- الإعلانات -

پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کی ضد ہیں

مشرقی وسطی میں مغربی کنارے پر واقع اسرائیل ایک متنازعہ علاقہ ہے جو ارض فلسطین پر بزور شمشیر ناجائز اورغیر قانونی قبضہ کی صورت میں قائم ہوا ۔ 1948ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ جس میں دنیا بھر کی اسلام مخالف قوتوں اور ملکوں نے اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کی جس کے باعث اردن ، شام اور مصر پر مشتمل عرب ملکوں کو اس جنگ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس جنگ میں اسرائیل کے لئے کلیدی کردار ادا کرنے والا شخص ڈیوڈ بن گوریان تھا جو 16 اکتوبر 1886ء میں اس وقت کے روس کے زیر نگیں پولینڈ کے شہر پلولنسک میں پیدا ہوا ۔ بن گوریان یہودیوں کے تشدد اور انتہا پسند فرقے صہیونیت کا بھی بانی ہے ۔ یہودی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے باعث 1935ء سے وہ صہیونیت کے پرچار کے علاوہ اس کے ذہن میں یہودیوں کے لئے ایک ملک کا حصول تھا اور وہ اس کے لیے سرگرم رہا اور 1946ء میں وہ ورلڈ صہیونی تنظیم کا سربراہ بنا اور یروشلم کے حصول کے لیے اپنی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ۔ یہاں اس امر کا اظہار بر محل ہوگا کہ یروشلم مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں طور پر متبرک شہر ہے کہ بیت المقدس اور مسجداقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور مقدس مقام ہے جبکہ یہودی یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کے تعمیر حضرت داءود ;174; نے شروع کی تھی اور جسے مکمل حضرت سلیمان ;174; نے کرایا جسے بعد کے حملہ آوروں نے مسمار کر دیا او ریہودی تابوت سکینہ کی بھی تلاش میں سرگرداں ہیں یہ ایک صندوق ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے ہے اور مختلف ادوار میں مختلف پیغمبروں سے ہوتا ہوا بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا ۔ یہ صندوق یہودیوں کے لئے بڑا مقدس اور معتبر درجہ رکھتا ہے اس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور نعلین، حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی کے علاوہ تورات کی چند تختیاں بھی اس میں ہیں جس کا آج تک سراغ نہیں مل سکاکہ وہ کہاں ہے اور یہودی اب تک اس کی تلاش میں ہیں ۔ یہودیوں نے بڑے طریقے سے فلسطین میں زمین اور عمارات خریدنا شروع کیں اور چالاکی سے فلسطین کے مختلف علاقوں میں جائدادیں بنانا شروع کردیں اور قابض ہونے لگ گئے یہاں ان کی اس عیاری کا علم اہل فلسطین کو اس وقت ہوا جب پانی سر سے گزر چکا تھا ایسے میں چند حریت پسند مسلمانوں نے ایک خفیہ تنظیم بنائی جس کا سربراہ شعبان لطفی تھا جو ایک ہوٹل کا مالک تھا اور اس تنظیم جس کا کوئی نام نہیں تھا کے خفیہ اجلاس اس ہوٹل میں ہوتے اور پھر ان اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پرعمل ہوتا اور یہودیوں کی تنصیبات ، اور عمارتوں کو نشانہ بنایا جاتا ۔ 14مئی 1948کو اسرائیل کے وجود میں آجانے کے بعد عام انتخابات کرائے گئے اور بن گوریان کی لیبر پارٹی جوخود بھی 1948ء میں تشکیل دی گئی تھی نے یہ انتخابات جیت لئے اور بن گوریان اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم اور وزیر دفاع بن گئے اور تیزی سے اس خفیہ تنظیم کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں جو شعبان لطفی چلا رہے تھے اور آخر کا رانہیں ان کے ہوٹل کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا اور جذبہ جہاد اور ان کی قربانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اسرائیلی فوجیوں نے کہا کہ تم میں سے شعبان لطفی کون ہے تو اسوقت اجلاس میں موجود سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ میں شعبان لطفی ہوں اوراسرائیلی فوجیوں کو شعبان لطفی پہچاننے میں جب بڑی دقت پیش آئی تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ سب کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دیں گے ۔ بتاءو تم میں سے شعبان لطفی کون ہے ;238; تو اصل شعبان لطفی اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے باقی ساتھیوں کو روک دیا اور اعتراف کیا کہ میں شعبان لطفی ہوں اور اسرائیلی فوجیوں نے جلتی ہوئی سلاخوں سے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔ 1954ء میں ڈیوڈ بن گوریان وزارت عظمی اوروزارت دفاع سے مستعفی ہوگئے مگر اسرائیلی پارلیمنٹ کے ممبر رہے ۔ 1955ء میں دوبارہ انتخابات میں حصہ لیا اور 1963ء تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہے اور بعد ازاں استعفیٰ دے دیا اور 1970 میں سیاست سے ریٹائر ہوگئے اور 1973ء میں انتقال کر گئے ۔ ان کے نام پر اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے ایئر پورٹ کو منسوب کر دیا گیا اور اب وہ بن گوریان انٹرنیشنل ایئر پورٹ کہلاتا ہے ۔ 13اگست 2020 میں اقوام متحدہ کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی آبادی 8670745 ہے جو ایک کروڑ ہے اور لاہور شہر کی آبادی سے بھی کم ہے اور دنیا کی آبادی جو7;46;8ارب ہے اور یوں اسرائیل کی آبادی دنیا کی آبادی کا 0;46;11 فیصد ہے جب کہ مسلمان ممالک کی آبادی دو ارب نفوس پر مشتمل ہے جو اب تک اس ایک کروڑ سے کم آبادی والے ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ جس کی بڑی وجہ مسلم ممالک کا آپس میں متحد نہ ہونے کا فقدان ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل ایٹم بم بھی بنا چکا ہے تاہم اس نے ابھی تک اس کا اعلان نہیں کیا ۔ حال ہی میں دو ایک اہم عرب ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے جس کو عالم اسلام نے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ فلسطینی علاقوں میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کی جارہی ہے عرب ملکوں کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنا ان فلسطینی عوام کے خون ناحق سے نا انصافی کے مترادف ہے ۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقے کے عوام کی نہ صرف املاک کو تباہ کیا ہے اور کررہا ہے بلکہ بچوں ، خواتین اور بزرگوں پر بھی ظلم روا رکھے ہوئے ہے اگر ان عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہی تھا تو آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی ) کا اجلاس بلایا جاتا دیگر اسلامی ملکوں کو اعتماد میں لیا جاتا ۔ اسرائیل سے تحریری یقین دہانی کرائی جاتی کہ وہ فلسطینی علاقے میں ناجائز تعمیرات کو منہدم کردے گا اور فلسطینی معصوم مسلمانوں پر کئے گئے مظالم پر معافی مانگے گا اور ان فلسطینی عوام کی منہدم تعمیرات کا معاوضہ ادا کرے گا اور آئندہ فلسطینی علاقوں میں بے جا مداخلت سے اجتناب کی ضمانت دے گا مگر ان عرب ممالک نے بہ یک جنبش قلم اسرائیل سے معاہدہ کر لیا، تسلیم کر لیا اور سفارتی تعلقات قائم کر لئے جو ایک اچھنبے کی بات ہے ۔ اس مرحلہ پر ترکی ، ایران ، ملیشیاء اور بعض دیگر ممالک نے اس عمل کو نا پسندکیا ہے اس حوالے سے ہم حکومت پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان سے کہیں گے کہ وہ اسرائیل کے مسئلہ پر حکومتی پالیسی کا اعلان کریں اور اپنے لاءحہ عمل سے عوام کو اعتماد میں لیں ۔ یہ بجا کہ اقوام متحدہ کے ایک حالیہ اجلاس میں جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خطاب کرنے آئے تو تمام ممالک کے سربراہوں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا مگر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنی نشست پر براجمان رہے اور کھڑے نہیں ہوئے ۔ یہ امر بھی دلچسپی کا حامل ہے کہ دنیا بھر میں صرف دو ہی ملک ایسے ہیں جو نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوئے ہیں ایک وطن عزیز پاکستان اور دوسرا اسرائیل اور دونوں مذہبی نقطہ نظر سے ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ اس وقت دنیا میں 195 ممالک ہیں جو اقوام متحدہ کے باقاعدہ رکن ہیں ۔ جبکہ فلسطین اور ہولی واٹر (ویٹکن سٹی) اقوام متحدہ کے باقاعدہ ممبر نہیں ہیں بلکہ مبصر رکن ہیں ۔ ان 193ملکوں میں سے 163ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے یا ان ملکوں کے اس سے سفارتی تعلقات ہیں ۔ جبکہ 30ممالک نے ابھی تک نہ تواسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی ان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں ۔ ان میں اکثریت مسلم ممالک کی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) جس نے آج تک فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ سمیت کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ 30ممالک جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ایک الگ تنظیم بنا کرمسئلہ فلسطین او رکشمیر سمیت مسلم امہ کو درپیش دیگر عالمی مسائل پر بھی اس پلیٹ فارم سے نتیجہ خیز امور سرانجام دے سکتے ہیں ۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس سلسلے میں موثر رابطے قائم کرکے اس تجویز کو قابل عمل بنائے ۔