کو ایک ایسا پر اعتماد دوست سمجھتا ہے ۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں دشمن قوتیں انشاء اللہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہونگی ۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک تھے،ایک ہیں اور رہینگے، دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں دراڑیں ڈالنے والے عناصر کو ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانا پڑے گی ۔ ا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سعودی عرب کے دورے کے بعد پروپیگنڈہ کرنے والوں کو چھپنے کوکوئی جگہ نہیں ملے گی ۔

ایس کے نیازی کی پروگرام’’سچی بات‘‘ میں پُرمغز گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء الحق برسی کے موقع پر ہ میں یاد آرہے ہیں ، ضیاء الحق بڑے نیک اور پرہیزگار آدمی تھے ، اعجا ز الحق آپ بھی نیک آدمی ہیں ، اس موقع پر اعجاز الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب آ پ نے جو گفتگو کی وہ حقائق پر مبنی ہے ، ضیاء الحق آپ کو کہتے رہتے تھے تاکہ آپ ایکٹیو رہیں ، اسلامی نظریاتی مملکت کے حوالے سے ضیاء الحق نے تمام اقدامات اٹھائے ، جو کلچر انہوں نے دیا عوام اسے پسند کرتی ہے ، ضیاء الحق نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے بہت قربانی دی ۔ ضیاء الحق میں پاکستانیت بہت زیادہ تھی، ضیاء الحق نے کہا کہ جب انہوں نے روس کو شکست دی تو کہا تھا کہ آج ہم نے بنگلہ دیش کا بدلہ لے لیا ، افغان جہاد کی وجہ سے ہم ایٹمی قوت بنے ، کیونکہ امریکہ پاکستان کی مدد کرنے پر مجبور تھا، ڈاکٹر قدیر کو ضیاء الحق نے بیرون ملک جانے سے روکا ، اور ایٹمی پروگرام آگے بڑھایا ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ خطے کی صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے ، ہ میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، سعودی عرب سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اب جو تبدیلیاں آرہی ہیں ، ایک ایٹمی طاقت کے حوالے سے ڈیل نہ کیا تو بڑا افسوس ہو گا، سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط ہونا چاہیے ، اسرائیل کو جو یو اے ای نے تسلیم کیا یہ کام یہاں نہیں رکے گا، نومبر تک یہ کام چلتا رہے گا، ٹرمپ یہ اپنی قوم کو بتا رہا ہے کہ اس نے مسلم امہ کو اسرائیل کے نیچے لگا دیا ہے ، لہٰذا نومبر تک ہ میں یہ حالات دیکھنے ہونگے ، اب او آئی سی کا کردار کمزور ہوتا جا رہا ہے ، پاکستان اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرے اور مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرے ۔ ایس کے نیازی نے ملکی معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے ، معیشت کا پہیہ چل پڑا ہے ، اللہ کے کرم سے کرونا کا حملہ کمزور رہا، اس وباء سے ہم بچ نکلے ، حکومت اور افواج پاکستان کو بھی داد دینا ہو گی ۔