- الإعلانات -

نئے پاکستان میں نوجوانوں کا کرداراہمیت کاحامل ہے

بلاشبہ کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت نوجوان نسل میں مضمر ہے ۔ دنیا میں وہی قو میں ترقی کر رہی ہیں ، جن کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہیں ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے ،جس کی سب سے زیادہ ;200;بادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ پاکستانی نوجوانوں میں قابلیت اور ذہانت کی کمی نہیں ،اسی لئے بہت سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے ہیں ۔ نئے پاکستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے، کسی بھی ملک کی ترقی میں نوجوان کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ نوجوانوں پر سرمایہ کاری حکومت کی ترجیحات میں ہے، پاکستانی نوجوان بے پناہ صلاحیتوں اور ذہانت سے مالا مال ہیں ، نوجوانوں کو با اختیار بنا کر نئے پاکستان کے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کواوپر اٹھانے کیلئے نوجوانوں کو اسٹیک ہولڈر بنانا ہو گا، کامیاب جوان پروگرام کی خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں ، رقم کی تقسیم کا عمل مزید تیز اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے، کورونا وائرس کی وبا کے ملکی معیشت پر منفی اثرات ختم کرنے کیلئے یہ پروگرام بہت ضروری ہے ۔ وزیراعظم معاون خصوصی عثمان ڈار اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے گفتگو کررہے تھے ۔ چند دنوں میں 30 ہزار سے زائد نوجوانوں نے رقم کے حصول کیلئے درخواستیں دی ہیں ۔ مزید 53ارب روپے سے زائد رقم کے حصول کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو ہر وہ سہولت دیں گے جس سے وہ روزگار کے مواقع حاصل کریں ۔ پروگرام کے دوران رقم کی تقسیم کے عمل پر مکمل نظر رکھیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ شفافیت اور میرٹ پر کسی سطح پر بھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ وزیراعظم نے پروگرام میں پیش رفت پر ماہانہ بریفنگ لینے کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے معاون خصوصی عثمان ڈار کو ہر ماہ بعد جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے پروگرام میں اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ نیزوزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اعلی سطحی جائزہ اجلاس ۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک میں سیاحت کے فروغ اور اس حوالے سے بین الصوبائی روابط اور کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کےلئے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ این سی سی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں ، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں ٹورازم اتھارٹی کے قیام کے عمل کو جلداز جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے، سیاحتی مقامات پر ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے فوری طور پر مہم کے آغاز، سیاحتی مقامات کے حوالے سے جامع اور مفصل ویسٹ مینجمنٹ پلان کی تشکیل، نجی شعبے کے تعاون سے سیاحتی مقامات پر معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کےلئے جامع منصوبہ بندی اور اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ۔ ملک میں سیاحت کا بے انتہا پوٹینشل موجود ہے ۔ ہمارا مقصد ملک کے طول و ارض میں پھیلے سیاحتی مقامات کو اس انداز میں ترقی دینا ہے کہ وہ ہماری تہذیب اور ہماری سماجی اقدار کی عکاسی کریں اور سیاحوں کےلئے سیاحت کی معیاری سہولیات میسر آئیں ۔ مقامی آبادیوں کےلئے نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ سیاحتی مقامات کے فروغ اور تعمیرو ترقی کےلئے حکمت عملی و منصوبہ بندی کا فوری طور پرآغاز کیا جائے ۔ وزیرِ اعظم نے سرکاری ملکیتی عمارات جن میں تاریخی عمارات ، گورنر ہاءوسز ، گیسٹ ہاءوسز وغیرہ شامل ہیں کو مثبت انداز میں بروئے کار لانے کےلئے بھی اٹھائے جانےوالے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نہ صرف ان عمارات کی عوام کےلئے دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ سیاحت نہ صرف سیرو تفریح اور صحت افزائی کےلئے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی ;200;بادی اور اس ملک کے اقتصاد کو تقویت ملتی ہے ۔ لوگوں کو کام کے مواقع فراہم ہوتے ہیں ۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے میں راءج ہوجاتی ہیں ۔

کراچی کے مسائل پر سیاسی ہم آہنگی خوش آئند

کراچی والوں کے مسئلے حل کر نے کےلئے عمران خان کی وفاقی حکومت اور بلاول کی سندھ حکومت نے امید کی کرن دکھادی، ساتھ مل کر کام کرنے کی ٹھان لی ۔ کراچی والوں کو گھروں پر صاف پانی ملے گا، ٹینکرمافیا سے نجات ملے گی،گٹر کے گندے پانی سے جان چھوٹ جائے گی، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگایا جائے گا،نالوں کو صاف کیا جائے گا،بارشوں کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا نہیں ہوگا،لوکل ٹرین کا پہیہ چلے گا اور ائیر کنڈیشنڈ بسیں سڑکوں پر دوڑیں گی ۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر بلدیات ناصر شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی اور امین الحق پر مشتمل کمیٹی بھی بن گئی جو سب کاموں پر نظر رکھے گی ۔ سندھ میں وفاقی حکومت کے پروجیکٹس سے متعلق رابطوں کےلئے وفاقی اور صوبائی نمائندوں کی رابطہ کمیٹی قائم کردی گئی ۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور کمیٹی کے رکن اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت پہلے بھی کام کرتی رہی اور آگے بھی کرے گی ۔ ہمارے نظام میں مختلف حکومتی اداروں کے اپنے اپنے اختیارات ہیں ، ضروری ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں مل کر آپس میں کام کریں ،بارشوں کی صورتحال پیداہوئی تووزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو کراچی بھیجا تاکہ مشکلات کا حل نکالا جائے ۔ پاکستان کی معیشت کو اچھا کرنے کےلئے کراچی کی مشکلات حل کرنا ہونگی ، کراچی کے 6 مسئلوں پر ملکر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کراچی کی بہتری کیلئے ہونے والا یہ معاہدہ احتسابی عمل میں بالکل اثر انداز نہیں ہوگا، سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہرکی حالت دیکھ کرافسوس ہوتا ہے ۔ منصوبوں کی لیڈ، فنانس ریسورس، قانونی تبدیلیوں کو 2 ہفتوں کے اندر حل کیا جائے گا، سندھ میں پی ایم ڈی سی کی لیڈ لے کر کام کرنا شروع کر دیں گے ۔ اگلے دو ہفتوں میں واضح حکمت عملی سامنے آجائے گی ۔ بےشک سیاسی تحفظات ہیں لیکن اس کا احتسابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ، سوال نہیں پیدا ہوتا کہ احتسابی عمل پر سمجھوتہ کیا جائے کیونکہ وزیراعظم کاواضح نظریہ ہے، ساتھ مل کرعوام کی بہتری کےلئے ہم کام کرتے رہیں گے ۔

اسرائیل کوفلسطینیوں کاحق دیناہوگا

سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین مکمل طور پر تعلقات قائم کرنے اور ایک دوسرے کے ملک میں سفارتخانوں کے قیام کے حوالے سے معاہدہ کے مثبت اثرات ہو سکتے ہیں ۔ سعودی عرب اس شرط پر ایسے ہی تعلقات قائم کر سکتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں میں بھی ایک امن معاہدہ ہو جائے ۔ وہ جرمن وزیر خارجہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کر رہے تھے ۔ پرنس فیصل نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اسکے دارالحکومت کے طور پر شامل ہو گا ۔ اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیاں ہی امن میں رکاوٹ ہیں ۔ سعودی عرب امن معاہدے کی بنیاد پر ہونےوالے عرب امن کیلئے پرعزم ہے ۔ اسرائیل کا یکطرفہ رویہ امن امکانات کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ امن فلسطینیوں کے ساتھ عالمی معاہدوں کے تحت ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ایک بار امن قائم ہو جائے پھر سب کچھ ممکن ہے ۔ ادھرفلسطینی ریاست نے اسرائیل سے متعلق سخت ردعمل دینے اور فلسطینی مقاصد کی حمایت کرنے پر وزیر اعظم عمران سے اظہار تشکر کیا ہے ۔ اسلام آباد میں فلسطین کے سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں بھی فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر اور پاکستانیوں کا اپنا عزیز بھائی سمجھتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ دنیا کے ہر فورم پر فلسطین کی حمایت کی ۔ واضح رہے کہ عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا تھا کہ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا ۔