- الإعلانات -

پاکستان کے خلاف ’را‘ ، ’این ڈی ایس‘ کی نئی سازش

بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے ۔ بلوچستان اور کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ سرحد پار سے سپانسرڈ ہیں ۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں کامیاب آپریشن ضرب عضب اور ردالفسادکے باعث دہشت گردوں کو ختم کیاگیالیکن افغان سرزمین پردہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو اب بھی شدید خطرہ لاحق ہے جو پاکستان کے جانی نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے ۔ را اور این ڈی ایس مل کر پاکستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے متحرک ہیں ۔ حال ہی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ادارے ’این ڈی ایس‘ کا کالعدم تحریک طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی تیاری کا انکشاف ہوا ہے ۔ دونوں دہشت گرد تنظی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو پاکستان کے خلاف متحد کرکے دہشت گردی کرانا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کی ترقی انکے سینوں پر مونگ دل رہی ہے ۔ یہ تنظی میں افغانستان میں دیرپا امن کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں کیونکہ مستحکم افغانستان میں بھارت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع کے مطابق16 اگست کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ادارے ’این ڈی ایس‘ کے کالعدم تنظمیوں کے ساتھ پکتیکا اور کنڑ میں اہم اجلاس ہوئے جن میں تحریک طالبان پاکستان، کالعدم جماعت الاحرار اور کالعدم حزب الاحرار کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاسں میں جماعت الاحرار کے اکرام اللہ ترابی نے بھی شرکت کی جو کچھ عرصہ قبل عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھا ۔ اکرام اللہ ترابی کو دسمبر 13 میں افغانستان سے ایساف نے گرفتار کر کے پاکستان کی حوالے کیا تھا ۔ اس اجلاس میں پاک فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کا فیصلہ کیا گیا جب کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی گھناوَنی سازش بھی تیار کی گئی ۔ ‘’را’’ اور ‘’این ڈی ایس’’ کی جانب سے پیغام میں کالعدم تنظیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ پکتیکا اور کنٹر میں ہونے والے اجلاسوں کے مقامات کو ظاہر نہ کیا جائے بلکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ اجلاس پاکستان میں کسی مقام پر ہوا ہے، ایسا کرنے سے سارا الزام بھی پاکستان پر آئے گا ۔ افغانستان میں بم دھماکوں ، انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی ملزمان کی اصل تعداد تو سینکڑوں میں ہے گزشتہ 5 سال کے دوران گرفتار کئے گئے کالعدم تنظیموں کے بیسیوں کارندوں اور ان ملزمان نے مشترکہ تحقیقات کے دوران اقبال جرم کیا کہ انہیں افغانستان میں راکے تربیت خانوں میں ٹریننگ دی گئی ۔ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی اور لاقانونیت کے پیچھے یہی پڑوسی ملک اور اس کے اتحادی ملوث رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں افغانستان اور اس کے اداروں کی پاکستان میں مداخلت کا جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سالوں میں گرفتار کئے گئے ایک دہشت گردنے تحریک طالبان افغانستان کے بینر تلے افغانستان میں بم بنانے کی تربیت حاصل کی تھی ۔ غازی فورس کے نام سے اس گروہ کو سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ لانڈھی کے رہائشی اور مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردینے بھی تحریک طالبان کے تحت افغانستان میں مولوی آغا جان گروپ میں رہ کر دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ۔ گرفتار کئے گئے ایم پی آر کالونی اورنگی ٹاوَن اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے رہائشی چار دہشت گردوں نے بھی افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت لینے کا اعتراف کیا ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشت گردی کی تربیت گاہ بنے ہوئے ہیں اور افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہورہی ہے ۔ اس صورتحال میں افغان حکومت کودوسروں پر بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے جس میں پہلی ترجیح اپنے ملک کو بھارت جیسے دہشت گرد ملک کے دباءو اور اثر سے آزاد کرانا ہونی چاہئے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے خلاف امریکی میڈیا بھی بول پڑا ۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس امریکی سی آئی اے کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ یوں امریکی میڈیا نے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا کچا چٹھا کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا ۔ جریدے کے مطابق این ڈی ایس انتہائی خطرناک اور ظالم ایجنسی ہے جو مخالفین کے خلاف کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ این ڈی ایس نے افغانستان کو پولیس اسٹیٹ میں بدل دیا ہے ۔ این ڈی ایس افغانستان میں موجود اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے اغوا اور انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی مذموم کارروائیوں اور کابل میں پاکستانی سفارتکاروں کوہراساں کرنے کے علاوہ پاکستان میں تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان سے دہشتگرد بھیجنے میں بھی ملوث رہی ہے ۔ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا اور وہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جاتا خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہوا دینے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے جس کے ناقابل تردید شواہد پاکستان امریکا کو بھی پیش کر چکا ہے مگر اس کی خاموشی اس امر پر دلالت کرتی کہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں اس نے بھارت کو فری ہینڈ دے رکھا ہے جب کہ بڑی ہوشیاری سے وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان پر ڈومور کے ذریعے دباوَ ڈالتا رہتا ہے اس طرح عالمی دنیا کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں پاکستان کا کردار ہے ۔