- الإعلانات -

بھارت میں پاکستانی ہندوءوں کا قتل

بھارتی شہر جودھ پور کے گاءوں اچلادتہ میں گےارہ پاکستانی ہندوءوں کی لاشےں ملی ہیں ۔ پاکستانی ہندو خاندان کو قتل کیا گےاہے ےا وہ حالات سے دلبرداشتہ ہوکر اجتماعی خودکشی پر مجبور ہوگئے تھے ۔ مرنے والوں میں چھ بالغ اورپانچ بچے ہیں ۔ اس دلخراش حادثے پر سب پاکستانی افسردہ اور سراپا احتجاج ہےں ۔ وطن عزےز پاکستان سے 2012ء میں ;34;تھرپارکر ;34;کے بھیل برادری کے ہندو کے خاندان نے بھارت ہجرت کی تھی ۔ ہندو کے اس خاندان نے جودھ پور کے علاقے ڈےچو کے گاءوں لوڈتہ میں سکونت اختےار کی ۔ ےہ لوگ گاءوں اچلادتہ میں کھےتی باڑی کرتے تھے ۔ ان لوگوں کو بہتر زےست بسر کرنے کےلئے بھارت بلاےا گےا تھا ےعنی ان کو سبز باغ دکھاےا گےا تھا ۔ اس ہندو خاندان نے فاشٹ مودی حکومت کے فرےب میں آکر بھارت ہجرت کی لیکن وہاں آٹھ نو برس گزارنے کے باوجود ان کو شہرےت نہیں دی گئی ۔ اسی طرح درجنوں ہندوافراد پاکستان چھوڑ کر مستقل طور پر بھارت چلے گئے ہیں لیکن اب وہ وہاں کسمپرسی کی زےست بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ پاکستان سے کوئی پرندہ بھی بھارت جائے تو اس کو بھی مشکوک نظر سے دےکھا جاتا ہے اور اس کی شامت آجاتی ہے ۔ پاکستان سے جن ہندو خاندانوں نے بھارت ہجرت کی،ان پر کڑی نظرےں رکھی جاتی ہیں اور ان کی حرکات وسکنات کو نوٹ کیا جاتا ہے ۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک عام معمول ہے اور اب پاکستانی ہندو بھی ان کی شر سے محفوظ نہیں ہیں ۔ بھارتی گاءوں اچلادتہ میں گےارہ پاکستانی ہندوافراد کی ہلاکت قابل مذمت ہے ۔ اقوام متحدہ اور دےگر ادارے اس وقوعہ کی غےر جانبدارانہ تحقےقات کرےں ۔ مودی سرکار کے دور میں بھارت میں اقلےتوں سمےت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اور اب ہندوءوں کوبھی قتل کیا جارہا ہے ۔ پاکستان میں سب شہرےوں کے حقوق ہیں کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آےا ۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ ;34; دےن میں کوئی جبر نہیں ، بے شک ہداےت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہوچکی ہے ۔ سو جو کوئی معبود ان باطل کا انکار کردے اور اللہ پر اےمان لے آئے تو اس نے اےک مضبوط حلقہ تمام لیا جس کےلئے ٹوٹنا ممکن نہیں اور اللہ خوب جاننے والا ہے ۔ سورۃ الکافرون میں فرماتے ہیں کہ;34; سو تمہارا دےن تمہارے لیے اور مےرا دےن مےرے لیے ہے ۔ ;34; نبی کرےم ﷺ نے فرماےا کہ ;34;خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا ےا اس کا حق غصب کیا ےا اس کو اس کی استطاعت سے زےادہ تکلیف دی ےا اس کی رضا کے بغےر اس سے کوئی چےز لی تو بروز قےامت میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا ۔ ;34; اسی طرح نبی کرےم ﷺ نے اےک اور مقام پر فرماےاکہ;34; جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا ،وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ;34; اےک دفعہ نجران کے عےسائےوں کا چودہ رکنی وفد مدےنہ منورہ آےا ۔ آپﷺ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور اس وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت بھی دی ۔ اسلام میں اقلیتوں کو عبادت اورتجارت سمےت مکمل آزادی دی گئی ہے ۔ اسلام میں رےاست اقلیتوں کے تحفظ اور سلامتی کی ذمہ دار ہے ۔ اقلےتےں اپنی قومی اور تہذیبی رواےات کے مطابق زندگی بسر کرسکتی ہیں ۔ پاکستان میں لوگوں نے اسلام آباد میں مندر کی تعمےر کی مخالفت اس لئے کی کہ (الف) اسلام آباد میں پہلے سے نو مندر موجود ہیں ۔ ( ب) حکومتی اخراجات سے مندر ےا عبادت گاہ کی تعمےر درست نہیں ہے ۔ (ج)اسلام بت خانے تعمےر کی اجازت نہیں دےتا ۔ 1998ء میں پاکستان میں ہندوءوں کی کل 2443614 جبکہ2017ء میں 3885000 تھی جوکہ پاکستانی آبادی کے 1;46;85 فیصد ہیں ۔ ہندو کونسل کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہندوءوں کی آبادی تقرےباً 80 لاکھ ہے ۔ پاکستان میں ہندوءوں کی آبادی تھوڑی ےا زےادہ کا معاملہ نہیں ہے ۔ پاکستان میں ہندوءوں سمےت تمام شہریوں کو بنےادی حقوق حاصل ہیں ۔ پاکستان اور بھارت قدرتی نعمتوں سے مالامال ملک ہیں لیکن بھارت کی شرانگےزےوں کی وجہ سے جنوبی اےشےا کے سبھی ممالک پرےشان ہیں ۔ بھارت کو پاکستان ، چےن اور دےگر پڑوسےوں کےساتھ سرحدی چھےڑچھاڑ کرکے منہ کی کھانی پڑتی ہے اورعالم میں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔ بھارت میں آراےس اےس نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا جےنا دوبھر کیا ہوا ہے ۔ مسلمانوں پر حملے معمول بن چکے ہےں ۔ آر اےس اےس کو موجودہ حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے ۔ بھارت میں آر اےس اےس مسلمانوں سمےت سبھی اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوءوں پر ظلم وستم کررہی ہے ۔ بھارت کی بدنام زمانہ اےجنسی ;34;را;34;افغانستان اوربلوچستان میں تخرےبی کارروائےوں سے باز نہیں آرہی ہے ۔ ہماری قابل فخر اےجنسی آئی اےس آئی نے بلوچستان میں بھارتی جاسوس گلبھوشن ےادےو کو دبوچ لیا تھا ۔ حال ہی میں آئی اےس آئی نے را اور موساد کے مشترکہ سائبر حملے کو ناکام کیا ۔ اسی طرح افغانستان میں ان کی کارروائےاں ناکام کیے جارہے ہیں ۔ افغانستان کے عام شہرےوں کو را اور موساد کے کرتوتوں کا علم ہوچکا ہے اوراب افغانستان کے باسیوں کو سمجھ آگئی ہے کہ افغانستان کے امن وترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ را اور موساد ہے ۔ بھارتی حکمرانوں کی نالائقی اور منفی سوچ کی وجہ سے اسرائےل ان کا کندھا استعمال کر رہا ہے اور جنوبی اےشےا کے امن کو تاراج رہا ہے ۔ علاوہ ازےں تارےخ گواہ ہے کہ برصغےر پاک و ہند کبھی اےک ملک نہیں رہا ۔ دنےا کے اس خطے میں مختلف ادوار میں چھوٹی بڑی رےاستیں رہی ہیں ۔ اس خطے میں سب سے بڑی رےاست مسلمانوں کی رہی ۔ بھارت میں آر اےس اےس کے پیروکاروں کو اکھنڈ بھارت کی ترغےب دی جارہی ہے جبکہ اکھنڈ بھارت قےامت تک ناممکن ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آر اےس اےس سمےت تمام بھارتی دہشت گرد تنظےموں اور موجودہ حکومت کواپنے خیالات میں مثبت تبدےلی لانی چاہیے اور اپنی انرجی کو منفی سرگرمیوں پر صرف نہیں کرنا چاہیے ۔ پاکستان سمےت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ استوار تعلقات قائم کرےں ۔ مقبوضہ کشمےرپر غاضبانہ قبضہ ختم کرےں اور ان کو جےنے کا حق دےں ۔ بہتر تعلقات سے نہ صرف پاکستان بلکہ اس خطے کے تمام ممالک ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرلیں گے ۔ جنوبی اےشےا کا خطہ امن کا گواراہ بن جائے گا ۔ جنوبی اےشےا کے متعدد علاقہ جات میں شہرےوں کو بنےادی سہولےات مےسر نہیں ہیں ۔ بہترےن تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی کمی ہے ۔ پانی، بجلی اور سڑکوں جےسے مسائل ہیں ۔ جس معاشرے میں آشتی ہو ،وہاں مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے، جہاں مثبت سوچ کے مالک افراد بستے ہیں ،وہاں دکھ کم اور سکھ زےادہ ہوتے ہیں ۔ بھارتی دانشواروں کو چاہیے کہ وہ موجودہ بھارتی حکمرانوں کو سمجھائےں کہ عقل کے ناخن لیں ، 73سالوں سے جنگی ماحول بنا کر رکھا ہے ۔ اپنے غرےب شہرےوں کا پیٹ کاٹ کر اسلحہ خرےدرہے ہو اور اپنا قےمتی زرمبادلہ ضائع کررہے ہو ۔ ےہی رقم لوگوں کی بہتر سہولےات پر خرچ کرےں ۔ پاکستان اےک پرامن ملک ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرےں ۔ پاکستان کے ساتھ تجارت کرےں ۔ پاکستان کے ساتھ کھےلوں کے مقابلہ جات کراےا کرےں ۔ پاکستان اور بھارت اےک دوسرے کی معلومات اور تجربات سے فائدہ اٹھائےں ۔ واضح ہو کہ پاکستان امن اور تجارت چاہتا ہے ۔ پاکستان کشمےر کی آزادی چاہتا ہے ۔ پاکستانی حکمرانوں نے اخلاص سے متعدد بار ہاتھ ملانے کی کوشش کی لیکن ہر بار بھارت نے ڈسنے کی سعی کی ۔ ;34; تُو لاکھ پےار ے کے پڑھتا رہا منتر ساجد جن کی فطرت میں ڈسنا ،وہ ڈسا کرتے ہیں ۔ ;34;بھارت اس پالیسی کی وجہ سے ناکام اور دنےا میں تنہا ہے ۔ لہٰذا بھارت کو اپنی سوچ اورپالیسی تبدےل کرنی چاہیے اور ٹےبل ٹاک کے ذرےعے معاملات حل کرنے چاہئیں ۔ قارئےن کرام! بھارتی شہر جودھ پورکے گاءوں اچلادتہ میں گےارہ پاکستانی ہندوءوں کا قتل افسوسناک ہے ۔ اقوام متحدہ سمےت دےگر اداروں کو اس کی غےر جانبدارانہ تحقےقات کرنی چاہیے ۔ پاکستانی ہندو پاکستان کے شہری ہیں ۔ پاکستان ان کا ملک ہے ۔ پاکستانی ہندو کسی کے فرےب میں آکر ملک نہ چھوڑےں کیونکہ بعد میں پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ پاکستان زندہ باد