- الإعلانات -

نوجوان کھلاڑی کی موت

پرانی بات ہے کالج کے زمانے کی غا لباً انٹرمیڈیٹ کلاس میں ایک انگریزی نظم ’’ نوجوان کھلاڑی کی موت‘‘ نصاب میں شامل تھی جس میں شاعر ایک ایسے نوجوان کھلاڑی کو خراج تحسین پیش کر تا ہے کہ جو کھیل کے میدان میں بڑے بڑے کھلاڑیوں کو شکست دیتا اور ہر طرف فتح کے جھنڈے گاڑھتا عین شباب میں اچانک بیمار ہو کر مرنے لگتا ہے تو اس کے عزیزو اقارب ،رشتہ دار ، مداح رونے پیٹنے لگتے ہیں ایسے میں نوجوان کھلاڑی آنکھیں کھول کر اور غمگساروں سے کہتا ہے کہ میری موت پررونے کی بجائے جشن مناءو اسلئے کہ میں نے زندگی بھر اپنے مقابل آنے والوں کو شکست دی اور میری فتوحات میں ایک بھی ناکامی نہیں میں نے فتح کا ایسا معیار قائم کر کے جا رہا ہوں کہ میرے بعد آنے والا کوئی کھلاڑی میرا ریکارڈ توڑ نہیں سکے گا اسلئے کہ اسے میرے جیسی فتوحات حاصل کر نے اور پھر ناقابل شکست حالت میں مرنا پڑے گا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہو گی ۔ گزشتہ دنوں یہ نظم مجھے تب یاد آئی جب میرے آبائی شہر وزیرآباد سے صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی پی51سے مسلسل تین مرتبہ اپنے سیا سی حریفوں کو شکست دے کر ہمیشہ کامیاب رہنے والے ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری شوکت منظور چیمہ اچانک کورونا کا شکار ہو کر عین شباب میں انتقال کر گئے اور مرتے وقت نا قابل شکست کا اعزاز بھی اپنے ساتھ لے گئے شوکت منظور حقیقی ،سیاسی ورکر تھے انہوں نے سیاست کے پیچ و خم اپنے والد چوہدری منظور چیمہ سے سیکھے تھے وہ سیاست کے اس بنیادی راز سے اگاہ ہو چکے تھے کہ سیاست عام آدمی کے ساتھ مسلسل رابطے کا نام ہے اور یہ رابطے عوام کے مسائل و مشکلات حل کر نے اور انہیں خوشیاں دینے اور انکے جذبات سے اگاہ رہنے سے مضبوط ہوتے ہیں اور شوکت منظور اس کام میں بڑے ماہر بھی تھے اور ان رابطوں کو بڑے منظم طریقے سے انجام دینا بھی جانتے تھے بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ شوکت منظور طویل عرصہ سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے اور اس بیماری کے دوران بھی انہوں نے دو الیکشن لڑے لیکن اپنی بیماری کو انسانی رابطوں میں حائل نہ ہونے دیا انکی موت نے حلقہ میں غم کی فضا ء پیدا کر دی ہے انکے لاکھوں سوگوار دور دراز سے غمگساری کیلئے اُنکے گھر آئے اور یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں لیکن وہ جن کیلئے شوکت منظور جان کی بازی لگا کر جیتی ہو ئی نشست اُنکی جھولی میں ڈال دیا کرتا تھا وہ پارٹی رہنما وہ لیڈر ہمدردی کے دوبو ل کہنے کیلئے نہ پہنچ سکے میں سوچتا ہوں کہ شوکت منظور کو اپنے غمگساروں کو نوجوان کھلاڑی کی طرح کہتے ہونگے کہ ما تم کرنے کی بجائے جشن مناءو کہ میں ناقابل شکست واپس گیا ہوں اور میرا یہ ریکارڈ شاید آنے والا کوئی کھلاڑی نہ توڑ سکے گا سیاست کا میدان بڑا بے رحم ہوتا ہے کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا شوکت منظور کے بعد حلقہ میں ضمنی انتحاب کیلئے تیاریاں تو اُنکی تدفین کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اور اس وقت سے مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار ٹکٹ کی کوششوں میں مصروف ہوگئے تھے لیکن سیاسی جماعتوں کے سر براہوں سے التماس ہے کہ وہ وزیرآباد تحصیل میں حلقہ بندیوں کے پرانے طریقے کو مد نظر رکھےں تحصیل وزیرآباد میں قومی اسمبلی کی ایک اورصوبائی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں ایک نشست شہری حلقہ اور دوسری دیہی حلقہ پر مشتمل ہے ماضی میں شہری نشست پرہمیشہ شہر کے امیدوار کو ہی ترجیح ملتی تھی راجہ عبداللہ خان سے لیکر راجہ جمیل اللہ خان اور راجہ خلیق اللہ خان تک اور چوہدری شاہنواز چیمہ سے لیکر چوہدری اعجاز سماں تک سبھی ممبران وزیرآباد شہر سے تعلق رکھتے تھے لیکن گزشتہ دس پندرہ سال سے یہ شہری نشست گاءوں میں چلی گئی جسکا شہری لوگوں میں بڑا رنج پایا جاتا ہے لیکن کما ل کی بات یہ ہے کہ شوکت منظو ر مرحوم کے بعد اس ضمنی الیکشن کی حد تک ووٹر کی توجہ بیگم طلعت شوکت منظور کی طرف ہے جو اپنے مر حوم خاوند کی عوامی خدمات اور عوامی رابطوں کے ساتھ ساتھ ہمدردی کا ووٹ بھی حاصل کر سکتی ہے اگر پارٹی انہیں ٹکٹ نہیں دیتی تو پھر شہری حلقے تمام سیاسی جماعتوں سے یہ امید رکھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس نشست کیلئے بڑی قابلیت امیدوار کیلئے شہر کا باسی ہونا ضروری ہو گا اور لوگ چھاتہ برداروں پر شاید اعتماد نہ کر سکیں وزیرآباد شہر تقسیم ہند سے قبل اور تخلیق پاکستان کے بعد اہم ترین تاریخی شہر رہا ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے میں بڑی نامور شخصیات کو جنم دیا ماضی بعید میں یہ تحصیل کبھی پیپلز پارٹی کا قلعہ ہوا کرتی تھی پھر یہ سیا سی مد و جزر کے بعد مسلم لیگ کا قلعہ بنی ماضی میں یہاں سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہو نےوالا امیدوار ہمیشہ مرکز میں وزرات یا کوئی اہم عہدہ پاتا اور شہری نشست پر کامیاب ہونے والا صوبائی وزیر بنتا لیکن اب شاید سیا سی پارٹیوں کا مزاج بدل گیا ہے یا کامیاب ہو نے والا ممبر اس معیار پر نہیں پہنچتا کہ وہ کوئی عہدہ پاس کے مرکزی اور صو بائی حکومت کو اس سلسلہ میں بھی ما ضی کی روایات پر عمل کر کے وزیرآباد کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کر نا چاہیے ضمنی الیکشن کیلئے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہو ئی لیکن تمام سیا سی جماعتیں اپنے اپنے متوقع امید واروں کے نام فائنل کر نے اور محدود پیمانے پر انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں ویسے اند ر کی بات یہ ہے کہ اگر کورونا وبا کی وجہ سے ضمنی الیکشن کو چند ماہ ملتوی کر دیا جائے تو شاید اسکے بہتر نتاءج مل سکیں خبر یہ ہے کہ گندم کا آٹا ستر روپے کلو چینی سنچری کراس کرتے ہوئے کچھ اوپر پہنچ چکی ہے واپڈا نے عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارتے ہوئے بلوں کی انتہا کر دی ہے اور سو ئی گیس والے بھی واپڈا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کی چیخیں نکلوانے میں پوری کوشش سے مصروف ہیں حکومت نے اپنی دو سالہ کا رکر دگی عوام تک لانے کیلئے وزیروں کی کمیٹی بنادی ہے لیکن اس سے پہلے آنے والے سروے نے حکومتی ثمرات کا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ حکمرانوں اور اپوزیشن رہنما کی مقبولیت کے گراف کو بھی بیا ن کر دیا ہے ۔