- الإعلانات -

وزیراعظم کا اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے بارے دوٹوک موقف

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جتنابھی مشکل وقت آجائے وہ کسی صورت عوام کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، ان کی سیاسی جدوجہدکی منزل مقصود ہی عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہے ، جمہوریت کابھی یہی حسن ہے کہ جمہورکے مسائل اُن کی دہلیز پرحل کئے جائیں ۔ یوں تو اس وقت بہت سارے مسائل گھمبیرصورتحال میں حکومت کو درپیش ہیں ان کے ان خراب حالات کی ذمہ دار صرف حکومت ہی نہیں ان کی تاریخ ماضی سے جڑی ہوئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدارسنبھالاتوخزانے کے برے حالات کے ساتھ ساتھ دیگرمسائل بھی ساتھ ملے،دوسال تک حکومت ان حالات سے نبردآزمارہی اور آج اس بنیاد پرپہنچی ہے کہ کسی نہ کسی صورت انہیں حل کیاجاسکے تاہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت پرعزم ہے اس کے لئے مزیداقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ادھردوسری جانب وزیراعظم نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے دوٹوک انداز میں واضح کردیاہے کہ کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیاجائے گا جب تک کہ فلسطین کامسئلہ حل نہیں ہوجاتا اسرائیل کوتسلیم کرنے کامقصد یہ ہے کہ پھرہم مسئلہ کشمیرسے بھی دستبردارہوجائیں کچھ عرصہ قبل یہ افواہیں سرگرم تھیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہاہے لیکن وزیراعظم نے ان افواہوں کو قطعی طورپرمستردکردیاہے انہوں نے کہاکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں ایسا کیوں کرسکتاہوں ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے شوگرمافیا کے حوالے بھی کہاہے کہ باقاعدہ اس مافیاکی جانب سے دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم کسان سے گنانہیں خریدیں گے ۔ یہاں ہم یہ بات ضرور کہیں گے کہ عمران خان اس وقت وزیراعظم ہیں ان کے پاس اختیارات ہیں وہ شوگرمافیا کے ہاتھوں کیونکربلیک میل ہوئے انہیں چاہیے تھا کہ وہ ایکشن لیتے اور ان کے گھناءونے چہرے سامنے لیکرآتے کسان ایک مرتبہ ہی نقصان اٹھاتا لیکن ہمیشہ کے لئے ان لوگوں سے جان چھوٹ جاتی، تاہم وزیراعظم عمران خان کے عزائم پرکوئی شک نہیں کیاجاسکتا وہ کرپشن کوختم کرنے کے خواہاں ہیں جہاں کہیں حکومت سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ اسے تسلیم کرتے ہوئے نظرآتے ہیں لیکن اب کپتان کویہ مشورہ ضرور دیں گے کہ اپنی ٹیم پرلازمی توجہ دیں گوکہ آج ان کی ٹیم دوسال کی اونچ نیچ سے کافی حد تک سیکھ چکی ہے لیکن ابھی بھی کچھ ایسے لوگ حکومتی ٹیم میں شامل ہیں جو محض زبان کی چاشنی کی خاطر بیانات داغ کرحکومت کو نقصان پہنچارہے ہیں ، کپتان کی پالیسیاں اوراقدامات شفاف ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پرعمل کیاجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس ملک سے کرپشن ختم ہو ،صاف ستھری سیاست کی بنیادکریں لیکن اس حوالے سے کپتان کے ساتھ دائیں بائیں سے تعاون کافقدان ہے انہوں نے انٹرویوکے دوران مزید کہاکہ میری پوری زندگی جدوجہد میں گزری ۔ 9 سال کا تھا جب سے جدوجہد کر رہا ہوں ۔ ہسپتال بنایا لیکن سیاست بڑی جدوجہد تھی ۔ دو پارٹی سسٹم کے بعد تحریک انصاف بنائی ۔ جب کوشش کرتے ہیں تو اونچ نیچ سے خوف نہیں ;200;تا ۔ اصغر خان سمیت کئی لوگوں نے پارٹی بنائی ۔ اقتدار سنبھالا تو معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی ۔ ادارے تباہ ہو چکے تھے ۔ دو سال میں سمجھا کہ کس طرح کے چیلنجز تھے ۔ ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ جن کو جدوجہد کرنا نہیں ;200;تی وہ گھبرا جاتے ہیں ۔ ;200;ٹھویں ، نویں کلاس میں حضرت محمدﷺ کی زندگی کے بارے میں پڑھایا جائے گا ۔ مدینہ کی ریاست منفرد ریاست تھی ۔ سب کیلئے قانون برابر تھا ۔ ہم نے ترقی کرنی ہے تو غریب طبقے کو اوپر اٹھانا ہوگا ۔ پاکستان میں چھوٹے سے طبقے کیلئے مراعات ہیں ۔ پاکستان میں چھوٹا سا طبقہ ٹیکس نہیں دیتا ۔ شوگر کمیشن رپورٹ میں سامنے ;200;یا کہ شوگر کارٹل بنا ہوا ہے ۔ چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ۔ تعمیراتی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ چھوٹے کاروبار کرنے والوں کیلئے رکاوٹیں ہیں ۔ طاقتور دیگر سارے کام کرا لیتا ہے ۔ ایلیٹ کلاس خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے ۔ نیب جب ایلیٹ کلاس کو بلاتا ہے تو کہتے ہیں ملک تباہ ہو گیا ۔ ایلیٹ کلاس دو سال سے حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اشرافیہ حکومت گرانے کیلئے اکٹھی ہو گئی ہے ۔ پاکستان میں اشرافیہ کو قانون کے دائرے کار میں لانے کیلئے اقدامات کئے تو انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی ہے ۔ جب حکومت سنبھالی تو ایک سمت میں توجہ دینا ناممکن تھا کیونکہ تمام ادارے بحران سے دو چار تھے ۔ سمال انڈسٹری متعدد چینلجز سے دو چار ہیں جو دراصل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں ۔ جبکہ بڑے صنعتکار اپنے اثرورسوخ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں ۔ سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ۔ چین نے بھی ہر اچھے برے وقت میں ساتھ دیا ۔ ہمارا مستقبل چین سے جڑا ہے ۔

حکومت کی دوسالہ کارکردگی کی رپورٹ جاری

تحریک انصاف کی حکومت نے 2 سال مکمل ہونے پر کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کو ختم کرکے درست اور غلط کی سیاست شروع کی ہے ۔ سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا قیام ہے ۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی بھارت کی پالیسی کو ناکام بنایا ۔ کشمیر کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا پاکستان، اسے عمران خان کی حکومت میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا گیا ۔ ایک سال میں 3 مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث لانا ہماری بڑی کامیابی ہے ۔ دو سال قبل ہ میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اور معیشت کی بہتری ہماری اولین ترجیح تھی ۔ حکومت کی کوشش تھی دیہاڑی دار اور مستحق افراد کوریلیف دیا جائے ۔ دو سال میں 28 قوانین بنائے گئے جبکہ39 صدارتی ;200;رڈیننس جاری ہوئے ۔ وزیراعظم ;200;فس سے کوئی ریڈ لیٹر وزارت کو موصول نہیں ہوا ۔ وزارت قانون نے وفاقی حکومت سے متعلقہ9ہزار 450 مقدمات کی مختلف عدالتوں میں پیروی کی، 814سپریم کورٹ، 6 ہزار 79 ہائیکورٹس اور دیگر کیسز دوسری عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ وزیراعظم نے 2سال میں بالاکوٹ، بھارت، کرونا اورکمزور معیشت جیسے چیلنجز کا سامنا کیا ۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت 70لاکھ مستحقین کو ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے ۔ بلاسود قرضے دینے کا منصوبہ متعارف کرایا گیا ۔ احساس لنگر خانوں پرتوجہ دی گئی ۔ وفاقی وزراء نے حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا کے حوالے سے مسلمان ملکوں میں انڈرسٹینڈنگ کی کوشش کی ہے ۔ دنیا نے افغانستان کا فوجی حل تلاش کرنے کےلئے کھربوں ڈالر خرچ کر ڈالے، ساری دنیا نے ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کیا ہے اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی معترف ہے ۔ حکومت ;200;ئی تو کمزور معیشت کو سہارا دیا اور مشکل حالات میں بڑے فیصلے کیے، ہ میں ماضی کے قرضوں کا بوجھ بھی ہلکا کرنا پڑا ۔ اس موڑ تک پہنچ گئے جہاں سے ہمارا اچھا وقت شروع ہوگیا ہے ۔ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے جس کے ساتھ ہمارے سٹرٹیجک شراکت داری رہی ہے، ہ میں دیکھنا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کس طرح کیا جائے، اس کی ایک زندہ مثال سی پیک ٹو ہے، حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے کےلئے مراعات دیں ، اڑھائی سو ارب روپے کرونا متاثرین میں تقسیم کئے گئے، ملک سے سمگل شدہ فون ختم کیے گئے، دو سال میں سیمنٹ کی سیل 41فیصد بڑھی ہے، حکومت نے امپورٹ کو کم اور ایکسپورٹ پر زیادہ توجہ دی، دو سال قبل مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اور معیشت کی بہتری اولین ترجیح تھی ۔ حکومت کی کوشش تھی دیہاڑی دار اور مستحق افراد کو ریلیف دیا جائے، بل گیٹس نے پاکستان اور بھارت کا کرونا کیسز سے متعلق موازنہ کیا ۔ کرونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی حکمت عملی کی تعریف کی گئی ۔ کورونا بحران کے دوران ملک اور قوم کےلئے ضروری اقدامات کےلئے وزیراعظم جس طرح صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کو ساتھ لے کر چلے اس کی بھی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ حکومت نے مشکل وقت میں کامیابی حاصل کی ۔ وزرا نے حکومت کے 2 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ حقیقت میں ایک ایسے ماحول میں جب کرپشن کا ناسور ہر سطح پر پھیل چکا تھا اور اداروں کو مفلوج کیا جا چکا تھا وہاں عمران خان قوم کےلئے امید کی ایک کرن بن کر ابھرے ہیں اور ملک میں صاف شفاف حکومت قائم کی ہے اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا ۔